Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 16

غصہ نہ کرنے اور ضبطِ نفس کی اہمیت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ ﷺ: أَوْصِنِي، قَالَ: «لَا تَغْضَبْ»۔ فَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ: «لَا تَغْضَبْ»۔

[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ: 6116]

ترجمہ:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: ”مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ نہ کرو۔“ اس شخص نے کئی مرتبہ یہی درخواست دہرائی تو آپ ﷺ ہر مرتبہ یہی فرماتے رہے: ”غصہ نہ کرو“۔ [بخاری]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حدیث کی عظمت اور جامعیت:
    یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے "جوامع الکلم" (کم الفاظ میں بڑی بات کہنا) کی بہترین مثال ہے ۔ آپ ﷺ نے محض دو الفاظ (لا تغضب - غصہ نہ کرو) میں دین و دنیا کی اصلاح، حسنِ اخلاق اور معاشرتی امن کا پورا منشور سمو دیا ہے ۔
  • ۲
    علم اور نصیحت کا صحیح طریقہ:
    انسان کو ہمیشہ خیر کی امید پر مخلص لوگوں سے نصیحت مانگنی چاہیے، جیسا کہ اس سائل نے کیا ۔ نیز، استاد یا ناصح کو چاہیے کہ وہ موقع کی مناسبت سے مختصر، جامع اور اثر انگیز بات کہے تاکہ وہ دل میں اتر جائے ۔
  • ۳
    غصے کی سنگینی اور نقصان:
    سائل کے بار بار پوچھنے اور آپ ﷺ کے بار بار ایک ہی جواب دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ غصہ کتنی سنگین بیماری ہے ۔ غصہ مسائل حل نہیں کرتا بلکہ انہیں الجھاتا ہے، یہ عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور قتل، ظلم، بدزبانی اور رشتوں کی تباہی کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے ۔
  • ۴
    شریعت کا اصل مقصد (ضبطِ نفس):
    اسلام انسان کو اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو پانے کی تعلیم دیتا ہے ۔ اصل طاقت جسمانی پہلوانی نہیں، بلکہ شدید غصے اور اشتعال کے وقت اپنے نفس پر قابو پانا اور شرعی حدود کے اندر رہنا ہے ۔
  • ۵
    غصہ نہ کرنے کے دو عملی پہلو:
    آپ ﷺ کے فرمان کے دو واضح مطلب ہیں :
    پہلا: انسان اپنے اخلاق کی ایسی تربیت کرے کہ اسے غصہ آئے ہی نہ ۔
    دوسرا: اگر فطری طور پر غصہ آ بھی جائے، تو انسان خود کو روک لے اور غصے کے تقاضوں (جیسے گالی گلوچ یا مار پیٹ) پر عمل نہ کرے ۔
  • ۶
    غصے کا سنت کے مطابق علاج:
    چونکہ غصہ شیطان کی طرف سے ایک آگ ہے، اس لیے شریعت نے اس کے بہترین علاج بتائے ہیں :
    تعوذ پڑھنا: (أعوذ بالله من الشيطان الرجيم) پڑھنا ۔
    خاموشی: غصے کے وقت زبان کو بند رکھنا ۔
    پوزیشن بدلنا: کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہوں تو لیٹ جائیں ۔
    وضو کرنا: پانی سے غصے کی آگ کو ٹھنڈا کرنا ۔
  • ۷
    حسنِ اخلاق کا نچوڑ:
    غصہ انسان کے اخلاق کو بگاڑ دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ دین (جیسے امام ابن المبارک رحمہ اللہ) نے فرمایا کہ اگر پورے حسنِ اخلاق کو ایک کلمہ میں جمع کیا جائے تو وہ "غصہ نہ کرنا" ہے ۔
  • ۸
    ذمہ داران کے لیے حلم کی ضرورت:
    فیصلے کبھی بھی غصے کی حالت میں نہیں کرنے چاہئیں ۔ خصوصاً جج (قاضی)، اساتذہ، والدین اور قائدین کے لیے غصے پر قابو رکھنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ان کا غصہ دوسروں کی زندگیوں اور تربیت کو متاثر کرتا ہے ۔
  • ۹
    متقین کی صفات اور عظیم اجر:
    غصہ پی جانا اور لوگوں کو معاف کر دینا اللہ کے پسندیدہ اور متقی بندوں کی علامت ہے ۔ جو شخص غصے پر قابو پاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے خصوصی عزت و احترام سے نوازیں گے ۔
  • ۱۰
    ردِ عمل کے بجائے حکمتِ عملی:
    ایک سچے مسلمان کو کسی بھی بات پر فوری اور جذباتی ردِ عمل (Reaction) دینے کے بجائے، انبیاء علیہم السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے حلم، صبر، برداشت اور سوچی سمجھی حکمتِ عملی (Response) کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔