Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 35

اسلامی اخوت، حقوق العباد، تقویٰ اور باہمی تعلقات کی حرمت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا. الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ. التَّقْوَى هَاهُنَا ـ وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ـ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ. كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ»۔

رَوَاهُ مُسْلِمٌ۔

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے کی بولی بڑھانے کے لیے مصنوعی طور پر قیمت نہ بڑھاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی خریداری کے معاملے میں اس کی خریداری پر اپنی خریداری نہ کرے۔ اور اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے؛ نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے“ ــ اور آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ فرمایا ــ ”آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اسلامی اخوت اور باہمی تعلقات:
    اسلامی معاشرہ محبت، ہمدردی اور حقیقی بھائی چارے پر قائم ہے ۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے بھائی سے محبت رکھے اور قطع تعلقی یا منہ پھیرنے سے گریز کرے ۔
  • ۲
    قلبی و معاشرتی برائیوں سے پاکیزگی:
    حسد، بغض اور عداوت سے دور رہنا ضروری ہے ۔ حسد انسان کو دوسرے کی نعمت چھن جانے کی تمنا تک لے جاتا ہے، جبکہ رشک (غبطہ) جائز ہے یعنی دوسرے کی نعمت زائل کیے بغیر اپنے لیے بھی ویسی ہی نعمت کی دعا کرنا ۔
  • ۳
    تجارت میں دیانت داری:
    خرید و فروخت میں دھوکا دہی، مصنوعی بولی لگانا (نجش)، یا کسی کی جاری خریداری میں مداخلت کر کے اس کا نقصان کرنا حرام اور اخوت کے منافی ہے ۔
  • ۴
    حقوق العباد کی پاسداری:
    کسی مسلمان پر ظلم کرنا، اس کے حقوق پامال کرنا یا مشکل اور مصیبت کے وقت اسے بے یار و مددگار چھوڑنا سخت گناہ ہے ۔
  • ۵
    جان، مال اور عزت کا احترام:
    مسلمان کی جان، مال اور عزت و آبرو شریعت میں محترم ہیں ۔ کسی کو جسمانی نقصان پہنچانا، اس کا مال ناحق لینا یا زبان اور رویے سے اس کی تذلیل و تحقیر کرنا حرام ہے ۔
  • ۶
    تقویٰ اور دل کی اصلاح:
    تقویٰ اور فضیلت کا معیار ظاہری شکل، مال یا دنیاوی عہدہ نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی ہے ۔ نبی ﷺ نے تین بار سینے کی طرف اشارہ فرما کر واضح کیا کہ باطنی اصلاح ہی سے ظاہری کردار سنورتا ہے ۔
  • ۷
    تحقیر اور تکبر کی ممانعت:
    کسی مسلمان کو غربت، کم علمی یا کمزور سماجی حیثیت کی وجہ سے حقیر سمجھنا بہت بڑا اخلاقی جرم ہے ۔ انسان کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر سمجھے ۔
  • ۸
    حقیقی دین داری کا معیار:
    ایک بہترین اور صالح اسلامی معاشرہ صرف ظاہری عبادات سے نہیں بنتا، بلکہ دلوں کی پاکیزگی، تجارتی امانت، دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اور انسانی عزت کے احترام سے وجود میں آتا ہے ۔