Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 24

اللہ تعالیٰ کی بے نیازی، عدل، رحمت اور بندوں کی محتاجی کا بیان (حدیثِ قدسی)

عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنَّهُ قَالَ: «يَا عِبَادِي، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوا. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ، فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ، فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ. يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ. يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضُرِّي فَتَضُرُّونِي، وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلُونِي، فَأَعْطَيْتُ كُلَّ وَاحِدٍ مَسْأَلَتَهُ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ. يَا عِبَادِي، إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ»۔

(رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

ترجمہ:

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے، لہٰذا ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو، سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، لہٰذا مجھ سے رزق مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو، سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہٰذا مجھ سے لباس مانگو، میں تمہیں لباس دوں گا۔ اے میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے رہتے ہو، اور میں تمام گناہوں کو بخش دیتا ہوں، لہٰذا مجھ سے مغفرت مانگو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم نہ مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو اور نہ نفع۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن سب کے سب ایک سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہی میں کچھ اضافہ نہیں ہوگا۔ اور اگر سب کے سب سب سے زیادہ فاجر شخص کے دل جیسے ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہی میں کچھ کمی نہیں ہوگی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن ایک میدان میں جمع ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر ایک کو اس کا مطلوب عطا کر دوں، تو میرے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں ہوگی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈالنے سے ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں، میں انہیں شمار کر کے تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے، اور جو اس کے علاوہ کچھ پائے وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اللہ تعالیٰ کی عظمت، بے نیازی اور سخاوت:
    کامل بے نیازی: اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے یکسر بے نیاز ہے۔ بندوں کی عبادات و طاعات اس کی سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں کرتیں اور نہ ان کی نافرمانیاں اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔
    لامحدود خزانے: تمام انسان اور جنات مل کر بھی اپنی تمام تر خواہشات مانگ لیں اور اللہ سب کی حاجات پوری کر دے، تب بھی اس کے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں آتی جتنی سمندر میں سوئی ڈوبو کر نکالنے سے پانی میں آتی ہے ۔
    بے پایاں حلم اور فضل: بندے دن رات گناہ کرتے ہیں لیکن وہ فوراً سزا نہیں دیتا، بلکہ انتہائی شفقت و حلم کے ساتھ انہیں توبہ، ہدایت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے ۔
  • ۲
    ظلم کی حرمت اور کمالِ عدل:
    ظلم کی ممانعت: اللہ تعالیٰ نے اپنے کمالِ عدل کی وجہ سے ظلم کو اپنی ذات پر حرام کیا ہے اور اپنے بندوں کے درمیان بھی اسے قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے ۔
    شرک و حق تلفی: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، غیر اللہ کو پکارنا اور مخلوق کے حقوق پامال کرنا ظلم کی سخت ترین صورتیں ہیں ۔
  • ۳
    بندے کی ہمہ وقت محتاجی:
    دینی و دنیوی محتاجی: انسان ہدایت، رزق، لباس، مغفرت اور نفع و نقصان غرض ہر معاملے میں ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے ۔
    رسول اللہ ﷺ کی بعثت: اللہ نے آپ ﷺ کو مبعوث فرما کر اور اپنی کتاب نازل کر کے بندوں کو گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کا نور عطا فرمایا ۔
  • ۴
    ایمان، استغفار اور اعمالِ قلب:
    ایمان کی بنیادیں: اس حدیث میں دین کے بنیادی قلبی اعمال جمع ہیں: محبت (اللہ کے فضل سے)، امید (اس کی مغفرت سے)، اور خوف (اس کے حساب و عدل سے) ۔
    توبہ و استغفار: بندہ کتنے ہی گناہ کیوں نہ کر بیٹھے، اگر سچے دل سے استغفار کرے تو اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے ۔
    اصل معیار (تقویٰ): انسانی اعمال اور کیفیت کی اصل بنیاد دل کا تقویٰ یا فجور ہے ۔
  • ۵
    اعمال کی جزا، سزا اور محاسبہ:
    اعمال کی حفاظت: اللہ تعالیٰ بندوں کے تمام اعمال (خواہ وہ انسان ہوں یا جنات) کو گن کر محفوظ رکھتا ہے ۔
    توفیق و محاسبہ: ہدایت اور نیکی کی توفیق اللہ کا فضل ہے جس پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے، جبکہ گناہ اور برائی بندے کا اپنا فعل ہے جس پر اسے اپنے نفس کا محاسبہ اور استغفار کرنا چاہیے ۔
    نجات کا ذریعہ: جنت میں دخول اور نجات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے ممکن ہے ۔