Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 36

پریشانیاں دور کرنے، پردہ پوشی، طلبِ علم، مجالسِ قرآن اور عمل کی فضیلت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ»۔

رَوَاهُ مُسْلِمٌ۔

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی مؤمن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی تنگ دست کے لیے آسانی پیدا کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔ اور جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستے پر چلے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس علم کے ذریعے جنت کا راستہ آسان فرما دے گا۔ اور جب کچھ لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے اور آپس میں اس کا درس و مذاکرہ کرتے ہیں تو ان پر سکون و اطمینان نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں کے درمیان ان کا ذکر فرماتا ہے۔ اور جس شخص کو اس کا عمل پیچھے رکھ دے، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    انسانوں اور مسلمانوں کے ساتھ حسنِ سلوک:
    مدد اور آسانی: مسلمانوں کی مشکلات اور پریشانیوں کو دور کرنے یا ان میں کمی لانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے ۔
    پردہ پوشی اور عزت کی حفاظت: مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرنا، اس کے عیوب چھپانا اور عزت و آبرو کی حفاظت کرنا ایمان کا اہم تقاضا ہے ۔
    معاشرتی ہمدردی: مسلمان کو اپنے معاشرے کے دیگر افراد کی حاجات اور حالات سے باخبر رہ کر باہمی محبت و بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے ۔
  • ۲
    جزا اور عمل کا قانون (مکافاتِ عمل):
    بندے کی مدد اور اللہ کی نصرت: جو شخص اپنے بھائی کی مدد، آسانیاں پیدا کرنے اور اس کی پردہ پوشی میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد فرماتا ہے اور اس کی پریشانیاں دور کرتا ہے ۔
    فضلِ الٰہی: اللہ تعالیٰ کا بدلہ بندے کی چھوٹی سی کوشش سے کہیں زیادہ بڑا اور وسیع ہوتا ہے ۔
  • ۳
    علمِ دین کی طلب اور اہمیت:
    جنت کا راستہ: شرعی علم حاصل کرنا اور اس کے لیے سفر یا مشقت برداشت کرنا جنت تک پہنچنے کا براہِ راست ذریعہ ہے ۔
    علمی وسائل: طالبِ علم کو علم کے تمام ممکنہ اور مفید ذرائع اختیار کرنے چاہئیں ۔
  • ۴
    مجالسِ علم، ذکر اور قرآن کی فضیلت:
    مساجد کا کردار: مساجد صرف نماز کے لیے نہیں بلکہ قرآن کی تلاوت، حفظ، باہمی درس و مذاکرہ اور علم و ذکر کے حلقوں کے لیے بھی آباد رہنی چاہئیں ۔
    علمی مجالس کے برکات: ذکر اور علم کی مجالس پر سکون و اطمینان اور اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے ان کا ذکر فرماتا ہے ۔
  • ۵
    اسلام میں فضیلت کا اصل معیار:
    تقویٰ اور عمل: کامیابی اور اللہ کے ہاں بلند مقام کا معیار نیک عمل اور تقویٰ ہے، نہ کہ محض نسب یا خاندانی شرف ۔
    ذاتی کوشش: اگر انسان کا عمل ناقص ہو تو اس کا خاندانی نسب اسے آخرت کے نقصان سے نہیں بچا سکتا ۔