Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 22

فرائض کی پابندی اور حلال و حرام کی تمیز سے نجات کا بیان

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَاتِ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔

(رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

ترجمہ:

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ”آپ مجھے بتائیے! اگر میں فرض نمازیں ادا کروں، رمضان کے روزے رکھوں، حلال کو حلال سمجھوں، حرام کو حرام سمجھوں، اور اس پر کوئی اضافہ نہ کروں، تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    ایمان و عمل کا تعلق اور درجات:
    ایمان میں کمی و بیشی: ایمان عمل سے بڑھتا اور گھٹتا ہے، اور تمام مسلمانوں کے ایمانی درجات ایک جیسے نہیں ہوتے ۔
    اعمال ایمان کا حصہ ہیں: محض عقیدہ کافی نہیں بلکہ فرائض و واجبات کی ادائیگی اور عملِ صالح ہی نجات کا ذریعہ ہے ۔
  • ۲
    شریعت کا بنیادی معیار (حسبِ استطاعت نجات):
    فرائض مقدم ہیں: دین میں اصل بنیاد فرائض کی حفاظت اور حرام سے بچنا ہے ۔ جو اس پر ثابت قدم رہے، وہ کامیابی کے راستے پر ہے ۔
    نوافل کی اہمیت: صرف فرائض پر اکتفا کرنا جائز ہے، لیکن بلند ہمت لوگ نوافل اختیار کر کے مزید قرب حاصل کرتے ہیں ۔
  • ۳
    حلال و حرام کا اختیار:
    حاکمِ مطلق صرف اللہ ہے: حلال و حرام کا تعین اللہ کے اختیار میں ہے ۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے اور اپنی خواہشات کو معیار نہ بنائے ۔
  • ۴
    تربیت اور دعوت میں آسان انداز:
    دین میں اعتدال و آسانی: شریعت میں مشقت یا رہبانیت (دنیا سے کٹ جانا) نہیں، بلکہ یہ اعتدال کی تعلیم دیتی ہے ۔
    مخاطب کے حال کی مراعات: داعی اور عالم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے حالات اور ایمانی سطح کا لحاظ رکھتے ہوئے آسان اور واضح رہنمائی کرے ۔
  • ۵
    علم و حکمتِ سوال:
    علماء کے پاس بیٹھنے کا فائدہ: طالبِ علم کو علماء کے سوال و جواب پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں دین کے کثیر فوائد ہوتے ہیں ۔
    صحابہ کی فکرِ آخرت: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سوالات کا محور دنیاوی مفاد نہیں بلکہ آخرت اور جنت کا حصول ہوتا تھا ۔
    خلاصہ: حقیقی کامیابی فرائض کی پابندی، حلال و حرام کی تمیز، اخلاصِ نیت اور اللہ کی رحمت پر بھروسہ کرنے میں ہے ۔