Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 1

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے

عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَبِي حَفْصٍ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: "إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِکُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَنْکِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ"۔

[رواہ البخاری ومسلم]

ترجمہ:

امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی، تو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کے لیے ہے، اور جس کی ہجرت دنیا (کے فائدے) حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کے لیے وہ ہجرت کر رہا ہے"۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دین کی بنیاد: یہ حدیث دین کا بنیادی اصول ہے۔ اسی لیے امام بخاری رحمہ اللہ سمیت بڑے محدثین نے اپنی کتابوں کا آغاز اسی سے کیا ہے تاکہ ہر کام سے پہلے نیت درست کرنے کی یاد دہانی ہو۔
  • ۲
    سب کے نزدیک مقبول: یہ حدیث صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، لیکن اس کے باوجود پوری امت اس کے درست ہونے پر متفق ہے۔
  • ۳
    نیت کی جگہ دل ہے: نیت کا تعلق صرف دل سے ہے، اسے زبان سے ادا کرنا درست نہیں۔ جبکہ اعمال میں دل، زبان اور جسم کے تمام کام شامل ہیں۔
  • ۴
    قبولیت کی شرط: اللہ کے ہاں کوئی بھی عمل اس وقت تک قبول نہیں ہوتا جب تک کہ اس میں دکھاوا نہ ہو اور وہ خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔
  • ۵
    عام کام بھی عبادت: اگر نیت اچھی اور خالص اللہ کے لیے ہو، تو روزمرہ کے عام کام (جیسے کھانا، پینا، سونا) بھی عبادت بن جاتے ہیں اور ان پر ثواب ملتا ہے۔
  • ۶
    دنیا کی حقارت: حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر کیے گئے کام کی بہت عظمت ہے، جبکہ صرف دنیا پانے کی نیت انتہائی حقیر اور معمولی بات ہے۔
  • ۷
    نیت پر ثواب: انسان کو ثواب اس کی نیت کے مطابق ملتا ہے۔ اگر کوئی شخص نیکی کا پختہ ارادہ کرے لیکن کسی مجبوری سے وہ کام نہ کر سکے، تب بھی اسے ثواب مل جاتا ہے۔
  • ۸
    تعلیم کا نبوی طریقہ: بات کو سمجھانے کے لیے عملی مثالیں دینا (جیسے اس حدیث میں ہجرت کی مثال دی گئی ہے) نبی کریم ﷺ کا بہترین طریقہِ تعلیم ہے۔
  • ۹
    ہجرت کا اصل مطلب: ہجرت صرف جگہ بدلنے کا نام نہیں، بلکہ گناہوں کو چھوڑ دینا اور برے لوگوں کی صحبت سے دور ہو جانا بھی ہجرت ہے۔
  • ۱۰
    نیت خالص کرنا آسان ہے: دنیاوی خواہشات انسان کو بھٹکاتی ضرور ہیں، لیکن اگر انسان اللہ کی رضا کی اہمیت جان لے، تو دل سے برے خیالات نکال کر نیت کو خالص کرنا بالکل مشکل نہیں ہے۔