Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 33

دعویٰ کے لیے دلیل کی ضرورت اور عدالتی اصولوں کا بیان

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى رِجَالٌ أَمْوَالَ قَوْمٍ وَدِمَاءَهُمْ، لَكِنِ الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ»۔

(حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَغَيْرُهُ)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوے کی بنیاد پر ان کی مطلوبہ چیز دے دی جاتی تو بہت سے لوگ دوسرے لوگوں کے مال اور ان کے خون (جان) کے بارے میں دعوے کرنے لگتے؛ لیکن اصول یہ ہے کہ دعویٰ کرنے والے کے ذمے دلیل پیش کرنا ہے، اور جو شخص انکار کرے، اس کے ذمے قسم ہے“۔ [سنن بیہقی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دعوے کے لیے دلیل لازمی ہے:
    محض الزام یا افواہ کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہو سکتا ۔ اصول یہ ہے کہ ”الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي“ (دلیل پیش کرنا مدعی یعنی الزام لگانے والے کی ذمہ داری ہے) ۔
  • ۲
    شریعت کا اصل مقصد حقوق کی حفاظت:
    ہر انسان (خصوصاً مسلمان) کی جان، مال اور عزت بنیاد کے طور پر محترم اور محفوظ ہے، جب تک اس کے خلاف کوئی معتبر ثبوت سامنے نہ آ جائے ۔
  • ۳
    عدالت اور قاضی کا طریقہ کار:
    قاضی ظاہری ثبوتوں (شہادت، دستاویزات، قرائن) کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے ۔ اگر قاضی اپنی پوری کوشش کے باوجود باطنی حقیقت نہ جان سکے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا ۔
  • ۴
    قسم کی اہمیت اور اللہ کا خوف:
    اگر مدعی کے پاس دلیل نہ ہو تو منکر (جس پر الزام ہے) کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا ۔ قسم اللہ کے نام کی تعظیم اور خوف سے وابستہ ہے، اس لیے جھوٹی قسم شدید گناہ ہے ۔
  • ۵
    عدالتی فیصلہ بمقابلہ واقعی حقیقت:
    ظاہری ثبوتوں سے دنیاوی عدالت میں حق حاصل ہو جانے کے باوجود واقعی حقیقت اللہ کے علم میں ہوتی ہے ۔ باطل طریقے یا جھوٹی قسم سے لیا گیا مال یا حق، آخرت میں عذاب کا باعث بنے گا ۔
  • ۶
    عدل و انصاف میں توازن:
    اسلامی شریعت بے لگام الزامات کی روک تھام کرتی ہے اور ساتھ ہی سچے حق دار تک اس کا حق پہنچانے کا معتبر راستہ بھی مہیا کرتی ہے ۔
  • ۷
    اجتماعی و معاشرتی زندگی میں تطبیق:
    یہ اصول صرف عدالتوں کے لیے نہیں، بلکہ گھریلو، تجارتی اور انتظامی تمام معاملات میں بھی یکساں اہم ہے ۔ کسی پر بھی الزام لگانے سے پہلے تحقیق اور ثبوت ضروری ہے ۔
  • ۸
    براءتِ ذمہ کا بنیادی اصل:
    جب تک جرم یا حق تلفی معتبر اور شرعی ثبوت سے ثابت نہ ہو، تب تک ہر شخص کو بے گناہ ہی تصور کیا جائے گا (اصل براءتِ ذمہ) ۔
  • ۹
    حکمتِ الہٰی پر مبنی احکام:
    تمام شرعی احکام و قوانین انسانی فطرت، حالات اور معاشرتی امن کی ضروتوں کے عین مطابق اور اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ہیں ۔
  • ۱۰
    اخلاقی و تربیتی پہلو:
    اس حدیث کا مقصد معاشرے میں سچائی، ثبوت کی اہمیت، ایک دوسرے کی عزت کے احترام اور اللہ کی نگرانی کا احساس پیدا کرنا ہے ۔