Skip to main content

Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 48

اللہ تعالیٰ پر سچے توکل، محنت اور حلال رزق کے حصول کا بیان

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا».

(رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ)

ترجمہ:

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اگر تم اللہ تعالیٰ پر ویسا توکل کرو جیسا کہ اس پر توکل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اس طرح رزق عطا فرمائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیتا ہے؛ جو صبح کے وقت خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔"

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    توکل اور محنت کا توازن:
    • توکل کا تعلق دل کے یقین سے ہے اور اسباب اپنانا جسم و اعضاء کا کام ہے۔
    • ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا توکل نہیں بلکہ سستی اور نادانی ہے۔
  • ۲
    اسباب پر نہیں، مسبب الاسباب پر بھروسہ:
    • جائز ذرائع اور تدابیر اختیار کرنا شریعت کا حکم ہے، مگر نفع و نقصان کا اصل مالک صرف اللہ ہے۔
    • تدبیر کو سب کچھ سمجھ لینا توحید کے خلاف ہے۔
  • ۳
    پرندوں کی عملی مثال:
    • پرندے گھونسلوں میں بھوکے نہیں بیٹھے رہتے بلکہ صبح روزی کی تلاش میں اڑتے ہیں اور شام کو سیر ہو کر لوٹتے ہیں۔
    • یعنی بھروسہ اللہ پر اور عمل حرکت میں ہے۔
  • ۴
    رزق مقدر مگر جستجو ضروری:
    • رزق کی ضمانت اللہ نے دی ہے لیکن اس کے حصول کو کوشش اور محنت کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔
  • ۵
    صبح خیزی کی برکت:
    • حدیث میں صبح سویرے نکلنے کا ذکر ہے، جو یہ سکھاتا ہے کہ کام کاج کا آغاز دن کے اوائل وقت میں کرنا برکت اور کامیابی کا ضامن ہے۔
  • ۶
    ذہنی سکون اور اضطراب کا خاتمہ:
    • سچا توکل انسان کو مستقبل کے بے جا خوف، معاشی پریشانیوں اور تنگی کے وسوسوں سے آزاد کر کے قلبی اطمینان بخشتا ہے۔
  • ۷
    حلال پر قناعت اور حرام سے دوری:
    • جب یہ پختہ یقین ہو کہ جو نصیب میں ہے وہی ملنا ہے، تو انسان لالچ، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز کمائی سے بچ کر حلال و جائز پر راضی رہتا ہے۔
  • ۸
    اہل و عیال کی کفالت عبادت ہے:
    • پرندے اپنے چوزوں کے لیے بھی دانہ لاتے ہیں، اسی طرح بال بچوں اور زیرِ کفالت افراد کے لیے روزی کمانا توکل کے منافی نہیں بلکہ عین تقاضا ہے۔
  • ۹
    دعا اور تدبیر کا ساتھ:
    • محض مادی تدبیر کافی نہیں، بلکہ اللہ سے دعا اور مدد مانگنا بھی اسباب میں شامل سب سے بڑی قوت ہے۔
  • ۱۰
    تکبر کی نفی اور شکر گزاری:
    • انسان کو اپنی قابلیت، ڈگری یا عقل پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے، کامیابی ملے تو اسے اللہ کا فضل سمجھ کر شکر ادا کرے۔
    • کیونکہ تدبیر انسان کی اور تاثیر اللہ کی ہے۔