جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی
عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَبِي حَفْصٍ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: "إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِکُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَنْکِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ"۔
[رواہ البخاری ومسلم]امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی، تو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کے لیے ہے، اور جس کی ہجرت دنیا (کے فائدے) حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کے لیے وہ ہجرت کر رہا ہے"۔ [بخاری و مسلم]