کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ
جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی
مسلمان کی جان کی حرمت اور اس کے مباح ہونے کی صورتوں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ»۔
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ (6878)، وَمُسْلِمٌ (1676)۔ترجمہ:
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان شخص کا خون، جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، حلال نہیں؛ مگر تین صورتوں میں: (1) شادی شدہ زانی، (2) جان کے بدلے جان، (3) اپنے دین کو چھوڑنے والا اور جماعتِ مسلمین سے الگ ہونے والا“۔ [بخاری و مسلم]
فوائدِ حدیث:
-
۱
شریعت کا اصل مقصد اور انسانی جان کی حرمت:
• خون کی حفاظت بنیادی اصل: اسلام میں مسلمان کی جان، مال اور عزت کو انتہائی محترم قرار دیا گیا ہے، یہاں تک کہ مؤمن کی حرمت کعبہ سے بھی بڑھ کر ہے۔
• مقاصدِ شریعت کا تحفظ: شریعت جن پانچ بنیادی چیزوں (ضروریاتِ خمسہ) کی حفاظت کے لیے آئی ہے، ان میں سے تین اہم ترین امور—دین، جان، اور عزت و نسب—کا تحفظ اس حدیث کی اصل روح ہے۔ -
۲
انسانی خون مباح ہونے کی استثنائی صورتیں:
• حدیثِ مبارکہ کے مطابق عام حالات میں کسی مسلمان کا خون حلال نہیں، سوائے تین سنگین ترین جرائم کے، جن سے معاشرے کا امن داؤ پر لگ جاتا ہے:
• شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرنا (جس سے خاندانی نظام اور نسب تباہ ہوتا ہے)۔
• کسی کو ناحق قتل کرنا (جس کے بدلے عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے قصاص لازم ہے)۔
• دینِ اسلام کو چھوڑ کر جماعت (مسلم ریاست) سے بغاوت کرنا۔ -
۳
قانون کا نفاذ اور اسلامی حکومت کا دائرہ اختیار:
• ریاست کی ذمہ داری: حدود، سزا اور قصاص نافذ کرنے کا اختیار صرف اور صرف اسلامی حکومت، عدالت اور صاحبِ اختیار کو ہے۔ کسی بھی عام فرد یا ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے یا خود حد نافذ کرنے کی قطعاً اجازت نہیں، کیونکہ اس سے معاشرے میں بدامنی اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔
• عدل و مساوات: اسلامی قانون امیر، غریب، حاکم اور محکوم سب کے لیے برابر ہے۔ شریعت میں سفارش یا طبقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ -
۴
شبہات کا فائدہ اور ثبوت کی اہمیت:
• یقینی ثبوت لازم ہے: کسی پر بھی محض الزام، افواہ، گمان یا سوشل میڈیا کے پروپیگنڈے کی بنیاد پر حد جاری نہیں کی جا سکتی۔ جرم ثابت کرنے کے لیے سخت ترین شرائط (جیسے حدِ زنا کے لیے چار عادل گواہ) مقرر ہیں۔
• شبہات پر حد کا سقوط: اسلام کا اصول ہے کہ شک یا شبہ پیدا ہونے کی صورت میں حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تکفیر (کسی کو کافر قرار دینے) اور سزا دینے میں اصل قاعده احتیاط اور پردہ پوشی ہے۔ -
۵
معاشرتی امن، اتحاد اور رحمتِ الہٰی:
• اجتماعی امن اور اتحاد: دین ہمیں جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے اور تفرقہ بازی سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ حدود کا مقصد انتقام نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور جرائم کا انسداد ہے۔
• عفو و توبہ کا کھلا دروازہ: اسلام میں اصل بنیاد رحمت، توبہ، اصلاح اور درگزر پر ہے۔ اگر گناہ گار سچی توبہ کر لے تو اللہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔