حدیث نمبر 38
ولایتِ الٰہی کی حقیقت، قربِ فرائض و نوافل اور اولیاء اللہ کی نصرت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: «مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَلَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَلَئِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ»۔
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ۔
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”جس شخص نے میرے کسی ولی (دوست) سے دشمنی کی، میں نے اس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ میرا بندہ جن اعمال کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، ان میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ اعمال ہیں جو میں نے اس پر فرض کیے ہیں۔ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا وہ پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں ضرور اسے عطا کروں گا، اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں ضرور اسے پناہ دوں گا“۔ [صحیح البخاری]
فوائدِ حدیث:
-
۱
ولایتِ الہٰی کی حقیقت اور اس کے درجات:
• اصل بنیاد بندگی اور اطاعت: ولایت کی اصل بنیاد بندگی اور اطاعت ہے، جو ایمان و تقویٰ کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔
• فرائض کا بلند مقام: قربِ الہٰی میں فرائض سب سے بلند مقام رکھتے ہیں، جبکہ نوافل کی مداومت انسان کو اللہ تعالیٰ کی خاص محبت اور احسان کے درجے تک پہنچاتی ہے۔
• احکامِ شریعت کی پابندی: ولایت کسی بھی مرحلے پر احکامِ شریعت کی پابندی سے مستثنیٰ نہیں کرتی، بلکہ قرب کے ساتھ اطاعت میں مزید اضافہ لازم ہوتا ہے۔
-
۲
اولیائے اللہ کا مقام اور ان کے دشمنوں کی وعید:
• اعلانِ جنگ کی وعید: سچے مومن اللہ کے نزدیک انتہائی معزز ہیں؛ ان سے دشمنی مول لینا درحقیقت اللہ تعالیٰ سے اعلانِ جنگ ہے۔
• اللہ کی نصرت پر بھروسہ: بندے کو دشمنوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنے ایمان و اعمال کی فکر کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی حفاظت اور نصرت کے لیے کافی ہے۔
-
۳
اللہ تعالیٰ کی محبت کے ثمرات:
• اعضاء کی حفاظت و توفیق: جب اللہ بندے سے محبت فرماتا ہے تو اس کے تمام اعضاء (کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں) کو اپنی رضا کے مطابق چلنے کی توفیق و حفاظت عطا کرتا ہے۔
• قبولیتِ دعا اور پناہ: اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندے کی دعائیں قبول فرماتا ہے اور پناہ مانگنے پر اسے ہر برائی اور وسوسے سے محفوظ رکھتا ہے۔
-
۴
باطل نظریات کی تردید اور عقیدے کی وضاحت:
• حلول و اتحاد کی نفی: حدیث کے الفاظ (کان، آنکھ بن جانا) حلول یا اتحاد کی دلیل نہیں، کیونکہ مانگنے والا عاجز بندہ ہے اور عطا کرنے والا ربِ قدوس۔ اس سے مراد اللہ کی خصوصی مدد، توفیق اور حفاظت ہے۔
• محبتِ الہٰی کا غلبہ: انسان کے دل میں اللہ کی محبت جتنی غالب ہوگی، اطاعت اتنی بڑھے گی؛ اس کے برعکس غیر اللہ (نفس یا دنیا) کی محبت گناہوں اور بندگی کے بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔
-
۵
موت کی تکلیف اور مومن کا خوف:
• طبعی خوف: موت کی سختی و تکلیف کی وجہ سے طبعی طور پر اس سے گھبرانا یا ناپسند کرنا ایمان کے منافی نہیں۔
• فضل و رحمت: اللہ تعالیٰ نے موت مقدر فرمائی ہے، لیکن وہ اپنے مومن بندے کی تکلیف کو ناپسند فرماتا ہے، جو اس کے فضل و رحمت کی دلیل ہے۔