جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمَكَّةَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالأَصْنَامِ»، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ تُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَتُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟ قَالَ: «لا، هُوَ حَرَامٌ»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ؛ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ جَمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ وَأَكَلُوا ثَمَنَهُ».
(رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ)حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا: «اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔» عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیونکہ اس سے کشتیوں پر لیپ کیا جاتا ہے، چمڑوں کو نرم و چکنا کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نہيں، وہ حرام ہے۔» پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت (ہلاک) کرے! جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا، پھر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھا گئے۔» [اسے امام بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے]