حدیث نمبر 5
بدعت کی ممانعت اور اتباعِ سنت کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ» متفق عليه۔ وفي رواية لمسلم: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ»۔
[صحيح البخاري: 2697، صحيح مسلم: 1718]
ترجمہ:
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی، جو اس کا حصہ نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہیں ہے“۔
ایک اور روایت (جو کہ امام مسلم کی ہے) میں ہے: ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا، جس کے متعلق ہمارا حکم نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہيں ہے“۔ [بخاری و مسلم]
فوائدِ حدیث:
-
۱
دین کی بنیاد اور اتباعِ رسول ﷺ:
• شریعت کی تکمیل: یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دینِ اسلام مکمل ہو چکا ہے، اب اس میں کسی بھی قسم کی کمی یا زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
• قرآن و حدیث کی پیروی: عبادات اور زندگی کے تمام شعبوں (معاملات) کی بنیاد صرف قرآن اور صحیح حدیث پر ہے، نہ کہ انسانی رائے یا پسند (استحسان) پر.
• مؤمن کا شیوہ: ایک سچے مؤمن کی پہچان اتباع (پیروی کرنا) ہے، نہ کہ ابتداع (دین میں نئی چیزیں نکالنا)۔
-
۲
بدعت کی تعریف اور ممانعت کا دائرہ:
• بدعت کیا ہے؟ دین کا حصہ سمجھ کر ایجاد کیا گیا ایسا نیا عقیدہ، قول یا عمل جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے دور میں موجود نہ ہو، بدعت کلاتا ہے۔
• دین اور دنیا کا فرق: ممانعت صرف ان نئی چیزوں کی ہے جن کا تعلق دین سے ہو۔ دنیوی شعبوں میں نئی ایجادات اس ممانعت میں نہیں آتیں۔
• بدعت بے بنیاد ہے: فرمانِ رسول [لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا] کے مطابق بدعت کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہوتی، اسی لیے ہر بدعت مردود (مسترد) ہے۔
-
۳
اعمال کی قبولیت کا معیار:
• میزانِ اعمال: یہ حدیث اعمال کو پرکھنے کا ترازو ہے۔ جس طرح اخلاص کے بغیر عمل کا ثواب نہیں ملتا، بالکل اسی طرح جو عمل سنتِ رسول ﷺ کے مطابق نہ ہو، وہ اللہ کے ہاں ناقابلِ قبول ہو کر رد کر دیا جاتا ہے۔
-
۴
علمِ دین کی اہمیت:
• بدعت کی جڑ: تمام بدعتوں اور گمراہیوں کی بنیادی وجہ شرعی دلائل سے جہالت اور لاعلمی ہے۔
• طلبِ علم کا تسلسل: انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم کی جستجو جاری رکھے تاکہ اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی صحیح معرفت حاصل ہو سکے اور وہ گمراہی سے بچ سکے۔
-
۵
نبی کریم ﷺ کی شفقت:
• امت سے خیر خواہی: رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے لیے انتہائی شفیق اور مہربان تھے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے امت کو ہر اس راستے سے پہلے ہی خبردار کر دیا جو ان کے اعمال کی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔