Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 20

حیا کی اہمیت اور اس کے معاشرتی اثرات کا بیان

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ الْبَدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ»۔

(رواه البخاري)

ترجمہ:

حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک لوگوں نے پہلی نبوتوں کے کلام میں سے جو بات پائی ہے وہ یہ ہے کہ: جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہو کرو“۔ [صحیح بخاری]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    انبیاء کی مشترکہ اور تاریخی تعلیم:
    قدیم اخلاقی سبق: حیا تمام انبیاء علیہ السلام کی تعلیمات کا بنیادی حصہ رہی ہے جو نسل در نسل اس امت تک پہنچی۔
    یکساں اخلاقی اصول: تمام انبیاء کا بنیادی اخلاقی پیغام اور مقصد ایک ہی رہا ہے۔
  • ۲
    حیا کی حقیقت اور مقام:
    ایمان کی شاخ: حیا ایمان کا ایک اہم حصہ ہے، جو دل کی زندگی اور ایمانی قوت کی علامت ہے۔
    اللہ کی پسندیدہ صفت: اللہ تعالیٰ حیا کو پسند فرماتا ہے اور حیا دار لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔
    شریعت سے ہم آہنگی: حقیقی حیا انسان کو اللہ کی اطاعت پر ابھارتی ہے۔ شرعی احکام، علم حاصل کرنے یا سچ بولنے میں شرم محسوس کرنا حیا نہیں ہے۔
  • ۳
    کردار اور عمل پر اثرات:
    برائیوں سے بچاؤ: حیا انسان کو گناہوں، بے ہودہ کاموں اور بے وقاری سے روکتی ہے۔
    اللہ کی نگرانی کا احساس: حیا انسان کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی موجودگی اور نگرانی کا احساس دلاتی ہے۔ معرفت بڑھنے سے حیا میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
  • ۴
    بے حیائی کے نقصانات اور حدیث کی تنبیہ:
    گناہوں کا راستہ: حیا ختم ہو جائے تو انسان کھل کر برائیاں اور حقوق العباد کی پامالی کرنے لگتا ہے۔
    سخت تنبیہ: حدیث کا جملہ "جو چاہے کرو" دراصل ایک تنبیہ اور خبر ہے کہ بغیر حیا کے انسان حد سے گزر جاتا ہے اور پھر اسے اپنے عمل کا حساب دینا ہوگا۔
  • ۵
    فرد اور معاشرے پر اثرات:
    پاکیزہ معاشرہ: حیا مرد اور عورت دونوں کے لیے ضروری ہے اور معاشرے میں عفت، پاکیزگی اور امن قائم کرتی ہے۔
    تربیت کا عنصر: بچوں میں حیا کی صفت پیدا کرنا والدین اور اساتذہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
    خلاصہ: حیا ایمان کی محافظ اور حسنِ اخلاق کی بنیاد ہے۔ یہ انسان کو اللہ اور مخلوق کے حقوق ادا کرنے اور ہر قسم کی برائی سے بچنے کی توفیق دیتی ہے۔