Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 13

ایمان کی تکمیل اور دوسروں کے لیے خیر خواہی کا بیان

عَنْ أَبِي حَمْزَةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ـ خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ـ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ»۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ (13)، وَمُسْلِمٌ (45)۔

ترجمہ:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے“۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    ایمان اور عقیدے کی تکمیل:
    کامل ایمان کا معیار: اس حدیث (جو کہ جوامع الکلم میں سے ہے) میں ایمان کی نفی سے مراد اسلام سے خارج ہونا نہیں، بلکہ کامل ایمان کی نفی ہے۔ دوسروں کے لیے خیر چاہنا ایمان کے کمال کی علامت ہے، جب کہ اس میں کمی ایمان کے کمزور ہونے کو ظاہر کرتی ہے (جو کہ اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کی تائید ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے)۔
    اخلاق اور جنت کا تعلق: اچھے اخلاق ایمان کا حصہ ہیں اور لوگوں کے لیے خیر خواہی کا یہ جذبہ انسان کو جنت میں لے جانے کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔
  • ۲
    تزکیۂ نفس اور روحانی علاج:
    دل کی بیماریوں کا خاتمہ: یہ حدیث حسد, بغض, کینہ, خود غرضی اور تکبر جیسی خطرناک روحانی بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ جو دوسروں کے لیے خیر نہیں چاہتا وہ دراصل متکبر اور حاسد ہے۔
    ایثار اور قربانی کی تربیت: انسان فطرتاً اپنے لیے خیر چاہتا ہے، لیکن یہ حدیث نفس کو ایثار اور دوسروں کی بھلائی پر تربیت دیتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں اس ایثار کی بہترین عملی تصویر تھیں۔
  • ۳
    مثالی معاشرہ اور اسلامی اخوت:
    حقوق العباد اور حقیقی بھائی چارہ: اسلام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا نام ہے۔ اس حدیث پر عمل کرنے سے معاشرے میں حقیقی بھائی چارہ، محبت، اور امت کا اتحاد پیدا ہوتا ہے۔
    معاشرتی امن کا ضامن: اگر ہر شخص دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے کرتا ہے، تو معاشرے سے ظلم، خیانت اور دھوکہ دہی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔
    دشمن کے لیے بھی خیر کی چاہت: یہ حکم عام ہے؛ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے مخالفین اور ذاتی دشمنوں کے لیے بھی ہدایت اور بھلائی کی تمنا کرے۔ یہ دراصل حدیث «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» (دین خیر خواہی ہے) کی عملی شکل ہے۔
  • ۴
    عملی زندگی کے مختلف شعبوں میں اطلاق:
    دینی اور دنیاوی دونوں بھلائیاں: حدیث میں 'خیر' سے مراد دونوں جہاں کی بھلائی ہے۔ یعنی دوسروں کے لیے رزق، مال، اور خوشی کے ساتھ ساتھ ہدایت، علم اور نیکی کی بھی تمنا کی جائے۔
    تجارت، دعوت اور تعلیم میں رہنمائی: تاجر اپنے گاہک کے لیے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ عالم اور داعی اپنے شاگردوں اور عوام کے لیے خلوصِ دل سے علم اور ہدایت کو پسند کریں۔
    مستقل عمل اور دعاؤں میں شمولیت: یہ کوئی وقتی جذبہ نہیں، بلکہ زندگی بھر جاری رہنے والا عمل ہے۔ ایک سچے مومن کی یہ پہچان ہے کہ وہ اپنی دعاؤں میں بھی اپنے مسلمان بھائیوں کو اسی طرح یاد رکھتا ہے جیسے خود کو۔
  • ۵
    خلاصہ کلام:
    خلاصہ: نبی کریم ﷺ نے ان مختصر الفاظ میں پورے انسانی اور معاشرتی نظام کی اصلاح کا نسخہ بیان فرما دیا ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے دوسروں کا سچا خیر خواہ بننا ہی ایک مسلمان کو حقیقی مومن بناتا ہے۔