حدیث نمبر 11
شک و شبہات کو چھوڑ کر یقین کو اختیار کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ سِبْطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَيْحَانَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ»۔
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ (2520)، وَالنَّسَائِيُّ (5711)، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ۔
ترجمہ:
حضرت ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور آپ کے محبوب تھے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات یاد رکھی ہے: ”جس چیز میں تمہیں شک ہو اسے چھوڑ دو، اور اس چیز کو اختیار کرو جس میں شک نہ ہو“۔ [ترمذی، نسائی]
فوائدِ حدیث:
-
۱
دین و شریعت کی عظیم بنیاد:
• جوامع الکلم اور بنیادی قاعدہ: یہ حدیث اسلام کے اہم ترین اصولوں میں سے ہے۔ یہ شریعت کے اس مشہور فقہی قاعدے کی اصل ہے کہ "یقین شک سے دور نہیں ہوتا"۔
• زندگی کے تمام معاملات کا احاطہ: یہ اصول صرف کھانے پینے تک محدود نہیں، بلکہ تجارت، عبادات، معاشرت اور زندگی کے تمام شعبوں پر لاگو ہوتا ہے۔
-
۲
حلال، حرام اور مشتبہ امور کا حکم:
• واضح حلال و حرام: جس چیز کا حلال ہونا یقینی ہو اسے چھوڑنا جائز نہیں، اور جس کا حرام ہونا یقینی ہو اسے چھوڑنا فرض ہے۔
• شبہات سے بچنا: جب کسی معاملے میں شک پیدا ہو جائے تو اسے چھوڑ کر یقین اور اطمینان والی چیز کو اختیار کرنا چاہیے۔ شبہات سے بچنا ہی اصل تقویٰ (ورع) ہے۔
-
۳
دل کا اطمینان اور باطنی پاکیزگی:
• سچائی اور جھوٹ کی پہچان: سچ اور حلال کی نشانی دل کا سکون ہے، جبکہ جھوٹ اور مشتبہ چیزوں کی نشانی دل کا اضطراب اور بے چینی ہے۔ مومن کا دل گناہ پر بے چین ہو جاتا ہے۔
• وسوسوں کی نفی: اسلام انسان کو ذہنی سکون اور یقین پر زندگی گزارنے کی دعوت دیتا ہے، وسوسوں اور شک و تردد پر نہیں۔
-
۴
دین، عزت اور اخلاق کی حفاظت:
• نقصان اور ندامت سے بچاؤ: کوئی بھی کام کرنے سے پہلے پختہ علم حاصل کرنا چاہیے تاکہ بعد میں پچھتاوا نہ ہو۔
• حرام کے راستوں کو بند کرنا: مشتبہ چیزوں سے دور رہنے والا شخص اپنے دین اور اپنی عزت دونوں کو محفوظ کر لیتا ہے، کیونکہ شبہات میں پڑنے والا انسان آہستہ آہستہ حرام میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
-
۵
عملی زندگی اور نوجوانوں کی تربیت:
• ہر دور کے فتنوں کا حل: یہ حدیث ہر مسلمان کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے مشکوک دوستوں، مشتبہ آمدنی اور فتنوں سے بچنے کے لیے یہ بہترین مشعلِ راہ ہے۔
• صحابہ کرام کا طرزِ عمل: سلف صالحین اور اہل بیتِ اطہار احادیث کو یاد رکھنے اور ان پر عمل کرتے ہوئے جائز چیزوں میں بھی احتیاط برتنے کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔