حدیث نمبر 41
ایمان کی حقیقت اور خواہشات کو شریعت کے تابع کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ».
(حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ)
ترجمہ:
حضرت ابو محمد عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشِ نفس اس (شریعت) کے تابع نہ ہو جائے جسے میں لے کر آیا ہوں۔" [یہ حدیث حسن صحیح ہے]
فوائدِ حدیث:
-
۱
حقیقتِ ایمان اور کمالِ تسلیم:
• ایمان محض دعویٰ نہیں بلکہ دلی تسلیم و رضا کا نام ہے۔
• بندہ مومن اپنی عقل، جذبات اور خواہشات کو رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت اور سنت کے تابع کر کے ہی ایمانِ کامل پاتا ہے (جیسا کہ سورۃ النساء: 65 میں حکم ہے)۔
-
۲
اتباعِ شریعت بنام خواہشِ نفس:
• تمام گناہوں، بدعات اور گمراہیوں کی بنیادی جڑ شریعت کے مقابلے میں ذاتی خواہش کو ترجیح دینا ہے۔
• اس کے برعکس مومن ہر معاملے میں دلیلِ شرعی تلاش کرتا ہے اور اپنی پسند و ناپسند کو حلال و حرام کے تابع رکھتا ہے۔
-
۳
مجاہدہ، محاسبہ اور تزکیۂ نفس:
• نفس کو شریعت کا پابند بنانا مسلسل مجاہدے، کڑے محاسبے اور صبر و استغفار کا تقاضا کرتا ہے۔
• یہی مجاہدہ دراصل نفس کے تزکیے اور روحانی تربیت کا بنیادی ستون ہے۔
-
۴
ایمانی کیفیات اور درجات کا فرق:
• جب انسان اپنی مرضی کو رب کی مرضی کے تابع کرتا ہے تو اسے عبادات میں دلی سکون اور حلاوت ملتی ہے۔
• برعکس اس کے، خواہشات کی اندھی پیروی ایمان میں کمی اور بالآخر نفاق یا کفر کی طرف لے جاتی ہے۔
-
۵
شریعت کی ہمہ گیری اور معاشرتی اصلاح:
• دین کے تمام احکام انسان کے دینی، اخلاقی اور دنیوی فائدے پر مبنی ہیں۔
• معاشرتی بگاڑ اس وقت جنم لیتا ہے جب لوگ شریعت کو خواہشات کے مطابق ڈھالنے لگیں، جبکہ اصل کامیابی اخلاق اور معاملات کو دین کے سانچے میں ڈھالنے میں ہے۔