Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 28

وصیتِ تقویٰ، اطاعتِ امیر، سنتِ نبوی و خلفائے راشدین پر تمسک اور ردِّ بدعت کا بیان

عَنْ أَبِي نَجِيحٍ العِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَأَوْصِنَا. قَالَ: «أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»۔

(رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ)

ترجمہ:

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسا مؤثر وعظ فرمایا کہ اس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ رخصت ہونے والے شخص کی نصیحت ہے، لہٰذا ہمیں کوئی وصیت فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے (تقویٰ اختیار کرنے)، اور (مسلمان) حاکم کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی غلام ہی امیر بنا دیا جائے۔ کیونکہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔ ایسے وقت میں میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھام لینا، اسے اپنے داڑھ کے دانتوں سے پکڑ لینا، اور دین میں نئی نئی باتیں ایجاد کرنے سے بچنا، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے“۔ [سنن ابی داود، سنن الترمذی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    وعظ و نصیحت کا اثر اور طریقہ:
    نصیحت دل کے لیے نہایت مفید ہے ۔ عالم اور داعی کو چاہیے کہ وہ مؤثر اور خوبصورت الفاظ میں مخلصانہ وعظ کرے تاکہ سننے والوں کے دلوں میں خشیتِ الہٰی پیدا ہو اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوں ۔
  • ۲
    صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا اسوہ:
    صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم دل کے نرم اور اللہ سے ڈرنے والے تھے ۔ وہ انتہائی توجہ اور غور سے وعظ سنتے تھے، موقع کی مناسبت سے نصیحت کی درخواست کرتے تھے اور اس پر عمل کی حرص رکھتے تھے ۔
  • ۳
    جامع ترین وصیت (تقویٰ):
    دین کی سب سے عظیم وصیت تقویٰ (اللہ کا خوف) ہے، کیونکہ یہی تمام نیکیوں کے بجا لانے اور تمام برائیوں سے بچنے کا بنیادی ذریعہ ہے ۔
  • ۴
    حکمرانوں کی اطاعت اور اتحادِ امت:
    شرعی حدود اور معروف کاموں میں مسلمان حکمران کی بات سننا اور اطاعت کرنا واجب ہے ۔ یہ اطاعت امت کے نظم و ضبط، دین کی حفاظت اور انتشار سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے ۔
  • ۵
    نبوی پیشگوئی اور معجزہ:
    نبی کریم ﷺ نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ آپ کے بعد امت میں شدید اختلافات اور فتنے رونما ہوں گے، اور تاریخ نے اس معجزانہ پیشگوئی کی مکمل تصدیق کی ۔
  • ۶
    فتنوں اور اختلافات کا حل:
    دورِ فتن اور اختلافات میں کامیابی کا واحد ذریعہ چار چیزیں ہیں: اللہ تعالیٰ کا تقویٰ، شرعی حدود میں امیر کی اطاعت، سنتِ نبوی کو مضبوطی سے تھامنا، اور دین میں نئی نئی باتیں (بدعات) ایجاد کرنے سے بچنا ۔
  • ۷
    خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے طریقے کی حجیت:
    سنتِ نبوی کے ساتھ ساتھ خلفائے راشدین (ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم) کا طریقہ اور اجتہاد بھی امت کے لیے شرعی حجت اور معیارِ حق ہے ۔
  • ۸
    سنت سے شدید تمسک:
    سنت کو محض اپنانا ہی نہیں بلکہ انتہائی مضبوطی سے (داڑھوں سے) چمٹے رہنا لازم ہے، کیونکہ فتنوں سے نجات کسی شخص یا جماعت کی اندھی تقلید میں نہیں بلکہ صرف اور صرف سنتِ رسول ﷺ میں ہے ۔
  • ۹
    بدعت کی مذمت اور حقیقت:
    دین میں ہر نئی دینی ایجاد (بدعت) گمراہی ہے اور اس سے سختی سے بچنا واجب ہے ۔ دین میں کوئی بھی بدعت حقیقتاً "اچھی" نہیں ہو سکتی، کیونکہ خلفائے راشدین کے طریقے سے ہٹ کر ہر نئی دینی چیز مردود ہے ۔
  • ۱۰
    اہل السنۃ والجماعۃ کا جامع منہج:
    یہ حدیث اہل السنۃ والجماعۃ کا بنیادی منشور ہے، جو عقیدہ، عبادت، سیاست، اور اجتماعیت کے تمام اہم ترین اصولوں کو اپنے اندر جامع انداز میں سمیٹے ہوئے ہے ۔