حدیث نمبر 39
خطا، نسیان اور اکراہ (مجبوری) کی معافی کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ»۔
(حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ)
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے بھول چوک اور غلطی سے سرزد ہونے والے اعمال، اور ان کاموں کو جن پر انہیں مجبور کر دیا جائے، معاف فرما دیا ہے“۔ [سنن ابن ماجه، السنن الكبرى للبيهقي]
فوائدِ حدیث:
-
۱
امتِ محمدیہ پر اللہ کی رحمت اور شریعت کی آسانی:
• یہ حدیث امتِ محمدیہ کے خصوصی شرف، اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور اسلامی شریعت کی آسانی و رفعِ حرج (تنگی دور کرنے) کا واضح ثبوت ہے۔
• یہ قرآنی اصول کی تائید ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی استطاعت اور وسعت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا۔
-
۲
تین بنیادی شرعی عذرات اور ان کے مفاہیم:
حدیث میں تین عذرات پر اخروی گناہ معاف قرار دیے گئے ہیں:
• خطا (غلطی): کام کا ارادہ جائز ہو لیکن نتیجہ ارادے کے خلاف اور غلط نکل آئے (یہ جان بوجھ کر کیے گئے فعل یعنی "عمد" کے برعکس ہے)۔
• نسیان (بھول): کسی چیز کا علم ہونے کے باوجود عمل کے وقت یاد نہ رہنا۔ یہ حقیقی بھول ہونی چاہیے، غفلت یا جھوٹا بہانہ نہیں۔
• اکراہ (مجبوری): ایسا شدید دباؤ جس میں انکار پر حقیقی جانی یا مالی نقصان کا اندیشہ ہو۔ معمولی شرمندگی یا ہلکا دباؤ شرعی اکراہ نہیں۔
-
۳
نیت، ارادہ اور شرعی ذمہ داری کا اصول:
• اسلام میں شرعی مواخذے اور گناہ کا دارومدار انسان کے علم، نیت اور ارادے پر ہے۔ غیر اختیاری امور پر آخرت میں پکڑ نہیں ہوتی۔
• یہ اصول عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات، خاندانی احکام اور معاشرتی زندگی کے تمام شعبوں پر لاگو ہوتا ہے۔
-
۴
گناہ کی معافی بمقابلہ دنیاوی تلافی (تکلیفی و وضعی احکام):
• حدیث میں عفو و درگزر سے مراد گناہ کا نہ ہونا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیاوی تلافی بھی ساقط ہو جائے؛ مثلاً: بھول کر بے وضو نماز پڑھی تو گناہ نہیں، مگر نماز دوبارہ پڑھنا فرض ہے؛ غلطی سے مالی نقصان ہو جائے تو گناہ نہیں، مگر تاوان یا ضمان ادا کرنا لازم ہوگا۔
• استثنا: کسی دوسرے مسلمان کو ناحق قتل کرنے پر مجبور کیا جائے تو اکراہ کے باوجود قتل جائز نہیں ہوگا، کیونکہ انسانی جان کی حرمت عظیم ہے۔
-
۵
اخلاقی، فتوائی اور تربیتی اسباق:
• مفتیان و قضاۃ کے لیے: فتویٰ دیتے وقت صرف ظاہری عمل نہ دیکھا جائے، بلکہ فاعل کا علم، نیت، ارادہ اور مجبوری کی نوعیت معلوم کرنا ضروری ہے۔
• معاشرتی و تربیتی رویہ: دوسروں کی غلطیوں پر فوراً بدگمانی کے بجائے حسنِ ظن رکھنا چاہیے، عذر قبول کرنا چاہیے اور جان بوجھ کر کی گئی نافرمانی کے لیے بھول یا غلطی کو بہانہ نہیں بنانا چاہیے۔
-
۶
خلاصہ:
اسلامی شریعت انسان کے ارادے اور استطاعت کا پورا لحاظ رکھتی ہے؛ جس کام میں انسان کا حقیقی اختیار نہ ہو اس پر گناہ نہیں، البتہ عدل و انصاف کے تحت حقوق کی تلافی باقی رہتی ہے۔