حدیث نمبر 32
نقصان نہ پہنچانے، انتقامی اذیت کی ممانعت اور اہم فقہی قواعد کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ سَعْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ»۔
(حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُمَا)
ترجمہ:
حضرت ابو سعید سعد بن مالک بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ خود کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ کسی کو نقصان پہنچانے کے بدلے نقصان پہنچاؤ“۔ [سنن ابن ماجه، سنن الدارقطنی]
فوائدِ حدیث:
-
۱
شرعی اور فقہی اہمیت:
• جامع اسلامی قاعدہ: یہ حدیث اسلامی فقہ کا عظیم ستون ہے جس کا مقصد شریعت میں مشقت، حرج اور ہر قسم کے نقصان کو دور کرنا ہے ۔
• بنیادی فقہی اصول: اس سے اہم فقہی قواعد اخذ ہوتے ہیں، جیسے: ”الضَّرَرُ يُزَالُ“ (نقصان کو دور کیا جائے گا)، ”الضَّرَرُ لَا يُزَالُ بِالضَّرَرِ“ (ایک نقصان کو دوسرے نقصان سے دور نہیں کیا جائے گا)، اور شدید نقصان سے بچنے کے لیے کم نقصان کو برداشت کرنا ۔
• مقاصدِ شریعت کی حفاظت: یہ اصول انسان کے پانچ بنیادی حقوق (دین، جان، عقل، نسل اور مال) کی مکمل حفاظت کرتا ہے ۔
-
۲
اخلاقی اور معاشرتی تربیت:
• خود غرضی کا خاتمہ: یہ حدیث مسلمان میں ایثار، خیر خواہی اور دوسروں کے حقوق کے احترام کا جذبہ پیدا کرتی ہے ۔
• محبت اور بھائی چارہ: نقصان دہ رویوں اور انتقامی سوچ کا خاتمہ کرکے معاشرے میں الفت اور باہمی اعتماد کو فروغ دیتی ہے ۔
-
۳
عملی اور روزمرہ زندگی میں اطلاق:
• نقصان کی ہمہ گیری: اس میں ہر طرح کے جانی، مالی، نفسیاتی، اخلاقی اور معاشرتی نقصان کی ممانعت ہے، خواہ وہ قصداً ہو یا بدلے کی صورت میں ۔
• آزادی کے حدود: اسلام میں ذاتی آزادی اور اپنے حقوق کا استعمال وہاں تک جائز ہے جہاں سے دوسرے کا حق یا امن متاثر نہ ہو ۔
• معاملات اور تجارت: کاروبار میں دھوکا، ملاوٹ اور غبن، جبکہ ملازمت و تعلیم میں ماتحتوں، طلبہ یا کارکنان پر ظلم و بے جا سختیاں اسی قاعدے کے تحت ممنوع ہیں ۔
• اجتماعی وسائل اور تعلقات: راستوں، عمومی وسائل، پڑوسیوں کے حقوق اور خاندانی رشتوں (زوجین، والدین، اولاد) میں ایک دوسرے کو اذیت دینے یا حق تلفی کرنے سے سخت منع کرتی ہے ۔
-
۴
خلاصہ:
یہ حدیث فرد، خاندان، تجارت، تعلیم اور قانون کے ہر شعبے میں امن و انصاف قائم کرنے اور ہر طرح کے شر و اذیت کو وقوع سے پہلے اور بعد میں روکنے کی ایک جامع شرعی ضمانت ہے ۔