Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 19

اللہ تعالیٰ کی حفاظت، توکل، اور تقدیر پر ایمان کا بیان

عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ ﷺ يَوْمًا، فَقَالَ: «يَا غُلَامُ، إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ: احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ»۔

(رواه الترمذي وقال: حديث حسن صحيح)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریم ﷺ کے پیچھے (سواری پر) تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لڑکے! میں تمہیں چند اہم باتیں سکھاتا ہوں: اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا۔ اللہ کے حقوق کا خیال رکھو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب سوال کرو تو اللہ ہی سے سوال کرو، اور جب مدد طلب کرو تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔ اور جان لو کہ اگر پوری امت جمع ہو کر تمہیں کوئی فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتی ہے جتنا اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر پوری امت جمع ہو کر تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اتنا ہی نقصان پہنچا سکتی ہے جتنا اللہ نے تمہارے حق میں لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں“۔ [ترمذی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اسلوبِ تربیت اور دعوتِ دین:
    پیار اور تواضع: نبی ﷺ کا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھانا تواضع اور محبت بھرے انداز کی دلیل ہے ۔
    تربیتِ اولاد و حکمت: بچوں اور کم عمر افراد کو مختصر، جامع اور تمہید کے ساتھ عقیدے کی تعلیم دینی چاہیے تاکہ ان کی توجہ قائم رہے ۔
    وقت کا بہترین استعمال: سفر یا سواری جیسے مواقع کو بھی مفادِ عامہ اور تعلیم و تربیت کے لیے استعمال کرنا چاہیے ۔
  • ۲
    اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور خاص معیت:
    جزاء عمل کے مطابق: جو شخص اللہ کی حدود اور احکام کی حفاظت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت (مال، اولاد، دین) میں اس کی حفاظت فرماتا ہے ۔
    معیتِ الٰہی: اللہ کے احکام پر عمل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت، تائید اور رہنمائی حاصل ہوتی ہے ۔
  • ۳
    توحید، دعا اور استعانت (صرف اللہ سے سوال):
    عبادت اور حاجت روائی: سوال اور استعانت (مدد مانگنا) عبادت کی روح ہیں ۔ حقیقی نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ ہے، لہٰذا غیر اللہ سے مدد مانگنا شرک ہے ۔
    خوشحالی اور تنگی کا تعلق: خوشحالی اور راحت کے ایام میں اللہ کو یاد رکھنے والے کو اللہ تعالیٰ مصیبت اور تنگی کے وقت سنبھالتا ہے ۔
    قلبی قوت و استقامت: جو انسان اپنی تمام امیدیں اللہ سے وابستہ کر لیتا ہے، اس کے اندر شجاعت، استقامت اور صبر پیدا ہوتا ہے ۔
  • ۴
    قضا و قدر (تقدیر) اور رضا بالقضاء:
    تقدیر پر کامل ایمان: دنیا کی تمام مخلوق مل کر بھی نہ تو اللہ کے لکھے سے زیادہ فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان ۔
    اسباب اور توکل: تقدیر پر یقین کے ساتھ ساتھ ظاہری اسباب اور دعا اختیار کرنا ضروری ہے؛ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے منافی نہیں ۔
    رضا اور تسلیم: تقدیر کے فیصلوں پر راضی رہنا صبر سے بھی اعلیٰ مقام ہے اور یہ بندے کے دل میں سکون پیدا کرتا ہے ۔
  • ۵
    صبر، کشادگی اور دنیا کی حقیقت:
    کامیابی کا راستہ: کامیابی اور غلبہ صبر ہی کے نتیجے میں ملتا ہے؛ جلد بازی اور بے صبری سے مقصد حاصل نہیں ہوتا ۔
    تنگی کے بعد آسانی: جب مصیبت اور تنگی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، تو یہ اللہ کی طرف سے کشادگی (فرج) کی علامت ہوتی ہے، کیونکہ اس وقت بندہ مخلوق سے مایوس ہو کر صرف اللہ سے جڑ جاتا ہے ۔
    دنیا کی حقیقت: دنیا آزمائش کی جگہ ہے، اس کے حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔ اس لیے سختی پر صبر اور راحت پر شکر مؤمن کا شیوہ ہے ۔
    خلاصہ: یہ حدیث دراصل توحیدِ خالص، توکل، تقدیر پر رضا، اصلاحِ نفس اور صبر و استقامت کا ایک مکمل اور عملی نصاب ہے ۔