Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 27

نیکی اور گناہ کی بنیادی پہچان، حسنِ اخلاق اور باطنی ضمیر کی رہنمائی کا بیان

عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ»۔ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: «جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «اسْتَفْتِ قَلْبَكَ، الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ، وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ»۔

(حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فِي مُسْنَدِهِ، وَالدَّارِمِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ)

ترجمہ:

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم یہ پسند نہ کرو کہ لوگ اس پر مطلع ہوں“۔ [صحیح مسلم]
اور حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نیکی کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے دل سے فتویٰ لو۔ نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو اور دل کو سکون حاصل ہو، جبکہ گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے، سینے میں بار بار تردد پیدا کرے، اگرچہ لوگ تمہیں اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیتے رہیں“۔ [مسند احمد، سنن الدارمی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    نیکی اور گناہ کی بنیادی پہچان:
    نیکی: وہ عمل ہے جس سے انسان کے دل اور نفس کو سکون، اطمینان اور خوشی حاصل ہو[cite: 15]۔ نیکی میں اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق (حسنِ اخلاق) دونوں شامل ہیں[cite: 15]۔
    گناہ: وہ عمل ہے جو دل میں بے چینی، اضطراب اور کھٹک پیدا کرے، اور انسان کو یہ ڈر ہو کہ لوگوں کو اس کا علم نہ ہو جائے[cite: 15]۔
  • ۲
    حسنِ اخلاق کی اہمیت:
    نیکی کا اہم ترین حصہ: اچھا اخلاق نیکی کا سب سے اہم حصہ اور جنت میں رسول اللہ ﷺ کی قربت کا ذریعہ ہے[cite: 15]۔
    اعلیٰ اوصاف: اس میں لوگوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کے ساتھ ساتھ سچائی، صبر، معاف کرنا اور امانت داری جیسے تمام اعلیٰ اوصاف شامل ہیں[cite: 15]۔
    دعوت کا ذریعہ: یہی حسنِ اخلاق دعوتِ دین اور معاشرتی اصلاح کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے[cite: 15]۔
  • ۳
    زندہ ضمیر اور باطنی پاکیزگی:
    زندہ ضمیر: مؤمن کا ضمیر زندہ ہوتا ہے، اس لیے وہ گناہ پر بے چینی محسوس کرتا ہے، جبکہ مسلسل گناہ انسان کے دل کو سخت کر دیتے ہیں[cite: 15]۔
    باطنی اصلاح: اسلام صرف ظاہری اعمال نہیں بلکہ باطنی پاکیزگی اور دل کے اطمینان کی بھی اصلاح کرتا ہے[cite: 15]۔
  • ۴
    تقویٰ اور مشتبہ امور سے بچاؤ:
    حقیقی تقویٰ: جس بات میں دل میں شک یا کھٹک پیدا ہو، اس سے بچنا ہی حقیقی تقویٰ اور ورع ہے[cite: 15]۔
    اخلاصِ نیت: ہر عمل اللہ کی رضا (اخلاص) کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ لوگوں کو دکھانے یا شہرت کے لیے[cite: 15]۔
  • ۵
    شرعی رہنمائی اور محاسبہ:
    شرعی بصیرت: مسلمان کو صرف لوگوں کی دیکھا دیکھی کام کرنے کے بجائے اہلِ علم اور شریعت کی روشنی میں غور کرنا چاہیے[cite: 15]۔
    "دل سے فتویٰ لو" کا اصول: اس کا حکم صرف وہاں ہے جہاں واضح شرعی حکم (نص) موجود نہ ہو[cite: 15]۔ اگر واضح حکم موجود ہو تو صرف دل کے احساس پر عمل نہیں کیا جائے گا[cite: 15]۔
    خود احتسابی: انسان کو ہر وقت اپنا محاسبۂ نفس (خود احتسابی) کرتے رہنا چاہیے[cite: 15]۔