Skip to main content

Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 46

خوراک میں اعتدال، پیٹ کے استعمال اور حفظانِ صحت کا نبوی اصول

عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مَلَأَ ابْنُ آدَمَ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ، وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ».

ترجمہ:

حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: "کسی انسان نے پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ ابنِ آدم کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھ سکیں؛ اگر زیادہ ہی کھانا ناگزیر ہو، تو ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے (ہوا) کے لیے رکھے۔"

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    محدثین کی اصطلاحات:
    • متاخرین کے عرف میں "رَوَاہُ" اور "خَرَّجَہُ" ہم معنی ہیں، یعنی حدیث کو اپنی سند کے ساتھ کتاب میں روایت کرنا۔
    • امام نووی عموماً "رواہ" اور ابن رجب "خرجہ" استعمال کرتے ہیں۔
  • ۲
    لفظِ "حَسْبُ":
    • اس کا لغوی معنیٰ "کفایت" ہے؛ یعنی زندہ اور توانا رہنے کے لیے محض چند لقمے ہی کافی ہیں۔
  • ۳
    پیٹ کی تشبیہ:
    • پیٹ کو "وعاء" (برتن) کہا گیا، کیونکہ جس طرح لبریز برتن ابل پڑتا ہے، اسی طرح ضرورت سے زیادہ بھرا معدہ نقصان دہ بن جاتا ہے۔
  • ۴
    جامع حفظانِ صحت (طبی و سائنسی فوائد):
    • یہ حدیث طبِ نبوی اور جدید غذائی اصولوں کی بنیاد ہے۔
    • رسول اللہ ﷺ نے صدیوں پہلے پورشن کنٹرول (Portion Control) کا زریں اصول سکھا دیا۔
  • ۵
    امراض سے حفاظت:
    • معدے کو مکمل بھرنا ذیابیطس، موٹاپے، قلبی مسائل اور میٹابولک سنڈروم کی بنیادی جڑ ہے۔
  • ۶
    نظامِ ہضم کی درستگی:
    • ہضم کے لیے گیسٹرک انزائمز اور معدے کی حرکات کو فضا درکار ہوتی ہے۔
    • پانی اور کھانے کا توازن ہاضمے کے تیزاب کو درست رکھتا ہے۔
  • ۷
    تنفس کی آسانی:
    • اگر معدہ بھر جائے تو ڈایافرام پر دباؤ پڑنے سے سانس پھولتا ہے۔
    • پیٹ کا ایک تہائی حصہ خالی رکھنا پھیپھڑوں کو پھیلنے کی مکمل جگہ دیتا ہے۔
  • ۸
    عبادات میں خشوع (روحانی و اخلاقی فوائد):
    • ہلکا پیٹ سستی و کاہلی دور کرتا ہے، جس سے نماز، تہجد اور ذکر میں دل بیدار رہتا ہے۔
  • ۹
    دل کی نرمی:
    • پیٹ بھر کر کھانے سے دل میں سختی (قساوت) پیدا ہوتی ہے اور بصیرت ماند پڑ جاتی ہے۔
  • ۱۰
    نفس پر قابو اور زہد:
    • اعتدال سے غذا لینا غصے اور شہوت کو قابو میں رکھنے اور تقویٰ حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔
    • حقیقی زہد صرف حرام سے بچنا نہیں، بلکہ حلال کھانے میں بھی اسراف اور حد سے بڑھنے سے رکنا ہے۔