Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 40

اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، وسعتِ مغفرت اور توحید کی عظمت کا بیان

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: «يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ مِنْكَ وَلَا أُبَالِي، يَا ابْنَ آدَمَ، لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ، يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا، ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا، لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً»۔

(رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ)

ترجمہ:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے ابنِ آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے ان گناہوں کو بخش دوں گا جو تجھ سے ہوئے ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ اے ابنِ آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا۔ اے ابنِ آدم! اگر تو زمین بھر کے قریب گناہ لے کر میرے پاس آئے، پھر اس حال میں مجھ سے ملاقات کرے کہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو، تو میں زمین بھر کے قریب مغفرت لے کر تیرے پاس آؤں گا“۔ [جامع الترمذی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور وسعتِ مغفرت:
    • بندے کے گناہ خواہ زمین و آسمان بھر جائیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
    • بندے کو اپنے رب سے ہمیشہ حسنِ ظن رکھنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے گمان اور امید کے مطابق معاملہ فرماتا ہے۔
  • ۲
    مغفرت کے تین بنیادی اسباب:
    دعا اور رجاء: مانگتے وقت اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا اور قبولیت کی امید رکھنا۔
    استغفار: گناہ کے بعد مایوس ہونے کے بجائے فوراً اور مسلسل توبہ و استغفار کرنا۔
    توحید: شرک سے مکمل بچتے ہوئے خالص اللہ کی عبادت پر قائم رہنا اور اسی حالت میں حسنِ خاتمہ پانا۔
  • ۳
    توحید کی عظمت اور شرک کی قباحت:
    • شرک کے بغیر زمین بھر کے گناہ بھی اللہ کی رحمت اور توحید کی برکت سے معاف ہو سکتے ہیں۔
    • زندگی کا اصل مقصد اور نجات کا دارومدار خاتمہ بالخیر اور توحید پر قائم رہنے میں ہے۔
  • ۴
    بندے کی احتیاج اور توبہ کی مستقل حیثیت:
    • انسان ہر لمحہ اپنے رب کا محتاج ہے اور گناہ گار ہونے کی صورت میں وہ دعا اور توبہ کا اور زیادہ ضرورت مند ہو جاتا ہے۔
    • توبہ کوئی وقتی عمل نہیں بلکہ مومن کی مستقل زندگی کا معمول ہے، جس میں خوف اور امید کا توازن ضروری ہے۔
  • ۵
    اصلاح و تربیت کا نبوی منہج:
    • (يَا ابْنَ آدَمَ) کے خطاب سے ہر انسان کو اس کی انفرادی ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس دلایا گیا ہے۔
    • گناہ گاروں کی اصلاح کے لیے محض خوف دلانے کے بجائے رحمت اور مغفرت کی امید دلا کر دلوں میں حیا اور توبہ کا جذبہ بیدار کرنا چاہیے۔