Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 8

ارکانِ اسلام اور جان و مال کی حرمت کا بیان

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى»۔

[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ: 25، وَمُسْلِمٌ: 22]

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کریں، اور زکاۃ ادا کریں۔ پھر جب وہ یہ کام کرلیں تو انہوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کرلیے، مگر اسلام کے کسی حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔“ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دعوت اور جہاد کا اصل مقصد:
    توحید کی بنیاد: تمام انبیاء اور داعیوں کا پہلا کام لوگوں کو اللہ کی توحید اور رسول ﷺ کی رسالت کی طرف بلانا ہے، اور ہر داعی الہٰی احکامات کا پابند ہوتا ہے۔[cite: 8]
    جہاد کا مقصد: اسلام میں قتال یا جہاد کا مقصد دنیاوی مال و دولت، اقتدار، بادشاہت یا انتقام نہیں، بلکہ زمین پر اللہ کے دین کو قائم کرنا اور کفر کے غلبے کو توڑنا ہے۔[cite: 8]
    دعوت میں تدریج: جہاد سے پہلے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے گی کیونکہ اسلام میں عقیدے کے معاملے میں کوئی جبر یا زبردستی نہیں ہے۔[cite: 8]
  • ۲
    ظاہر پر فیصلہ اور باطن کا معاملہ:
    ظاہری احکام معتبر ہیں: دنیا میں کسی بھی شخص کے ساتھ معاملہ اس کے ظاہری اعمال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔ جو شخص کلمہ پڑھ لے، وہ مسلمان ہے اور اس کی جان و مال محفوظ ہے۔[cite: 8]
    دلوں کا حال اللہ کے سپرد: کسی مسلمان پر محض شک یا بدگمانی کی بنا پر کفر کا فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا۔ منافقین کا باطن خواہ کچھ بھی ہو، دنیا میں ان سے مسلمانوں والا سلوک ہوگا اور آخرت میں ان کا حساب اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔[cite: 8]
    فتنوں میں راہنمائی: فتنوں اور مشتبہ حالات میں یہ حدیث مسلمانوں کے لیے بہترین ضابطہ ہے کہ وہ لوگوں کے ظاہر کو دیکھ کر ہی فیصلہ کریں۔[cite: 8]
  • ۳
    اسلام کے بنیادی ارکان اور ایمان کی حقیقت:
    ارکانِ اسلام کا نچوڑ: یہ حدیث اسلام کے عظیم بنیادی ارکان (توحید، رسالت، نماز اور زکاۃ) کا احاطہ کرتی ہے۔[cite: 8]
    ایمان اور اعمال کا تعلق: ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اعمال (نماز اور زکاۃ) ایمان کا لازمی حصہ ہیں، جن سے بندے کے ایمان کا ثبوت ملتا ہے۔[cite: 8]
  • ۴
    جان و مال کا تحفظ اور معاشرتی حقوق:
    انسانی جان و مال کی حرمت: اسلام امن و سلامتی کا دین ہے جو انسان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسلام قبول کرتے ہی شخص کے تمام معاشرتی حقوق (وراثت، نکاح، اخوت) طے ہو جاتے ہیں۔[cite: 8]
    حقِ اسلام (قانون کی بالادستی): جان و مال کا یہ تحفظ اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک کوئی شخص شریعت کے طے کردہ قوانین (جیسے قصاص یا حدود) کی خلاف ورزی نہ کرے، جس کا ثبوت [إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ] سے ملتا ہے۔[cite: 8]
  • ۵
    ایمرجنسی حالات اور اسلاف کا طرزِ عمل:
    حقوق اللہ اور حقوق العباد کا توازن: نماز کے ذریعے بندے کا تعلق اللہ سے قائم ہوتا ہے اور زکاۃ کے ذریعے معاشرے کے فقراء کی مدد ہوتی ہے، جس سے ایک بہترین اجتماعی نظام بنتا ہے۔[cite: 8]
    خلفائے راشدین کی دلیل: یہ حدیث اتنی واضح ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مانعینِ زکاۃ کے خلاف قتال کے لیے اسی سے استدلال فرمایا تھا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ارکانِ اسلام میں تفریق ممکن نہیں۔[cite: 8]