Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 25

صدقہ کے وسیع مفاہیم، نیت کی برکت اور حلال امور پر اجر کا بیان

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالُوا لِلنَّبِيِّ ﷺ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ. فَقَالَ: «أَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَدَّقُونَ؟ إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ». قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: «أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ، أَكَانَ عَلَيْهِ وِزْرٌ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ»۔

(رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

ترجمہ:

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مالدار لوگ تو سارا اجر لے گئے، وہ ہماری طرح نماز بھی پڑھتے ہیں، ہماری طرح روزے بھی رکھتے ہیں، اور اپنے زائد مال سے صدقہ بھی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھی صدقہ کرنے کے ذرائع نہیں بنائے؟ بے شک ہر مرتبہ 'سبحان اللہ' کہنا صدقہ ہے، ہر مرتبہ 'اللہ اکبر' کہنا صدقہ ہے، ہر مرتبہ 'الحمد للہ' کہنا صدقہ ہے، ہر مرتبہ 'لا إله إلا الله' کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے، اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی سے جائز تعلق قائم کرنا بھی صدقہ ہے“۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرے اور اس پر بھی اسے اجر ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بتاؤ! اگر وہ اپنی شہوت حرام طریقے سے پوری کرتا تو کیا اس پر گناہ نہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال طریقے سے پورا کرتا ہے تو اس کے لیے اجر بھی ہے“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    نیکیوں میں سبقت اور صحابہ کا مقام:
    پاکیزہ مقابلہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مقابلہ دنیاوی اشیاء کے لیے نہیں بلکہ نیکیوں اور آخرت کے درجات میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے تھا ۔
    دلوں کی پاکیزگی: ان کے اندر حسد، بغض یا کینہ نہیں تھا؛ وہ اپنے مالدار بھائیوں کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے تھے اور خیر کے کاموں میں ان کا شریک بننا چاہتے تھے ۔
    شوقِ عبادت پر غم: نیکی کی استطاعت نہ ہونے پر صحابہ کا رنجیدہ ہونا ان کی اعلیٰ فکر اور بلند ہمت کی دلیل ہے ۔
  • ۲
    صدقہ کے وسیع مفاہیم اور متبادل راستے:
    صدقہ صرف مال نہیں: ہر نیک کام، تسبیح، تحمید، تکبیر، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) صدقہ شمار ہوتا ہے ۔
    خیر کے متعدد راستے: اگر انسان نیکی کے کسی ایک راستے (مثلاً مالی صدقے) سے محروم ہو، تو اسے مایوس ہونے کے بجائے دیگر عبادات کی طرف متوجہ ہونا چاہیے ۔
  • ۳
    نیت کی برکت اور حلال کاموں پر اجر:
    فطری و جائز کام عبادت ہیں: کھانا، پینا، سونا، حلال روزی کمانا اور اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزارنا اگر جائز طریقے اور نیک نیت (عفت و پاکدامنی) سے ہو، تو ان پر بھی صدقہ کا ثواب ملتا ہے ۔
    اللہ کا بے پایاں کرم: اللہ تعالیٰ نے مومن کو بڑی عزت دی ہے کہ اس کے روزمرہ کے فطری کاموں کو بھی ثواب کا ذریعہ بنا دیا ہے ۔
  • ۴
    استدلال، اخلاقیات اور تعلیم کا انداز:
    حجتِ قیاس: اس حدیث سے "قیاسِ شرعی" کی حلمیت ثابت ہوتی ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے حرام پر گناہ کا ذکر کرکے حلال پر اجر کو واضح فرمایا ۔
    عفت اور حیا بالفاظ: نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے نازک و جنسی امور کے بیان میں انتہائی مہذب اور کنائے والے الفاظ استعمال فرمائے، جو ان کی کامل حیا کی دلیل ہے ۔
    معلمین اور علماء کی ذمہ داری: عالم اور داعی کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے لیے دین اور نیکی کا راستہ آسان بنائے، ان کی استطاعت کے مطابق خیر کے راستے دکھائے اور وقت کی حفاظت کا شعور بیدار کرے ۔