جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا نُطْفَةً، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذٰلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذٰلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكِتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلٰهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا».
[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ (3208)، وَمُسْلِمٌ (2643)]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا، اور آپ سچے اور سچ بتائے گئے ہیں:
"تم میں سے ہر ایک کی تخلیق اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی صورت میں جمع کی جاتی ہے، پھر وہ اتنے ہی دنوں تک جما ہوا خون (علقہ) بنتا ہے، پھر اتنے ہی دنوں تک گوشت کا لوتھڑا (مضغہ) بنتا ہے، پھر اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونک دیتا ہے، اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے: اس کا رزق، اس کی عمر، اس کا عمل، اور یہ کہ وہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت۔
پس قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! تم میں سے کوئی شخص جنت والوں کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ جہنم والوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی شخص جہنم والوں کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ جنت والوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔" [بخاری و مسلم]