حدیث نمبر 21
ایمان اور اس پر استقامت کا بیان
عَنْ أَبِي عَمْرٍو – وَقِيلَ: أَبِي عَمْرَةَ – سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا غَيْرَكَ. قَالَ: «قُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ»۔
(رواه مسلم)
ترجمہ:
حضرت سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتا دیجیے کہ پھر اس کے بعد مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو“۔ [صحیح مسلم]
فوائدِ حدیث:
-
۱
سوال کرنے کا ادب اور علمی اہمیت:
• علم کا حصول: طالب علم کو چاہیے کہ شرم محسوس کیے بغیر مختصر اور جامع سوال پوچھے تاکہ کم وقت میں زیادہ فائدے حاصل ہو سکیں ۔
• ذہانت کا مظاہرہ: موقع کی مناسبت سے ایسا سوال منتخب کرنا چاہیے جو دین کا احاطہ کرے ۔
-
۲
نبی ﷺ کی تعلیم کا اسلوب:
• جوامع الکلم: یہ حدیث آپ ﷺ کے معجزانہ کلام میں سے ہے، جس میں لمبی نصیحت کی بجائے چند الفاظ میں پورے دین کو سمو دیا گیا ہے ۔
-
۳
ایمان کی حقیقت (عقیدہ و عمل):
• ایمان کے ارکان: ایمان صرف زبان یا دعوے کا نام نہیں، بلکہ اس میں زبان کا اقرار، دل کا اعتقاد اور اعضا کا عمل شامل ہیں ۔
• توحید اور عمل کا تعلق: صحیح عقیدے («آمنت بالله») کے بغیر عمل میں استقامت («ثم استقم») ممکن نہیں، اور عمل کے بغیر محض دعویٰ بے سود ہے ۔
-
۴
استقامت کا مفہوم اور تقاضے:
• جامعیت: استقامت کا مطلب صرف عبادات کی پابندی نہیں بلکہ عقیدے، عبادات، اخلاق اور معاملات میں سیدھی راہ پر قائم رہنا ہے ۔
• جہادِ نفس: استقامت میں محنت، صبر اور نفس سے جہاد شامل ہے؛ یہ کسی عارضی جوش کا نہیں بلکہ مستقل بندگی کا نام ہے ۔
• انحراف سے پاک: دین پر بغیر کسی کجی یا بدعت کے قائم رہنا اور خوشی و غم دونوں حالتوں میں اللہ کے حکم پر چلنا ۔
-
۵
استقامت حاصل کرنے کے ذرائع:
• بنیادی اسباب: اخلاصِ نیت، دل کی اصلاح، صحیح علم، اور صالحین کی صحبت ۔
• لغزشوں کا علاج: چونکہ کامل استقامت میں کمی رہ جاتی ہے، اس لیے استغفار اور توبہ اس کمی کو پورا کر کے بندے کو دوبارہ درست راستے پر لاتے ہیں ۔
-
۶
استقامت کے ثمرات و نتائج:
• کامیابی کا ذریعہ: استقامت فتنوں کے دور میں حق پر قائم رکھتی ہے، شیطان کے وار سے بچاتی ہے اور دنیا و آخرت کی کامیابی و جنت کی بشارت کا باعث بنتی ہے ۔
• حاصلِ کلام: یہ حدیث دین کے دو عظیم ستونوں کو جمع کرتی ہے: صحیح ایمان اور اس پر دائمی ثابت قدمی ۔