Skip to main content

Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 44

رضاعت (دودھ پلانے) سے حرمت اور رشتوں کے قیام کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تُحَرِّمُ الرَّضَاعَةُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ».

(صَحِيحُ الْبُخَارِيِّ وَصَحِيحُ مُسْلِمٍ)

ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رضاعت (دودھ پینا) ان تمام رشتوں کو حرام کر دیتی ہے جنہیں ولادت (نسب اور پیدائش) حرام کرتی ہے۔» [صحیح بخاری و صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    جامع شرعی اصول:
    • «تُحَرِّمُ الرَّضَاعَةُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم میں سے ہے، جس کے تحت نسب سے حرام ہونے والی تمام سات عورتیں (ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی) رضاعت سے بھی ابدی طور پر حرام ہو جاتی ہیں۔
  • ۲
    رضاعت کی شرعی شرائط:
    • حرمت ثابت ہونے کے لیے بچے کا ابتدائی دو سال کی عمر میں، الگ الگ اوقات میں کم از کم پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ پیٹ بھر کر دودھ پینا ضروری ہے۔
  • ۳
    بڑے بچے کی رضاعت کی نفی:
    • دو سال کے بعد یا بڑے انسان کے دودھ پینے سے کوئی حرمت ثابت نہیں ہوتی؛ سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ صرف انہی کے ساتھ خاص تھا۔
  • ۴
    حیلہ سازی کا سدِ باب:
    • رضاعت کو دو سال اور پانچ گھونٹ سے مشروط کر کے شریعت نے اس حیلے کا خاتمہ کر دیا جس سے کوئی عورت شوہر کو دودھ پلا کر نکاح ختم کرنے کی کوشش کرے۔
  • ۵
    صاحبِ اللبن (دودھ والے باپ) کا ثبوت:
    • دودھ پلانے والی عورت کا شوہر بچے کا رضاعی باپ بنتا ہے، لہٰذا اس شوہر کی تمام سابقہ و لاحقہ اولاد اور اس کا پورا خاندان بھی بچے کے لیے محرم بن جاتا ہے۔
  • ۶
    ماں کی تمام اولاد سے اخوت:
    • بچہ دودھ پلانے والی عورت کی تمام اولاد کا بھائی بن جاتا ہے، خواہ وہ بچے موجودہ شوہر سے ہوں یا دیگر شوہروں سے۔
  • ۷
    حرمت کا دائرہ صرف دودھ پینے والے تک:
    • رضاعت کی محرمیت صرف دودھ پینے والے بچے اور اس کی آئندہ نسل تک محدود رہتی ہے؛ اس کے حقیقی بھائی بہنوں یا والدین پر اس حرمت کا کوئی اطلاق نہیں ہوتا۔
  • ۸
    نکاح کی حرمت بمقابلہ مالی حقوق:
    • رضاعت سے صرف نکاح کی حرمت، پردے کی رخصت اور محرمیت ثابت ہوتی ہے؛ اس سے وراثت، نفقہ (خرچہ) اور دیت جیسے مالی احکام لاگو نہیں ہوتے۔
  • ۹
    پردے اور خلوت کی رخصت:
    • رضاعی رشتہ قائم ہونے کے بعد عورتوں پر اس بچے سے حجاب لازم نہیں رہتا اور اس کے ساتھ شرعی خلوت (تنہائی میں بیٹھنا) جائز ہو جاتا ہے۔
  • ۱۰
    سفر میں محرم بننے کی اہلیت:
    • رضاعی محرم (جیسے رضاعی بھائی یا بیٹا) شرعی سفر کے دوران عورت کے ساتھ بطورِ محرم سفر کر سکتا ہے۔
  • ۱۱
    شک میں اصل پر عمل:
    • اگر دودھ پینے کی تعداد (پانچ بار یا اس سے کم) میں شک ہو تو شرعی قاعدے کے مطابق یقین کو ترجیح دی جائے گی اور حرمت ثابت نہیں ہوگی۔
  • ۱۲
    حقیقی نسب کا تحفظ:
    • رضاعی تعلق کی وجہ سے بچے کا نسب تبدیل نہیں ہوتا؛ اسے شرعاً اپنے حقیقی والدین ہی کی طرف منسوب رکھا جائے گا۔
  • ۱۳
    حرمتِ مصاہرت کا اطلاق:
    • جس طرح سسرالی رشتوں میں نسبی ساس حرام ہوتی ہے، اسی طرح بیوی کی رضاعی ماں (رضاعی ساس) بھی شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔
  • ۱۴
    معاشرتی وسعت اور خاندانی کفالت:
    • رضاعت کے ذریعے یتیم اور لاوارث بچوں کو بغیر کسی شرعی رکاوٹ کے گھر کے اندر محرم بنا کر پرورش پانے کی سہولت ملتی ہے۔
  • ۱۵
    ثبوت و شہادت میں احتیاط:
    • انساب اور رشتوں کے تقدس کے پیشِ نظر رضاعت کے ثبوت کے لیے شرعاً پختہ گواہی اور مکمل احتیاط لازم ہے۔