جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: «إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً»۔
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں کو لکھ دیا ہے، پھر اس کی وضاحت فرما دی ہے۔ پس جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے، لیکن اسے نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے۔ اور اگر وہ نیکی کا ارادہ کرے اور اسے کر بھی لے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے پاس دس نیکیاں لکھتا ہے، جو سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ اور جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرے لیکن اسے نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے، اور اگر برائی کا ارادہ کرکے اسے کر بھی لے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے صرف ایک برائی لکھتا ہے“۔ [صحیح البخاری وصحیح مسلم]