Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 12

اسلام کے حسن اور لایعنی چیزوں کو چھوڑنے کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ»۔

[رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَابْنُ مَاجَهْ]

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کے اسلام کے حسن میں سے یہ بات ہے کہ وہ ایسی چیز کو چھوڑ دے جو اس کے کسی کام کی نہ ہو“۔ [ترمذی، ابن ماجہ]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دین و شریعت کی عظیم بنیاد:
    جوامع الکلم اور آدابِ اسلام: یہ حدیث نبی کریم ﷺ کے جوامع الکلم میں سے ہے، جس کے مختصر الفاظ میں اخلاق و آداب کا سمندر پوشیدہ ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کے مطابق اسلام کے آدابِ زندگی اسی پر قائم ہیں۔
    اسلام کا حسن اور درجات: یہ حدیث بتاتی ہے کہ لوگوں کے اسلام میں تفاوت (فرق) ہوتا ہے۔ اپنے اسلام کو خوبصورت بنانے کا راز فضول چیزوں کو چھوڑ دینے میں ہے۔
  • ۲
    وقت کی قدر اور کامیابی کا راز:
    عمر اور توانائی کی حفاظت: کامیاب انسان دنیا و آخرت میں اپنی توانائیاں بے فائدہ کاموں میں ضائع نہیں کرتا۔ وقت کو غنیمت جاننا اور غیر ضروری مباحث سے بچنا ہی عقل مندی اور طالبِ علم کی کامیابی ہے۔
    جدید دور (میڈیا/سوشل میڈیا) پر تطبیق: آج کے دور میں انٹرنیٹ، غیر ضروری ویڈیوز، فضول تبصروں اور بحثوں سے دور رہنا اسی حدیث پر عمل کرنے کی بہترین صورت ہے۔
  • ۳
    زبان، اخلاق اور معاشرت کی اصلاح:
    زبان و نگاہ کی حفاظت: یہ حدیث زبان کو لغو گفتگو، غیبت، چغلی اور بہتان سے بچانے کی اصل بنیاد ہے۔
    معاشرتی امن اور نجی زندگی کا احترام: دوسروں کے نجی معاملات میں ٹوہ لگانے اور فضول تجسس سے روک کر یہ حدیث معاشرے کو فتنوں اور فساد سے محفوظ رکھتی ہے۔
  • ۴
    دل کی پاکیزگی اور تزکیۂ نفس:
    عبادت میں خشوع اور اخلاص: فضولیات اور کثرتِ کلام سے دل سخت اور مردہ ہو جاتا ہے۔ ان سے دوری دل کو نرم کرتی ہے، باطن کو پاک کرتی ہے اور عبادت میں یکسوئی (خشوع) پیدا کرتی ہے۔
    اپنی اصلاح کی فکر: مومن کو دوسروں کے عیوب تلاش کرنے کے بجائے اپنے نفس کی اصلاح اور اللہ کی رضا والے کاموں میں مشغول رہنا چاہیے۔
  • ۵
    تربیتی و عملی پہلو:
    سلف صالحین کا طریقہ: نیک لوگ ہمیشہ کم بولتے، فضول میل جول سے بچتے اور صرف فائدہ مند کاموں پر حریص ہوتے تھے۔
    نسلِ نو کی تربیت: والدین اور اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو بچپن ہی سے وقار، سنجیدگی اور فضول چیزوں سے بچنے کی تربیت دیں تاکہ وہ فتنوں سے محفوظ رہ کر جنت کے حقدار بن سکیں۔