Darul Huda

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 9

اوامر و نواہی میں استطاعت اور فضول بحث کی ممانعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ»۔

(رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ: 7288، وَمُسْلِمٌ: 1337)

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ عبدالرحمن بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں تمہیں جن چیزوں سے منع کروں ان سے بچو، اور جن چیزوں کا میں تمہیں حکم دوں ان میں سے جتنا تم سے ہوسکے اس پر عمل کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے زیادہ سوالات اور اپنے انبیاء سے اختلاف نے ہلاک کردیا تھا“۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    شریعتِ اسلامیہ کا بنیادی اصول: آسانی اور وسعت:
    آسان دین: اسلام ایک آسان دین ہے جس کا مقصد انسان کو مشقت میں ڈالنا نہیں بلکہ اس کی فلاح ہے۔[cite: 9]
    فطرت کا لحاظ: شریعت میں انسان کی کمزوری اور فطرت کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے، اسی لیے مرض اور سفر جیسے حالات میں احکام کے اندر رخصت اور تدریج (نرمی) رکھی گئی ہے۔[cite: 9]
  • ۲
    اوامر (احکامات) پر عمل: استطاعت کے مطابق:
    حدِ استطاعت: اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔[cite: 9]
    مستقل مزاجی: واجبات ہوں یا مستحبات، مسلمان پر لازم ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق ان پر عمل کرے اور قلیل مگر مستقل نیکی کو اپنائے۔[cite: 9]
  • ۳
    نواہی (ممنوعات) کا معاملہ: مکمل اجتناب اور دوری:
    سخت دائرہ: گناہوں اور ممنوعہ چیزوں کا دائرہ زیادہ سخت ہے۔ تمام ممنوعات (خواہ تحریمی ہوں یا تنزیہی) کو مکمل طور پر چھوڑنا واجب ہے۔[cite: 9]
    اسباب سے دوری: گناہوں سے صرف بچنا ہی کافی نہیں، بلکہ ان کے اسباب، ذرائع اور ان کے قریب جانے سے بھی دور رہنا ضروری ہے۔[cite: 9]
  • ۴
    غیر ضروری سوالات اور بحث و تکرار کی مذمت:
    عمل اصل ہے: دین میں عمل اصل ہے، علم کا مقصد عمل ہونا چاہیے نہ کہ صرف معلومات اکٹھا کرنا۔[cite: 9]
    کریدنے کی ممانعت: بے فائدہ، فرضی (جو واقعات ابھی پیش نہ آئے ہوں) اور غیبی امور (جیسے قیامت کب آئے گی) کے متعلق کرید کرنا سخت ناپسندیدہ ہے، کیونکہ بعض لوگ سوالات کو سستی کا ذریعہ بناتے ہیں۔[cite: 9]
    ضروری مسائل کا علم: البتہ اپنی روزمرہ ضرورت کے مسائل (طہارت، نماز، روزہ، نکاح و طلاق وغیرہ) کو اہل علم سے پوچھ کر سیکھنا فرض ہے۔[cite: 9]
  • ۵
    دین میں غلو اور اختلاف: ہلاکت کا سبب:
    تباہی کا باعث: دین میں بے جا سختی (غلو)، تکلف اور آپس کا جھگڑا امت کی کمزوری اور ہلاکت کا سبب بنتے ہیں۔[cite: 9]
    سابقہ امتوں کا انجام: سابقہ امتیں اپنے انبیاء سے کثرتِ سوال اور اختلاف ہی کی وجہ سے تباہ ہوئیں، جن سے عبرت پکڑنا ضروری ہے۔[cite: 9]
  • ۶
    رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور رحمت و شفقت:
    جوامع الکلم: آپ ﷺ کی یہ تعلیمات (جوامع الکلم) آپ ﷺ کی سچی رسالت کی دلیل ہیں جو عقل و فطرت کے عین مطابق ہیں۔[cite: 9]
    امت پر مہربانی: آپ ﷺ اپنی امت پر نہایت مہربان اور رحیم تھے، اسی لیے آپ ﷺ نے امت کو فتنوں اور ہلاکت کے اسباب سے بار بار خبردار فرمایا۔[cite: 9]
  • ۷
    صحابہ کرام اور امتِ محمدیہ کی فضیلت:
    اطاعت کا راستہ: سابقہ امتوں کے برعکس امتِ محمدیہ (خصوصاً صحابہ کرام) کی یہ فضیلت ہے کہ انہوں نے ضد اور مخالفت کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ نبی ﷺ کے احکامات کو دل سے قبول کیا اور ضرورت کے مطابق ہی سوالات کیے۔[cite: 9]
  • ۸
    حاصلِ کلام (خلاصہ):
    خلاصہ: عمل میں اعتدال اختیار کیا جائے، ممنوعات سے مکمل دوری اختیار کی جائے، احکامات پر طاقت کے مطابق عمل ہو اور فضول بحث و تکرار کے بجائے اتباعِ سنت کو لازم پکڑا جائے۔[cite: 9]