جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی
عَنْ أَبِي نَجِيحٍ العِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَأَوْصِنَا. قَالَ: «أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»۔
(رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ)حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسا مؤثر وعظ فرمایا کہ اس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ رخصت ہونے والے شخص کی نصیحت ہے، لہٰذا ہمیں کوئی وصیت فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے (تقویٰ اختیار کرنے)، اور (مسلمان) حاکم کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی غلام ہی امیر بنا دیا جائے۔ کیونکہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔ ایسے وقت میں میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھام لینا، اسے اپنے داڑھ کے دانتوں سے پکڑ لینا، اور دین میں نئی نئی باتیں ایجاد کرنے سے بچنا، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے“۔ [سنن ابی داود، سنن الترمذی]