Skip to main content

Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

علامہ ابن رجب رحمہ اللہ کی اضافہ شدہ احادیث

مستفاد از شرح شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ
جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 43

اسلامی قانونِ وراثت اور ترکے کی تقسیم کا بنیادی قاعدہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا أَبْقَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ)

(رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ)

ترجمہ:

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فرائض (مقررہ حصے) ان کے حق داروں تک پہنچاؤ، پھر جو فرائض سے بچ رہے، وہ سب سے قریبی مرد کے لیے ہے۔» [اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حدیث کی جامعیت اور فقہی حیثیت:
    • یہ حدیث نبوی علمِ فرائض کا بنیادی قاعدہ کلیہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترکے کی تقسیم میں اصحاب الفروض (جن کے حصے اللہ نے طے کیے ہیں) کو ہمیشہ عصبات پر مقدم رکھا جائے گا۔
  • ۲
    قرآنی فرائض کی تعداد اور ضابطہ:
    • قرآن مجید میں بیان کردہ متعین حصے کل چھ ہیں (نصف، ربع، ثمن، ثلثان، ثلث، سدس)۔
    • ان کو یاد رکھنے کا ریاضیاتی طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف نصف اور اس کے نصف کا سلسلہ ہے، اور دوسری طرف ثلثان اور اس کے نصف کا سلسلہ۔
  • ۳
    عصبہ بالنفس کا حقِ وراثت:
    • اصحاب الفروض کو ان کے متعین حصے دینے کے بعد جو کچھ مال بچ جائے، وہ سب سے قریبی مذکر عصبہ کو دیا جائے گا۔
    • اگر کوئی مقررہ حصے والا نہ ہو تو وہ اکیلا پورے مال کا حق دار ہوتا ہے۔
  • ۴
    «أولى رجل» کا مفہوم:
    • لفظ «أولی» سے مراد زیادہ حق دار ہونا نہیں بلکہ میت سے نسبی اعتبار سے «زیادہ قریب» ہونا ہے۔
    • قربت کا تعین پہلے جہت (فرعیت، ابوت، اخوت، عمومت)، پھر درجے (قرب و بعد) اور پھر قوتِ قرابت (سگا یا علاتی) سے ہوتا ہے۔
  • ۵
    «رجل» کے ساتھ «ذكر» کی قید کی حکمت:
    • اس تقیید کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ میراث کا تعلق بلوغت، طاقت، نصرت یا عمر سے نہیں بلکہ محض ذکورت (مردانہ جنس) کے ثبوت سے ہے۔
    • چنانچہ نومولود بچہ بھی اسی طرح وارث بنتا ہے جس طرح بڑا مرد۔
  • ۶
    عصبہ بالغیر کا اصول:
    • ہر وہ عورت جو تنہا ہونے پر قرآن کی رو سے نصف یا دو تہائی کی حق دار بنتی ہے، اگر اس کے درجے کا مذکر (اس کا بھائی وغیرہ) موجود ہو تو وہ اس کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتی ہے۔
    • مال «لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ» کے تحت تقسیم ہوتا ہے۔
  • ۷
    عصبہ مع الغیر کی مشروعیت:
    • بیٹیوں یا پوتیوں کی موجودگی میں اگر سگی یا علاتی بہنیں ہوں تو وہ عصبہ بن کر بقیہ مال لے لیتی ہیں۔
    • ان کی وجہ سے میت کے چچا یا علاتی بھائی محروم ہو جاتے ہیں، جیسا کہ سنت میں اس استثناء کی وضاحت آئی ہے۔
  • ۸
    ولاء اور آزاد کردہ غلام کی وراثت:
    • نسبی عصبات میں کوئی عورت خود اکیلی عصبہ بالنفس نہیں بنتی۔
    • سببی عصبات میں آزاد کرنے والی خاتون (معتقہ) اپنے آزاد کردہ غلام کے لاوارث ہونے کی صورت میں عصبہ بالنفس بن کر وارث بنتی ہے۔
  • ۹
    اخیافی بہن بھائیوں کا امتیازی حکم:
    • ماں شریک بہن بھائیوں کی وراثت صرف فرض کی بنیاد پر ہوتی ہے اور ان میں مذکر و مؤنث کا امتیاز نہیں رکھا جاتا۔
    • وہ تہائی مال میں مرد اور عورت برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
  • ۱۰
    کلالہ کا مفہوم اور قرآنی نظامِ وراثت:
    • جس میت کی نہ اولاد ہو اور نہ والدین، اس کی میراث کلالہ کہلاتی ہے، جس میں جانب کے رشتہ دار (بہن بھائی) وارث بنتے ہیں۔
    • قرآن کی تینوں بنیادی آیات نے اصول، فروع، ازواج اور کلالہ کے تمام اصولوں کا احاطہ کر لیا ہے۔