جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی
عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنَّهُ قَالَ: «يَا عِبَادِي، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوا. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ، فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ. يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ، فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ. يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ. يَا عِبَادِي، إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضُرِّي فَتَضُرُّونِي، وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي، لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلُونِي، فَأَعْطَيْتُ كُلَّ وَاحِدٍ مَسْأَلَتَهُ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ. يَا عِبَادِي، إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ»۔
(رَوَاهُ مُسْلِمٌ)حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے، لہٰذا ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو، سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، لہٰذا مجھ سے رزق مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو، سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہٰذا مجھ سے لباس مانگو، میں تمہیں لباس دوں گا۔ اے میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے رہتے ہو، اور میں تمام گناہوں کو بخش دیتا ہوں، لہٰذا مجھ سے مغفرت مانگو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم نہ مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو اور نہ نفع۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن سب کے سب ایک سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہی میں کچھ اضافہ نہیں ہوگا۔ اور اگر سب کے سب سب سے زیادہ فاجر شخص کے دل جیسے ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہی میں کچھ کمی نہیں ہوگی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، انسان اور جن ایک میدان میں جمع ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر ایک کو اس کا مطلوب عطا کر دوں، تو میرے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں ہوگی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈالنے سے ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں، میں انہیں شمار کر کے تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے، اور جو اس کے علاوہ کچھ پائے وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے“۔ [صحیح مسلم]