جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: «يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ مِنْكَ وَلَا أُبَالِي، يَا ابْنَ آدَمَ، لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ، يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً».
(رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے ابنِ آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تجھے بخشتا رہوں گا چاہے تیرے اعمال جیسے بھی ہوں اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ اے ابنِ آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک بھی پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے، تو میں تجھے معاف کر دوں گا۔ اے ابنِ آدم! اگر تو میرے پاس زمین بھر گناہوں کے ساتھ آئے اور پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں تیرے پاس اتنی ہی مغفرت لے کر آؤں گا۔" [اسے ترمذی نے روایت کیا ہے]