Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 17

ہر کام میں احسان اور عمدگی اختیار کرنے کا بیان

عَنْ أَبِي يَعْلَى شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ»۔

[رواه مسلم]

ترجمہ:

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (بہترین طریقہ اختیار کرنے) کو لازم قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو (جنگ میں یا قصاص میں) تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حدیث کی عظمت اور بنیادی اصول:
    یہ حدیث مکارمِ اخلاق اور حسنِ معاشرت کی بنیادی ترین احادیث میں سے ہے ۔ یہ اسلام کے ایک عظیم ترین آفاقی اصول "ہر چیز میں احسان اور عمدگی" کی بنیاد فراہم کرتی ہے، جس کے تحت دین و دنیا کا ہر شعبہ آ جاتا ہے ۔
  • ۲
    نبوی طرزِ تعلیم و تربیت:
    اس حدیث میں آپ ﷺ کا بہترین تدریسی اسلوب نظر آتا ہے کہ پہلے ایک عام قانون بیان فرمایا: "اللہ نے ہر چیز میں احسان فرض کیا ہے"، پھر اس کی وضاحت کے لیے قتل اور ذبح جیسی عملی مثالیں پیش کیں تاکہ بات پوری طرح سمجھ میں آ جائے ۔ لہٰذا حکم میں اس بات کی نبوی ہدایت موجود ہے کہ قتل کرتے وقت بھی احسان اور اچھے رویے کا مظاہرہ کیا جائے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس شخص کا خون قصاص یا حالتِ جنگ میں مباح (جائز) قرار دیا گیا ہو، اس کی جان جلدی اور آسانی سے نکالی جائے ۔ اور اگرچہ مسلمانوں کے لیے ان سے جنگ کرنے والوں کے ساتھ برابری کا معاملہ کرنا جائز ہے، لیکن یہ بات ان کے لیے مقتولین کے ساتھ 'مثلہ' (نعشوں کو بگاڑنے) اور بلا کسی شرعی سبب کے لاشوں کو مسخ کرنے کو ہرگز جائز نہیں بناتی؛ کیونکہ یہ فعل ان اعلیٰ و ارفع اخلاقی اقدار کے منافی ہے جن کی دعوت ہمارا دینِ حنیف (اسلام) دیتا ہے ۔
  • ۳
    لفظ "احسان" کا اصل مطلب:
    احسان کا مطلب صرف عبادت یا خیرات نہیں، بلکہ "اتقان" یعنی کسی بھی کام کو مکمل مہارت، اخلاص اور بہترین طریقے سے انجام دینا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بندے سے عمل کی مقدار (کثرت) سے زیادہ اس کی کوالٹی (عمدگی اور حسن) کو پسند کرتا ہے ۔
  • ۴
    اسلام کا آفاقی مزاج اور رحمت:
    یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کے تمام احکام کے پیچھے حکمت، خیرخواہی اور رحمت موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ خود بھی محسن ہے اور اس نے ہر معاملے میں ظلم، سختی اور بے رحمی کو حرام قرار دے کر احسان کو لازم کیا ہے ۔
  • ۵
    جانوروں کے حقوق اور اسلامی تعلیمات:
    اسلام جانوروں پر بھی ظلم کی اجازت نہیں دیتا ۔ ذبح کے وقت احسان کا تقاضا یہ ہے کہ چھری اچھی طرح تیز ہو اور عمل جلدی کیا جائے تاکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو ۔ جانور کے سامنے چھری تیز کرنا یا ایک جانور کے سامنے دوسرے کو ذبح کرنا خلافِ احسان اور ممنوع ہے ۔
  • ۶
    جنگ اور انتقام میں بھی احسان:
    شریعتِ اسلامیہ دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف سکھاتی ہے ۔ جنگ یا سزا کے وقت (قتل کے معاملے میں بھی) دشمنوں کے مثلے (جسمانی اعضاء کاٹنے) یا تڑپا تڑپا کر مارنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ وہاں بھی احسان اور اچھے طریقے کا حکم ہے ۔
  • ۷
    پیشہ ورانہ مہارت (Professionals) کا حکم:
    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسلمان کو اپنے کام میں ماہر ہونا چاہیے ۔ ایک استاد کی تدریس، قاضی (جج) کا فیصلہ، تاجر کی تجارت اور کسی بھی ملازم کی ڈیوٹی، سب میں احسان یعنی بہترین کارکردگی دکھانا شرعی ذمہ داری ہے ۔
  • ۸
    خاندانی اور سماجی تعلقات میں احسان:
    گھریلو اور معاشرتی زندگی کی کامیابی احسان پر قائم ہے ۔ والدین کا اولاد کی تربیت کرنا، میاں بیوی کے باہمی حقوق، رشتہ داروں، ہمسایوں اور خادموں (ملازمین) کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا احسان کی اہم ترین شکلیں ہیں ۔
  • ۹
    دعوتِ دین کا بنیادی ہتھیار:
    دین کی دعوت میں نرمی، حکمت اور احسان کا رویہ دلوں کو فتح کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے ۔ اسلام کی کامیابی کا ایک بڑا راز یہی صفتِ احسان ہے جو ماحول اور تمام مخلوقات کے حقوق کا خیال رکھنا سکھاتی ہے ۔
  • ۱۰
    دنیا و آخرت کی کامیابی کا سبب:
    احسان انسان کے کردار کو اعلیٰ بناتا ہے ۔ قرآن کریم گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں (محسنین) سے محبت کرتا ہے، اور یہ صفتِ احسان ہی دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔