Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 6

حلال، حرام اور مشتبہ امور اور دل کی اصلاح کا بیان

عن النُّعمان بن بَشير رضي الله عنه قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ -وَأَهْوَى النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ-: «إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ فقد اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ، كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِکُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ»۔

[صحيح مسلم: 1599]

ترجمہ:

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا -اور نعمان نے اپنی انگلیوں سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا- : ”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ چنانچہ جو شخص شبہ والی چیزوں سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کرلیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا، وہ حرام میں پڑ جائےگا۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی محفوظ چراہ گاہ کے اردگرد جانور چراتا ہے۔ ایسے میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لے۔ سنو! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراہ گاہ ہوتی ہے (جس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی)۔ آگاہ رہو! اللہ کی چراگاہ اس کى حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ درست ہو جاتا ہے، تو سارا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ جان لو! وہ دل ہے۔“ [متفق علیہ]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حلال، حرام اور مشتبہ امور کا شرعی قاعده:
    شریعت کی صراحت: اسلامی شریعت مکمل اور واضح ہے۔ اس میں واضح حلال (جیسے عام پاکیزہ غذائیں) اور واضح حرام (جیسے چوری، زنا، شراب) بالکل عیاں ہیں۔ حلال سے فائدہ اٹھانے پر کوئی پابندی نہیں اور حرام سے بچنا فرضِ عین ہے۔
    مشتبہات سے پرہیز: مشتبہ چیزیں وہ ہیں جن کا حکم عام لوگوں پر واضح نہیں ہوتا۔ مکروہ اور شک والی چیزوں پر اصرار انسان کو بالآخر حرام تک لے جاتا ہے، لہٰذا ان سے بچنا لازمی ہے۔
    اللہ پر افتراء سے ممانعت: کسی بھی انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دے۔
  • ۲
    مشتبہ امور میں اللہ کی حکمت اور علمِ دین کا مقام:
    ایمان کی آزمائش: معاملات میں مشتبہ امور کا پایا جانا اللہ کی طرف سے ایک امتحان ہے، تاکہ سچے مؤمن (جو تقویٰ اختیار کرتا ہے) اور خواہش پرست کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔
    شریعت میں کوئی ابہام نہیں: شریعت میں درحقیقت کوئی چیز غیر واضح نہیں۔ مشتبہ صرف اس کے لیے ہے جو لاعلم ہے، جبکہ راسخ العلم علماء ہر چیز کا شرعی حکم جانتے ہیں۔
    علماء کا احترام: اس قاعدے سے یہ اصول بھی ملتا ہے کہ پیچیدہ مسائل میں اگر اہلِ علم سے کوئی چوک ہو جائے تو ان کے لیے عذر تلاش کرنا چاہیے نہ کہ طعن و تشنیع کرنا۔
  • ۳
    دین و آبرو کی حفاظت اور تقویٰ (ورع):
    دین کی اولیت: ایک سچا مسلمان مشتبہ چیزوں سے اس لیے بچتا ہے تاکہ اس کی عزت و آبرو محفوظ رہے اور لوگ عیب جوئی نہ کریں۔ تاہم، آبرو سے بھی بڑھ کر دین کی حفاظت کو ہمیشہ مقدم رکھا جاتا ہے۔
    تقویٰ کا اعلیٰ معیار: یہ حدیث ایک مومن کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ محض حرام ہی نہیں، بلکہ ہر اس شک والی چیز سے بھی بچ جائے جو اس کی آخرت کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔
  • ۴
    دل کی اصلاح: تمام اعمال کا دارومدار:
    اعضاء کا سردار: دل انسانی جسم کا بادشاہ ہے۔ اعمال کے نیک یا بد ہونے کا سارا دارومدار دل کی نیت اور اس کی پاکیزگی پر ہے۔ ظاہری اچھائی یا برائی دراصل باطنی حالت ہی کا عکس ہوتی ہے۔
    حلال رزق اور دل کی نرمی: خالص حلال رزق انسان کے ایمان کو جِلا بخشتا اور دل کو نرم کرتا ہے۔ شبہات کی طرف میلان دراصل دل کے بیمار ہونے کی علامت ہے۔
    دل کی روحانی بیماریاں اور علاج: جسمانی صحت سے زیادہ دل کی روحانی صحت اہم ہے۔ اسے کفر، حسد، کینہ، تکبر اور نفاق سے پاک رکھنا ضروری ہے۔ کثرتِ استغفار اور ذکرِ الہٰی سے دل کی سختی نرمی میں اور بیماری شفا میں بدل جاتی ہے۔
  • ۵
    حدود اللہ اور نبی ﷺ کا کمالِ طریقۂ تعلیم:
    اللہ کی حدود: ہر بادشاہ کی طرح ملک الملوک (اللہ تعالیٰ) کی بھی کچھ حدود (حرام کردہ اشیاء) ہیں، جن کے قریب پھٹکنے سے بھی سختی سے منع کیا گیا ہے۔
    تمثیل کے ذریعے تعلیم: نبی کریم ﷺ نے دعوت و تبلیغ کے میدان میں بہترین حکمتِ عملی سکھائی۔ آپ ﷺ نے "چراگاہ، مویشی اور چرواہے" کی روزمرہ کی بہترین مثال دے کر ایک پیچیدہ اور حساس شرعی مسئلے کو عوام کے لیے نہایت واضح اور عام فہم بنا دیا۔