Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 29

جنت کا راستہ، ابوابِ خیر، ارکانِ اسلام اور حفظِ لسان (زبان کی حفاظت) کا بیان

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ. قَالَ: «لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ: تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ». ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ». ثُمَّ تَلَا: ﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ حَتَّى بَلَغَ: ﴿يَعْمَلُونَ﴾. ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ». ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِك كُلِّهِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ وَقَالَ: «كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا». قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ؟ فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ – أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ – إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟»

(رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ)

ترجمہ:

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے بہت عظیم بات پوچھی ہے، لیکن جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے اس کے لیے یہ آسان ہے: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو“۔

پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور رات کے آخری حصے میں آدمی کی نماز“۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں...“ یہاں تک کہ ”...جو وہ عمل کرتے تھے“۔

پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس دین کے سر، اس کے ستون اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: ضرور، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اس دین کا سر اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی بلند ترین چوٹی جہاد ہے“۔

پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان سب چیزوں کی بنیاد نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: ضرور، اے اللہ کے رسول! چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اسے قابو میں رکھو“۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا ہماری باتوں پر بھی ہماری گرفت ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معاذ! تمہاری ماں تمہیں گم پائے، لوگوں کو ان کے چہروں یا نتھنوں کے بل جہنم میں گرانے والی چیز ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی فصل (یعنی زبان کے گناہ) ہی تو ہے“۔ [جامع الترمذی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    سوال اور تعلیم کا طریقہ (معلم و متعلم کا کردار):
    مفید سوال کی اہمیت: طالب علم کو ہمیشہ با مقصد اور عملی فائدہ دینے والے سوالات پوچھنے چاہئیں ۔
    معلم کا مؤثر انداز: استاد کو چاہیے کہ اچھے سوال پر طالب علم کی حوصلہ افزائی کرے اور تشویق، تجسس، عملی اشارے اور سوالیہ انداز جیسے تربیتی اسالیب اپنائے ۔
    اضافی معلومات دینا: استاد اگر مناسب سمجھے تو اصل سوال کے جواب کے ساتھ مزید مفید رہنمائی بھی فراہم کر سکتا ہے ۔
  • ۲
    توفیقِ الہٰی اور اعمال کی بنیاد:
    توفیقِ الہٰی: انسان کو نیکی کی توفیق صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے، اس لیے ہمیشہ اللہ سے رجوع اور دعا کرنی چاہیے ۔
    ایمان اور اعمال: اعمال ایمان کا بنیادی حصہ ہیں، اور اسلام کے ارکان ہی جنت میں داخلے اور جہنم سے نجات کا اصل ذریعہ ہیں ۔
    توحید (شہادتین): صرف ایک اللہ کی خالص عبادت کرنا تمام عبادات کی اصل اور بنیاد ہے ۔
  • ۳
    خیر کے دروازے اور نفل عبادات:
    روزہ: انسان کے لیے گناہوں اور حرام کاموں سے بچاؤ کی ڈھال ہے ۔
    صدقہ: گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، نیز یہ مال میں برکت اور پاکیزگی کا باعث ہے ۔
    قیام اللیل (تہجد): رات کی نماز گناہوں کی تلافی اور اخلاص کا بہترین ذریعہ ہے ۔
    پوشیدہ اعمال: روزے، صدقے اور تہجد جیسے خفیہ اعمال میں اخلاص اور قبولیت زیادہ ہوتی ہے ۔
  • ۴
    دینی فرائض اور جہاد کا مقام:
    نماز: دین کا بنیادی ستون ہے ۔
    جہاد: اسلام کی بلند ترین چوٹی اور اعلیٰ ترین مرتبے کی علامت ہے ۔
  • ۵
    زبان کی حفاظت اور اس کے خطرات:
    تمام خیر کی بنیاد: تمام نیکیوں اور دین کی سلامتی کا دارومدار زبان کو قابو میں رکھنے پر ہے ۔
    جہنم کا بڑا سبب: زبان کے گناہ اور بے احتیاطی انسان کو جہنم میں لے جانے کا بڑا ذریعہ بنتے ہیں ۔
    خود احتسابی: مسلمان کو بولنے سے پہلے اپنے ہر لفظ کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ وہ نیکی کا باعث ہے یا برائی کا ۔
  • ۶
    دعوت و تربیت کے دیگر نکات:
    استدلال بالقرآن: گفتگو کے دوران قرآنی آیات سے دلیل دینا اور سنت کو قرآن کی جامع تفسیر ماننا ۔
    کردار سازی: شریعت کا مقصد محض گفتگو نہیں بلکہ انسان کے عمل اور کردار کی اصلاح ہے ۔