حدیث نمبر 10
پاکیزہ رزق کی اہمیت اور قبولیتِ دعا کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا﴾، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رزَقْنَاكُمْ﴾، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ، أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ! يَا رَبِّ! وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟»۔
[رَوَاهُ مُسْلِمٌ: 1015]
ترجمہ:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو بھی اسی چیز کا حکم دیا ہے جس کا حکم اس نے رسولوں کو دیا تھا۔ چنانچہ فرمایا: ’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔‘
اور فرمایا: ’اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں۔‘
پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے، پراگندہ بال اور غبار آلود ہے، اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر کہتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام، اور اس کی پرورش حرام سے ہوئی ہو، تو ایسے شخص کی دعا کیسے قبول کی جائے؟“ [صحیح مسلم]
فوائدِ حدیث:
-
۱
اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کمال کا اثبات:
• سراپا پاکیزہ: اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہر عیب، نقص اور کمی سے پاک ہے۔ اس کا ایک نام "طیب" ہے، یعنی وہ ذات اور صفات میں سراپا پاکیزہ ہے۔
• صفتِ علو: دعا میں ہاتھ اوپر اٹھانے سے اللہ تعالیٰ کے لیے صفتِ علو (بلندی) کا اثبات ہوتا ہے۔
-
۲
اعمال کی قبولیت کا معیار: اخلاص اور پاکیزگی:
• ظاہری و باطنی صفائی: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ظاہری اور باطنی پاکیزگی شرط ہے۔ وہ صرف وہی اقوال و اعمال قبول فرماتا ہے جو پاک اور خالص ہوں۔
• حلال کمائی: قبولیت کا تعلق کثرتِ عمل سے نہیں، بلکہ اخلاص اور حلال کمائی سے ہے۔ انبیاء اور مؤمنین دونوں کو وحی کے ذریعے پاکیزہ چیزیں کھانے اور نیک عمل کرنے کا ایک جیسا حکم دیا گیا ہے۔
-
۳
حلال رزق کی اہمیت اور روحانی اثرات:
• روحانی ایندھن: حلال روزی صرف دنیاوی ضرورت نہیں بلکہ ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ یہ نیک اعمال کے لیے "روحانی ایندھن" کا کام کرتی ہے اور اخلاق و عبادات کو جلا بخشتی ہے۔
• حلال کی برکت: اسلام انسان کی معیشت اور عبادت دونوں کی اصلاح کرتا ہے۔ اللہ کے ہاں حلال مال کی تھوڑی مقدار بھی حرام کی کثرت سے کہیں بہتر ہے۔
-
۴
حرام کمائی کے نقصانات اور ہلاکتیں:
• عبادت میں بے رغبتی: حرام مال انسان کی روحانی بصیرت کو کمزور کر دیتا ہے، دل میں سختی اور عبادت میں بے رغبتی پیدا کرتا ہے۔
• حرام کی نحوست: جو شخص حرام پر قائم رہے، اس کی غذا، لباس اور مشروب سب حرام کے اثر میں آ جاتے ہیں، اور یہ نحوست صرف اس کی ذات تک نہیں بلکہ اس کی اولاد اور پورے گھرانے کو متاثر کرتی ہے۔
-
۵
آدابِ دعا اور قبولیت کے اسباب و موانع:
• اسبابِ قبولیت: حدیث میں دعا کے چار بڑے آداب اور اسبابِ قبولیت بیان ہوئے ہیں: سفر (جس میں انسان کی عاجزی اور محتاجی نمایاں ہوتی ہے)، عاجزی و انکساری (دل کی سچی کیفیت)، ہاتھ اٹھانا (جو کہ سنتِ رسول ﷺ ہے)، اور الحاح (دعا میں عاجزی کے ساتھ بار بار "یا رب! یا رب!" کہنا)۔
• سب سے بڑی رکاوٹ: اگر دعا کے یہ تمام ظاہری اسباب موجود ہوں، تب بھی حرام کمائی انسان اور رب کے درمیان دیوار بن جاتی ہے اور دعا کی قبولیت کو روک دیتی ہے۔
-
۶
حاصلِ کلام (خلاصہ):
• خلاصہ: یہ پوری حدیث مسلمان کو اپنے پیشے، آمدنی، کھانے پینے اور لباس کا جائزہ لینے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ مبارک تعلیم تزکیۂ نفس، اصلاحِ معاش، حسنِ عبادت اور آدابِ دعا کا ایک ایسا جامع مجموعہ ہے جو انسان کو ظاہری دکھاوے سے نکال کر حقیقی شکر گزاری اور بندگی کی راہ دکھاتا ہے۔