Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 37

نیکی و بدی کی کتابت، وسعتِ رحمت، نیت کی قدر اور مضاعف اجر کا بیان

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: «إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً»۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ۔

ترجمہ:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں کو لکھ دیا ہے، پھر اس کی وضاحت فرما دی ہے۔ پس جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے، لیکن اسے نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے۔ اور اگر وہ نیکی کا ارادہ کرے اور اسے کر بھی لے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے پاس دس نیکیاں لکھتا ہے، جو سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ اور جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرے لیکن اسے نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے، اور اگر برائی کا ارادہ کرکے اسے کر بھی لے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے صرف ایک برائی لکھتا ہے“۔ [صحیح البخاری وصحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اللہ تعالیٰ کی وسعتِ رحمت اور فضل:
    رحمت کا غلبہ: نیکی پر دس سے سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ اجر ملتا ہے، جبکہ برائی پر صرف ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے غضب پر غالب ہونے کی واضح دلیل ہے ۔
    بے پایاں خزانہ: اللہ تعالیٰ غنی اور بے نیاز ہے؛ وہ جتنا چاہے اجر بڑھا کر عطا فرمائے، اس کی بادشاہت میں کوئی کمی نہیں آتی ۔
  • ۲
    نیت اور ارادے کی قدر و قیمت:
    سچی نیت کا اجر: نیکی کے محض سچے ارادے پر بھی ایک مکمل نیکی لکھ دی جاتی ہے، اور عمل کرنے پر اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔
    وسوسہ بمقابلہ پختہ ارادہ: محض دل میں آنے والے غیر اختیاری خیالات یا وسوسوں پر کوئی پکڑ نہیں، جب تک کہ وہ پختہ ارادے یا عمل میں نہ بدل جائیں ۔
  • ۳
    گناہ سے اجتناب اور خوفِ الہٰی:
    ترکِ گناہ عبادت ہے: جب انسان گناہ کی قدرت کے باوجود محض اللہ تعالیٰ کے خوف سے اسے چھوڑ دیتا ہے، تو یہ مجاہدہ بذاتِ خود ایک نیکی شمار ہوتا ہے ۔
    توبہ اور عدل: انسان اپنے گناہ کا خود ذمہ دار ہے، تاہم سچی توبہ سے مغفرت اور فضل کی پوری امید رکھنی چاہیے ۔
  • ۴
    ایمانی و قلبی تربیت:
    اللہ کا کامل علم اور حیا: اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن اور دل کے تمام رازوں سے باخبر ہے ۔ اس یقین سے انسان میں تقویٰ، حیا اور نگرانی کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔
    خوف اور امید کا توازن: یہ حدیث مؤمن کے دل میں مایوسی ختم کر کے حسنِ ظن، امید اور نیکیوں میں سبقت لے جانے کا عملی جذبہ پیدا کرتی ہے ۔