جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ. قَالَ: «لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ: تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ». ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ». ثُمَّ تَلَا: ﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ حَتَّى بَلَغَ: ﴿يَعْمَلُونَ﴾. ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ». ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِك كُلِّهِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ وَقَالَ: «كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا». قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ؟ فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ – أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ – إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟»
(رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے بہت عظیم بات پوچھی ہے، لیکن جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے اس کے لیے یہ آسان ہے: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو“۔
پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور رات کے آخری حصے میں آدمی کی نماز“۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں...“ یہاں تک کہ ”...جو وہ عمل کرتے تھے“۔
پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس دین کے سر، اس کے ستون اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: ضرور، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اس دین کا سر اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی بلند ترین چوٹی جہاد ہے“۔
پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان سب چیزوں کی بنیاد نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: ضرور، اے اللہ کے رسول! چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اسے قابو میں رکھو“۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا ہماری باتوں پر بھی ہماری گرفت ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! تمہاری ماں تمہیں گم پائے، لوگوں کو ان کے چہروں یا نتھنوں کے بل جہنم میں گرانے والی چیز ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی فصل (یعنی زبان کے گناہ) ہی تو ہے“۔ [جامع الترمذی]