Skip to main content

Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 45

شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کی حرمت کا بیان

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمَكَّةَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالأَصْنَامِ»، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ تُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَتُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟ قَالَ: «لا، هُوَ حَرَامٌ»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ؛ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ جَمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ وَأَكَلُوا ثَمَنَهُ».

(رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ)

ترجمہ:

حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا: «اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔» عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیونکہ اس سے کشتیوں پر لیپ کیا جاتا ہے، چمڑوں کو نرم و چکنا کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نہيں، وہ حرام ہے۔» پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت (ہلاک) کرے! جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا، پھر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھا گئے۔» [اسے امام بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حرام اشیاء کی خرید و فروخت کا ضابطہ:
    • شرعی قاعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو حرام فرماتا ہے تو اس کی تجارت اور قیمت کو بھی حرام قرار دیتا ہے۔
    • حرام شے کو بیچ کر نفع کمانا جائز نہیں۔
  • ۲
    حیلہ سازی کی مذمت:
    • کسی حرام چیز کی ظاہری ہیئت، نام یا صفت بدل دینے سے اس کی حرمت ختم نہیں ہوتی۔
    • جیسا کہ یہودیوں نے چربی کو پگھلا کر "ودک" کا نام دے کر بیچا اور وہ لعنت کے مستحق ٹھہرے۔
  • ۳
    عقل کی حفاظت اور شراب کی حرمت:
    • شراب تمام برائیوں کی جڑ (ام الخبائث) ہے کیونکہ یہ عقل کو زائل کرتی ہے۔
    • عقل ضائع ہونے سے انسان بدترین گناہوں، بے حیائی اور ذلت آمیز کاموں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
  • ۴
    شرک کے ذرائع کا سدباب:
    • بتوں کی تجارت مطلقا حرام ہے تاکہ شرک اور غیر اللہ کی عبادت کے تمام دروازے بند رہیں۔
    • البتہ اگر انہیں توڑ کر ان کی صنمیت ختم کر دی جائے تو ان کے پتھر یا لکڑی کو تعمیرات وغیرہ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • ۵
    مردار کے اجزاء کا حکم:
    • مردار کا گوشت کھانا اور بیچنا دونوں حرام ہیں۔
    • اس کی چربی کے دیگر استعمالات (کشتیوں کو لیپ کرنا، چراغ جلانا) سے پرہیز کرنا ہی اولیٰ اور راجح ہے۔
    • صرف حلال جانور کے مردار کی کھال دباغت (رنگنے) کے بعد پاک ہو جاتی ہے اور اسے استعمال میں لانا جائز ہے۔
    • حرام جانور (جیسے کتا، خنزیر وغیرہ) کی کھال دباغت کے بعد بھی پاک یا قابلِ استعمال نہیں ہوتی۔