Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 2

اسلام، ایمان، احسان اور قیامت کی نشانیاں

عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَال : بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ذَاتَ يَوْمٍ إَذْ طَلَعَ عَلَيْناَ رَجُلٌ شَدِيْدُ بَيَاضِ الثّياب شَدِيْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لاَ يُرَى عَلَيهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلاَ يَعْرِفُهُ مِنا أحَدٌ حَتى جَلَسَ إلَى النبِي فَأَسْنَدَ رُکْبَتَيْهِ إلَى رُکْبَتَيْهِ وَوَضَعَ کَفيْهِ عَلَى فَخِذِيْهِ وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الإِسْلاَم ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : " الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لاَ إلَه إلاَّ اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدَاً رَسُولُ...

[رَوَاهُ مُسْلِمٌ]

ترجمہ:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ہمارے سامنے ایک شخص آیا، جس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت سیاہ تھے، اس پر سفر کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہ تھا۔ یہاں تک کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گیا، اپنے گھٹنوں کو آپ کے گھٹنوں سے ملا دیا اور اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ دیے، پھر کہا: اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر تم استطاعت رکھتے ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ ہمیں تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کر رہا ہے اور پھر خود ہی تصدیق بھی کر رہا ہے۔

اس نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کی رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ، اور تقدیر پر ایمان لاؤ خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ اس نے کہا: مجھے احسان کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس نے کہا: پھر اس کی نشانیوں کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ لونڈی اپنی مالک کو جنم دے، اور یہ کہ تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن, محتاج چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔ پھر وہ چلا گیا۔ میں کچھ دیر ٹھہرا رہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! کیا تم جانتے ہو سوال کرنے والا کون تھا؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل تھے، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ [مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دین کے تین بنیادی درجات (اسلام، ایمان، احسان):
    دین صرف ظاہری عبادات تک محدود نہیں بلکہ اس کے تین اہم درجات ہیں:
    اسلام (ظاہری اعمال): یہ دین کی عملی عمارت ہے، جس میں کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسی عبادات شامل ہیں۔
    ایمان (باطنی عقائد): یہ دین کی بنیاد ہے۔ اس میں اللہ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت اور تقدیر (خیر و شر کے اللہ کی طرف سے ہونے) پر کامل یقین شامل ہے۔ (جب اسلام اور ایمان کا ایک ساتھ ذکر ہو تو اسلام سے مراد ظاہری اعمال اور ایمان سے مراد باطنی عقائد ہوتے ہیں)۔
    احسان (عبادت کا اعلیٰ مقام): یہ اللہ کی بندگی کا سب سے اونچا درجہ ہے، یعنی عبادت اس خلوص سے کی جائے گویا آپ اللہ کو دیکھ رہے ہیں (درجہ مشاہدہ)، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو یہ کامل یقین ہو کہ اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے (درجہ مراقبہ)۔
  • ۲
    علم حاصل کرنے کے آداب اور اساتذہ کے لیے رہنمائی:
    سوال و جواب کا طریقہ: علم سکھانے کے لیے سوال و جواب بہترین طریقہ ہے۔ سوال کرنا علم کی کنجی ہے؛ تکبر کرنے والا کبھی علم نہیں سیکھ سکتا‌۔
    مجلسِ علم کے آداب: استاد کے سامنے ادب سے بیٹھنا، صاف ستھرے کپڑے پہننا (جو کہ تکبر نہیں)، اور مجلس میں پوری توجہ اور بیداری کے ساتھ بیٹھنا علم حاصل کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
    لا ادری (مجھے نہیں معلوم): جس بات کا علم نہ ہو اس پر صاف کہہ دینا کہ "مجھے نہیں معلوم"، انسان کے مرتبے کو کم نہیں کرتا۔ نیز، استاد کو چاہیے کہ وسیع سوال کا جواب اہم اور ضروری باتوں تک محدود رکھے۔
  • ۳
    علمِ غیب اور قیامت کی نشانیاں:
    علمِ غیب صرف اللہ کے پاس ہے: قیامت کب آئے گی، یہ قطعی علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنی تمام تر عظمت کے باوجود غیب کی اتنی ہی باتیں جانتے تھے جتنی اللہ نے انہیں بتائیں۔ آپ ﷺ کو عالم الغیب سمجھنا درست نہیں۔
    قیامت کی نشانیاں: معاشرتی اقدار کا الٹ جانا (جیسے لونڈی کا مالک کو جننا) اور غریب چرواہوں کا بڑی بڑی عمارتیں بنانا قیامت کی علامات میں سے ہے۔
  • ۴
    فرشتوں کا مقام اور اللہ کی رحمت:
    اللہ کی رحمت اور رہنمائی: یہ اللہ کی خاص رحمت ہے کہ وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے مختلف اسباب بناتا ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام کا انسانی شکل میں آنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کا دین سکھانے کا ایک ذریعہ تھا۔
    حضرت جبریل علیہ السلام کی فضیلت: اہل سنت والجماعت کے نزدیک وہ اللہ کے انتہائی معزز، طاقتور اور امین فرشتے ہیں جو وحی لانے، دین سکھانے اور مؤمنین کی مدد کے فرائض انجام دیتے ہیں۔