Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 15

گفتگو کے آداب، پڑوسی اور مہمان کے اکرام کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ»۔

(رواه البخاري: 6018، ومسلم: 47)

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے۔ اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے۔ اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت و تکریم کرے“۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    عقیدہ اور اعمال کا گہرا تعلق:
    ایمان اور عمل کا جوڑ: یہ حدیث اہلِ سنت کے اس عقیدے کی دلیل ہے کہ اعمال ایمان کا حصہ ہیں ۔ نبی ﷺ نے اخلاقی احکام سے پہلے "اللہ اور آخرت پر ایمان" کا ذکر کر کے یہ واضح فرمایا کہ مومن کے ہر عمل کی بنیاد اخلاص، اللہ کی نگرانی (مراقبہ) اور آخرت کے اجر پر ہونی چاہیے ۔
  • ۲
    زبان کی حفاظت اور گفتگو کے آداب:
    خیر یا خاموشی: مومن کی زبان ہمیشہ تعمیری اور مفید ہوتی ہے ۔ وہ کلام کرنے سے پہلے نفع و نقصان کا جائزہ لیتا ہے ۔ اگر بات میں خیر (جیسے امر بالمعروف) ہو تو بولتا ہے، ورنہ خاموش رہتا ہے ۔
    فضول گوئی سے اجتناب: غیبت، چغلی، جھوٹ، بہتان، تمسخر اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری ابحاث و جھوٹی خبریں پھیلانا اس حدیث کے سراسر خلاف ہیں ۔ یاد رہے کہ خاموشی ہمیشہ مطلوب نہیں، جہاں حق کا بیان ضروری ہو وہاں خاموش رہنا گناہ ہے ۔
  • ۳
    بندوں کے حقوق اور حسنِ معاشرت:
    یہ حدیث انسان کے تعلقات کی تینوں جہتوں (اللہ، معاشرے اور افراد) کی اصلاح کرتی ہے :
    پڑوسی کے حقوق: پڑوسی خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس کے ساتھ حسنِ سلوک اور اکرام لازم ہے ۔ پڑوسی کے حقوق کی تاکید خود جبرئیل علیہ السلام نے مسلسل فرمائی تاکہ معاشرے میں امن اور استحکام پیدا ہو ۔
    مہمان نوازی: مہمان کا اکرام انبیاء (خصوصاً سیدنا ابراہیم علیہ السلام) کی سنت ہے ۔ اس میں خوش اخلاقی، سلام کرنا، ضرورت پوری کرنا، عیب پوشی اور دل جوئی جیسے تمام پہلو شامل ہیں، جو باہمی محبت کا ذریعہ بنتے ہیں ۔
  • ۴
    اخلاقی نظام اور اسلام کی جامعیت:
    حقوق کی جامع ادائیگی: اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح بھی اس کا اہم مقصد ہے ۔ یہ حدیث اللہ کے حقوق (زبان کی حفاظت) اور بندوں کے حقوق (پڑوسی و مہمان کا اکرام) دونوں کو یکجا کرتی ہے ۔
    بخل کی مذمت اور اتحاد: حدیث میں اکرام کا بار بار حکم بخل اور دنیا پرستی کی نفی کرتا ہے ۔ ان حقوق کی ادائیگی سے شیطانی وسوسوں کا خاتمہ ہوتا ہے اور اسلامی معاشرہ ایک مضبوط اور متحد اکائی بن جاتا ہے ۔
    جوامع الکلم: یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے جامع ترین کلمات میں سے ہے، جس پر پورے اسلامی اخلاقی نظام کی بنیاد قائم ہے ۔