جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَال : بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ذَاتَ يَوْمٍ إَذْ طَلَعَ عَلَيْناَ رَجُلٌ شَدِيْدُ بَيَاضِ الثّياب شَدِيْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لاَ يُرَى عَلَيهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلاَ يَعْرِفُهُ مِنا أحَدٌ حَتى جَلَسَ إلَى النبِي فَأَسْنَدَ رُکْبَتَيْهِ إلَى رُکْبَتَيْهِ وَوَضَعَ کَفيْهِ عَلَى فَخِذِيْهِ وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الإِسْلاَم ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : " الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لاَ إلَه إلاَّ اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدَاً رَسُولُ...
[رَوَاهُ مُسْلِمٌ]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ہمارے سامنے ایک شخص آیا، جس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت سیاہ تھے، اس پر سفر کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہ تھا۔ یہاں تک کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گیا، اپنے گھٹنوں کو آپ کے گھٹنوں سے ملا دیا اور اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ دیے، پھر کہا: اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر تم استطاعت رکھتے ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ ہمیں تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کر رہا ہے اور پھر خود ہی تصدیق بھی کر رہا ہے۔
اس نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کی رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ، اور تقدیر پر ایمان لاؤ خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ اس نے کہا: مجھے احسان کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس نے کہا: پھر اس کی نشانیوں کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ لونڈی اپنی مالک کو جنم دے، اور یہ کہ تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن, محتاج چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔ پھر وہ چلا گیا۔ میں کچھ دیر ٹھہرا رہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! کیا تم جانتے ہو سوال کرنے والا کون تھا؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل تھے، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ [مسلم]