Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 23

طہارت، اذکار، عبادات کی حقیقت اور اعمال کی تجارت کا بیان

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْحَارِثِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآنِ – أَوْ تَمْلَأُ – مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا»۔

(رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

ترجمہ:

حضرت ابو مالک حارث بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پاکیزگی (طہارت) ایمان کا نصف ہے، اور 'الحمد للہ' میزان کو بھر دیتی ہے، جبکہ 'سبحان اللہ' اور 'الحمد للہ' دونوں آسمان و زمین کے درمیان کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ (ایمان کی) دلیل ہے، صبر روشنی ہے، اور قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان صبح کرتا ہے، پھر کوئی اپنی جان کو (اللہ کی اطاعت کے ذریعے) بیچ کر آزاد کر لیتا ہے، اور کوئی (گناہوں کے ذریعے) اسے ہلاک کر دیتا ہے“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    طہارت اور ایمان کی اہمیت:
    وضو اور پاکیزگی: ظاہری طہارت (وضو و غسل) باطنی ایمان کا نصف اور اس کی تکمیلی بنیاد ہے ۔
    اعمال اور ایمان: وضو کو ایمان کا حصہ قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اعمالِ صالحہ ایمان کا لازمی جزو ہیں ۔
    نماز کی حفاظت: وضو کی پابندی کرنے والا شخص اپنی نماز کی حفاظت کرتا ہے، جبکہ وضو میں سستی نماز میں کاہلی کا سبب بنتی ہے ۔
  • ۲
    ذکرِ الہٰی کی فضیلت اور میزانِ اعمال:
    الحمد للہ اور سبحان اللہ کا مقام: "الحمد للہ" کہنا تمام نعمات کے اعتراف اور کامل صفاتِ الہٰی کے اثبات کی وجہ سے سب سے افضل ذکر ہے، جو قیامت کے دن میزان کو بھر دے گا ۔
    آسمان و زمین کی وسعت: "سبحان اللہ" اور "الحمد للہ" کا مشترکہ اجر زمین و آسمان کی درمیانی وسعت کے برابر ہے ۔
    حقِ میزان: قیامت کے دن اعمال کے تولے جانے (میزان) کا حق ہونا ثابت ہوتا ہے ۔
  • ۳
    عبادات کی حقیقت اور ان کا اثر:
    نماز – ہدایت و روشنی: نماز دنیا میں گناہوں سے بچاتی ہے اور آخرت میں مؤمن کے لیے نورِ ہدایت اور روشنی بنے گی ۔
    صدقہ – ایمان کی دلیل: نفس کو مال سے محبت ہوتی ہے؛ لہٰذا اللہ کے لیے مال خرچ کرنا بندے کے خلوص اور سچے ایمان کی علامت (برہان) ہے ۔
    صبر – ضیاء (روشنی و حرارت): صبر میں مشقت اور حرارت ضرور ہوتی ہے، مگر اس کا انجام کامیابی اور کشادگی ہے ۔ صبر کی تینوں قسمیں (اطاعت پر، گناہ سے بچنے پر، اور مصائب پر) تمام عبادات کی بنیاد ہیں ۔
  • ۴
    قرآنِ مجید اور بندے کا تعلق:
    حجت یا دلیل: قرآن محض تلاوت کے لیے نہیں؛ اگر اس پر عمل کیا جائے تو یہ نجات کی سفارش کرے گا، اور اگر اس کی حدود کو پامال کیا جائے تو یہ خلافِ گواہی دے گا ۔
  • ۵
    انسانی ارادہ، عمل اور آخرت کی تجارت:
    روزمرہ کی سودے بازی: ہر انسان روزانہ اپنے اعمال سے آخرت کی تجارت کرتا ہے؛ یا تو وہ اپنی جان کو اللہ کی اطاعت میں بیچ کر جہنم سے آزاد کرواتا ہے، یا گناہوں کی غلامی میں ہلاک کر دیتا ہے ۔
    انسان کا اختیار و ذمہ داری: انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ارادہ و اختیار دیا ہے کہ وہ محنت کر کے اپنی نجات کا راستہ چنے ۔
    ترغیب و ترہیب: انسان کو کاہلی چھوڑ کر نیک اعمال کی طرف راغب ہونا چاہیے، کیونکہ حقیقی آزادی اور کامیابی اللہ کی اطاعت میں ہے ۔
    خلاصۂ حدیث: یہ حدیثِ مبارکہ عقیدہ، عبادات، اخلاق اور اصلاحِ ظاہر و باطن کا مجموعہ ہے ۔ یہ انسان کو بتاتی ہے کہ ظاہری پاکیزگی سے لے کر باطنی اذکار، نماز، صدقہ، صبر اور اتباعِ قرآن ہی اس کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا حقیقی ذریعہ ہیں ۔