Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 3

اسلام کے پانچ بنیادی ارکان

عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ"۔

[رواہ البخاری ومسلم]

ترجمہ:

ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا"۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اسلام ایک عظیم الشان عمارت: اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اسلام کو ایک ایسی پختہ عمارت سے تشبیہ دی ہے جو پانچ مضبوط ستونوں پر کھڑی ہے۔ اگر یہ ستون گر جائیں تو پوری عمارت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
  • ۲
    توحید و رسالت سب سے پہلا رکن: کلمہ شہادت (توحید اور محمد ﷺ کی رسالت کا اقرار) اسلام کا بنیادی اور سب سے اہم ستون ہے۔ اس کے بغیر کوئی بھی انسان دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی عمل قبول ہوتا ہے۔
  • ۳
    نماز دین کا ستون: شہادتین کے بعد نماز کا مرتبہ سب سے بلند ہے۔ یہ مومن اور کافر کے درمیان فرق کرنے والی عبادت ہے، جسے کسی بھی حال میں (صحت یا بیماری) معاف نہیں کیا گیا۔
  • ۴
    مالی اور بدنی عبادات کا امتزاج: اسلام میں جہاں بدنی عبادات (نماز اور روزہ) ضروری ہیں، وہاں مالی عبادات (زکوٰۃ) بھی فرض کی گئی ہیں تاکہ معاشرے کے غریبوں اور مسکینوں کی کفالت ہو سکے۔
  • ۵
    حج اور روزہ کی اہمیت: رمضان کے روزے نفس کی پاکیزگی اور تقویٰ کا ذریعہ ہیں، جبکہ حج زندگی میں ایک بار صاحبِ استطاعت پر فرض کیا گیا ہے جو کہ مسلمانوں کے عالمی اتحاد اور بندگی کی بہترین مثال ہے۔
  • ۶
    راویِ حدیث کی فضیلت: اس حدیث کے راوی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، جو علم، تقویٰ اور سنتِ نبوی کی کامل پیروی میں صحابہ کرام میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔