Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 30

شریعت کے چار بنیادی اصول، حدودِ الٰہی کی پاسداری اور اباحتِ اصلیہ کا بیان

عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ جُرْثُومِ بْنِ نَاشِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا، وَحَرَّمَ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ رَحْمَةً لَكُمْ غَيْرَ نِسْيَانٍ، فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا»۔

(حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ)

ترجمہ:

حضرت ابو ثعلبہ خشنی جرثوم بن ناشر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں، لہٰذا انہیں ضائع نہ کرو۔ کچھ حدود مقرر کی ہیں، پس ان سے تجاوز نہ کرو۔ کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، لہٰذا ان کی بے حرمتی نہ کرو۔ اور کچھ چیزوں کے بارے میں تم پر رحمت کرتے ہوئے خاموشی اختیار فرمائی ہے، یہ خاموشی بھول کی وجہ سے نہیں، لہٰذا ان کے بارے میں بلا ضرورت کھوج اور کرید نہ کیا کرو“۔ [سنن الدارقطنی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    شریعت کا کمال، اعتدال اور آسانیاں:
    مکمل اور عالمگیر دین: اسلامی شریعت ہر اعتبار سے کامل اور قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے موزوں ہے ۔
    آسانی اور اعتدال: شریعت کا مقصد تنگی پیدا کرنا نہیں بلکہ آسانی فراہم کرنا ہے ۔ یہ دین افراط و تفریط (شدت اور لاپرواہی) سے پاک، اعتدال پر مبنی اور انسان کی طاقت کے مطابق ہے ۔
  • ۲
    حلال و حرام کا اختیار اور فتویٰ کی سنگینی:
    حاکمیتِ الہٰی: حلال، حرام، وجوب اور حرمت کا مطلق اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے؛ عبادت کی بنیاد وحی ہے، انسانی رائے نہیں (یونس: ٥٩) ۔
    فتویٰ کی سنگینی: بغیر علم کے اللہ کی طرف کوئی حکم منسوب کرنا سخت گناہ ہے؛ لہٰذا بلا دلیل ہر نئی چیز کو حرام قرار دینے سے بچنا چاہیے (النحل: ١١٦) ۔
  • ۳
    شریعت کے چار بنیادی اصول:
    ارکانِ شریعت: یہ حدیث دین کے چار بنیادی ستونوں کو بیان کرتی ہے: فرائض، حدود، محرمات اور مباحات ۔
    فرائض اور نوافل کی ترتیب: مومن کی پہلی ترجیح فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب ہے، نوافل کا درجہ اس کے بعد آتا ہے ۔
    حدود الہٰی کی پاسداری: حدود سے تجاوز کرنا دنیا و آخرت میں تباہی کا باعث ہے، جبکہ محرمات سے بچنا ایمان کی علامت ہے ۔
  • ۴
    سکوتِ الہٰی، اباحتِ اصلیہ اور وسوسوں سے ممانعت:
    اصل اشیاء میں اباحت: اسلامی فقہ کا عظیم اصول ”الأصل في الأشياء الإباحة“ (اشیاء میں اصل اباحت ہے) اسی سے ثابت ہوتا ہے ۔ جن چیزوں کی حرمت پر دلیل نہ ہو، وہ مباح ہیں ۔
    فضول کھوج اور وسوسوں سے ممانعت: دین میں بے جا باریکیوں، غیر ضروری شک، تکلف اور حد سے زیادہ سوالات سے روکا گیا ہے، کیونکہ یہ بلا وجہ کی سختی کا سبب بنتے ہیں ۔
  • ۵
    اللہ تعالیٰ کی صفات، حکمت اور رحمت:
    نسیان (بھول) سے پاک ذات: اللہ تعالیٰ ہر نقص اور بھول سے منزہ و پاک ہے (طٰہٰ: ٥٢) ۔
    رحمت پر مبنی خاموشی: جن چیزوں کے احکام بیان نہیں کیے گئے، وہ اللہ بھولے سے نہیں بلکہ بندوں پر رحمت فرماتے ہوئے مباح رکھی گئی ہیں ۔
  • ۶
    حدیث کی علمی و عملی اہمیت:
    علماء کی نظر میں: امام نووی، امام ابن رجب اور شیخ ابن عثیمین رحمہم اللہ کے نزدیک یہ حدیث اسلامی شریعت کے جامع ترین اصولوں میں سے ایک ہے، جو ایک مسلمان کی عملی زندگی کی کامل رہنمائی کرتی ہے ۔