حدیث نمبر 7
دین سراسر خیر خواہی اور نصیحت کا نام ہے
عَنْ أَبِي رُقَيَّةَ تَمِيمِ بْنِ أَوْسٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ»۔ قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: «لِلَّهِ، وَلِکِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ»۔
[رواہ مسلم: 55]
ترجمہ:
حضرت ابو رقیہ تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین سراسر خیر خواہی اور نصیحت کا نام ہے۔“ ہم نے عرض کیا: کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ (حکام و قائدین) کے لیے، اور عام مسلمانوں کے لیے۔“ [صحیح مسلم]
فوائدِ حدیث:
-
۱
حدیث کی اہمیت اور "نصیحت" کا جامع مفہوم:
• مدارِ اسلام: یہ حدیث اسلام کے عظیم ترین اصولوں پر مبنی ہے، اسی لیے علماء اسے دین کا مرکز (مدارِ اسلام) شمار کرتے ہیں۔
• نصیحت کا حقیقی معنی: لغت میں نصیحت کا مطلب "خلوص" ہے (جیسے موم سے پاک خالص شہد)۔ شرعی مفہوم میں نصیحت محض لوگوں کے عیوب نکالنے کا نام نہیں، بلکہ اس میں اخلاص، محبت، مکمل خیر خواہی اور دوسروں کے لیے بھلائی کی رغبت شامل ہے۔
• جامعیت: یہ اصول زندگی کے تمام شعبوں، یعنی عبادات اور معاملات، دونوں پر محیط ہے۔
-
۲
تعلقات کی درجہ بندی اور ترجیحات کا تعین:
• ترجیحات کی ترتیب: حدیث میں انسان کے تمام تعلقات کو ایک خوبصورت ترتیب سے بیان کیا گیا ہے: سب سے پہلے اللہ، پھر اس کی کتاب، پھر اس کے رسول ﷺ، پھر مسلم حکمران اور آخر میں عوام۔
• حقوق کی ادائیگی: اللہ کے ساتھ معاملات میں "اخلاص" اور مخلوق کے ساتھ "سچائی" بنیادی شرط ہے۔ ہر حق دار کو اس کا حق دینا ضروری ہے، تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
-
۳
خالق، کتابِ الہٰی اور رسول ﷺ کے ساتھ خیر خواہی:
• اللہ کے لیے نصیحت: خالص توحید اپنانا، شرک سے بچنا، احکامات کی مکمل پابندی کرنا اور جہاں سے اللہ نے منع کیا ہے وہاں سے خود کو دور رکھنا۔ یہ اللہ سے سچی محبت کی علامت ہے۔
• قرآنِ مجید کے لیے نصیحت: قرآن پر کامل ایمان لانا، اس کی تلاوت، تدبر اور احکامات پر عمل کرنا، نیز قرآنی علوم اور حفاظِ کرام کی حوصلہ افزائی و سرپرستی کرنا۔
• رسول اللہ ﷺ کے لیے نصیحت: آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان، سنت کی کامل پیروی اور آپ ﷺ کی محبت کو اپنی جان, مال اور اولاد پر مقدم رکھنا۔ البتہ اس محبت میں کوئی شرکیہ غلو نہ ہو، بلکہ سنتوں کا دفاع اور آپ ﷺ کی آل و اصحاب کا دل سے احترام کیا جائے۔
-
۴
مسلم حکمرانوں اور عوام کے حقوق و خیر خواہی:
• حکمرانوں کے لیے نصیحت: جائز امور میں ان کی اطاعت کرنا، نیک کاموں میں تعاون، حکمت کے ساتھ حق بات پہنچانا، ان کی عیب پوشی کرنا اور ان کے لیے دعائے خیر کرنا۔
• عوام کے لیے نصیحت: مسلمانوں کے دینی و دنیاوی مفادات کی فکر کرنا، ان کی پردہ پوشی اور عزت کی حفاظت کرنا۔ اس میں والدین اور اساتذہ کا اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھانا، اور امت کے مسائل میں دلچسپی لے کر حکمت و نرمی سے دعوت و اصلاح کا کام کرنا بھی شامل ہے۔
-
۵
قلبی امراض کا علاج اور پاکیزہ معاشرے کا قیام:
• باطنی پاکیزگی: نصیحت کا جذبہ انسان کے دل میں اللہ کی نگرانی کا احساس پیدا کرتا ہے، جس سے حسد، بغض، کینہ اور دشمنی جیسی دل کی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں۔
• دھوکہ دہی کا خاتمہ: خیر خواہی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ جو دھوکہ دیتا ہے وہ اس کامل اسلامی وصف سے محروم ہے۔
• مثالی معاشرہ: اس حدیث پر عمل کرنے سے ایک ایسا اسلامی معاشرہ وجود میں آتا ہے جو باہمی محبت، اتحاد، تعاون اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسی عظیم بنیادوں پر استوار ہوتا ہے۔ اسلام محض عبادات کا نہیں، بلکہ ایک بہترین حسنِ معاشرت کا مکمل نظام ہے۔