Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 18

تقویٰ، گناہوں کا مٹانا اور حسنِ اخلاق کا بیان

عَنْ أَبِي ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَةَ، وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ»۔

(رواه الترمذي، وقال: حديث حسن)

ترجمہ:

حضرت ابو ذر جندب بن جنادہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو، اور برائی کے بعد نیکی کر لیا کرو، وہ اس برائی کو مٹا دے گی، اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ“۔ [ترمذی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    تقویٰ اور اللہ سے تعلق:
    جامع ہدایت: یہ حدیث دین کا بنیادی دستور ہے، کیونکہ یہ اللہ، اپنے نفس اور انسانوں—تینوں کے حقوق کا احاطہ کرتی ہے۔
    ہر جگہ اور ہر وقت کی بندگی: تقویٰ کا مطلب ہر حال، ہر جگہ، علانیہ اور خلوت (تنہائی) میں اللہ کی نگرانی کا احساس رکھنا ہے۔ بالخصوص تنہائی میں تقویٰ اخلاص کی بڑی دلیل ہے۔
    تقویٰ کا مقام: تقویٰ کی اصل جگہ دل ہے، لیکن اس کے اثرات انسان کے اخلاق اور اعمال سے ظاہر ہوتے ہیں۔
  • ۲
    اصلاحِ نفس اور امید کی کرن:
    لغزش اور تلافی: انسان خطاکار ہے، لیکن متقی شخص گناہ کے بعد مایوس ہونے کے بجائے فوراً توبہ اور نیکی کے ذریعے اس کی تلافی کرتا ہے۔
    گناہوں کا مٹنا: چھوٹے گناہ، نیک اعمال (حسنات) سے مٹ جاتے ہیں، جبکہ بڑے گناہوں کے لیے توبہ ضروری ہے۔
    شیطانی مایوسی کا خاتمہ: یہ حدیث خوف اور امید کا بہترین امتزاج ہے؛ تقویٰ اللہ کا خوف پیدا کرتا ہے اور نیکیاں گناہوں کو مٹا کر امید دلاتی ہیں۔
    نیکی کی اہمیت: نیکی کے بعد نیکی کرنا درجات کی بلندی ہے، اور گناہ کے بعد نیکی کرنا نفس کی اصلاح ہے۔
  • ۳
    حسنِ اخلاق اور معاشرتی زندگی:
    ایمان کی تکمیل: بندوں کے حقوق ادا کرنا اور ان سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آنا تقویٰ ہی کا حصہ اور ایمان کی کامل علامت ہے۔
    یکطرفہ نیکی: اسلامی اخلاق یہ سکھاتے ہیں کہ لوگ جیسا بھی رویہ رکھیں، مسلمان کو ہر حال میں حسنِ اخلاق ہی اختیار کرنا ہے۔
    دعوت اور امن: حسنِ اخلاق معاشرتی امن کی بنیاد اور دعوتِ دین کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
    خلاصہ: یہ حدیث تقویٰ (باطنی و ظاہری اصلاح)، توبہ و نیکی (نفس کا مجاہدہ) اور حسنِ اخلاق (معاشرتی اصلاح) کے تین عظیم ستونوں پر مبنی زندگی گزارنے کا آسان اور جامع طریقہ بتاتی ہے۔