Darul Huda

یومِ عاشوراء کے فضائل و احکام

 

(معالی رئیس الشؤون الدينية بالمسجد الحرام والمسجد النبوي، فضيلة الشيخ الدكتور عبد الرحمن السديس کی ہدایات کا اردو ترجمہ)

1۔ یومِ عاشوراء کے روزے کی فضیلت

عاشوراء کا روزہ رکھنے کی حرص رکھنی چاہیے، کیونکہ یہ نہایت فضیلت والا دن ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

“میں نے نبی ﷺ کو کسی دن کے روزے کو دوسرے دنوں پر فضیلت دیتے ہوئے اس قدر اہتمام کرتے نہیں دیکھا جتنا آپ ﷺ عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے تھے۔”
(بخاری)

 

2۔ اس دن کی تعظیم میں نبی ﷺ کی اقتدا

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہودی عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا:

“یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا فرمایا، اس لیے ہم اس کی تعظیم میں روزہ رکھتے ہیں۔”

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“ہم موسیٰؑ کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔”

چنانچہ آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دیا۔
(بخاری)

 

3۔ بچوں کی تربیت

بچوں کو دینی شعائر کی تعظیم اور اطاعتِ الٰہی کی عادت ڈالنی چاہیے۔ حضرت ربیع بنت معوذؓ فرماتی ہیں:

“رسول اللہ ﷺ عاشوراء کی صبح انصار کے دیہات کی طرف پیغام بھیجتے کہ جس نے روزہ نہیں رکھا وہ باقی دن کھانے پینے سے رکا رہے، اور جس نے روزہ رکھا ہے وہ اپنا روزہ مکمل کرے۔”

وہ فرماتی ہیں:

“ہم خود بھی روزہ رکھتے اور اپنے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے، اور ان کے لیے اون کے کھلونے بنا دیتے تھے۔ جب وہ کھانے کے لیے روتے تو ہم انہیں وہ کھلونے دے دیتے یہاں تک کہ افطار کا وقت آ جاتا۔”
(بخاری)

 

4۔ اہلِ کتاب کی مخالفت

عاشوراء کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ بھی رکھنا مستحب ہے تاکہ اہلِ کتاب کی مشابہت نہ ہو۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا۔”
(مسلم)

 

5۔ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ

حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

“مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔”
(ترمذی)

 

6۔ عاشوراء کے روزے کی مکمل صورت

عاشوراء کا روزہ تین طریقوں سے رکھا جا سکتا ہے:

1. نویں، دسویں اور گیارہویں محرم کے روزے رکھنا (سب سے افضل)۔
2. نویں اور دسویں محرم کے روزے رکھنا۔
3. اگر ممکن نہ ہو تو صرف دسویں محرم (عاشوراء) کا روزہ رکھنا۔

 

7۔ شکرِ الٰہی کا احساس

اس دن اللہ تعالیٰ کی مسلسل نعمتوں اور فضل و کرم پر شکر ادا کرنا چاہیے، اخلاص کے ساتھ عبادت کرنی چاہیے، اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی قولاً و عملاً اختیار کرنی چاہیے۔