Darul Huda

Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-9

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 9

اوامر و نواہی میں استطاعت اور فضول بحث کی ممانعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ»۔

(رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ: 7288، وَمُسْلِمٌ: 1337)

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ عبدالرحمن بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں تمہیں جن چیزوں سے منع کروں ان سے بچو، اور جن چیزوں کا میں تمہیں حکم دوں ان میں سے جتنا تم سے ہوسکے اس پر عمل کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے زیادہ سوالات اور اپنے انبیاء سے اختلاف نے ہلاک کردیا تھا“۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    شریعتِ اسلامیہ کا بنیادی اصول: آسانی اور وسعت:
    آسان دین: اسلام ایک آسان دین ہے جس کا مقصد انسان کو مشقت میں ڈالنا نہیں بلکہ اس کی فلاح ہے۔[cite: 9]
    فطرت کا لحاظ: شریعت میں انسان کی کمزوری اور فطرت کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے، اسی لیے مرض اور سفر جیسے حالات میں احکام کے اندر رخصت اور تدریج (نرمی) رکھی گئی ہے۔[cite: 9]
  • ۲
    اوامر (احکامات) پر عمل: استطاعت کے مطابق:
    حدِ استطاعت: اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔[cite: 9]
    مستقل مزاجی: واجبات ہوں یا مستحبات، مسلمان پر لازم ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق ان پر عمل کرے اور قلیل مگر مستقل نیکی کو اپنائے۔[cite: 9]
  • ۳
    نواہی (ممنوعات) کا معاملہ: مکمل اجتناب اور دوری:
    سخت دائرہ: گناہوں اور ممنوعہ چیزوں کا دائرہ زیادہ سخت ہے۔ تمام ممنوعات (خواہ تحریمی ہوں یا تنزیہی) کو مکمل طور پر چھوڑنا واجب ہے۔[cite: 9]
    اسباب سے دوری: گناہوں سے صرف بچنا ہی کافی نہیں، بلکہ ان کے اسباب، ذرائع اور ان کے قریب جانے سے بھی دور رہنا ضروری ہے۔[cite: 9]
  • ۴
    غیر ضروری سوالات اور بحث و تکرار کی مذمت:
    عمل اصل ہے: دین میں عمل اصل ہے، علم کا مقصد عمل ہونا چاہیے نہ کہ صرف معلومات اکٹھا کرنا۔[cite: 9]
    کریدنے کی ممانعت: بے فائدہ، فرضی (جو واقعات ابھی پیش نہ آئے ہوں) اور غیبی امور (جیسے قیامت کب آئے گی) کے متعلق کرید کرنا سخت ناپسندیدہ ہے، کیونکہ بعض لوگ سوالات کو سستی کا ذریعہ بناتے ہیں۔[cite: 9]
    ضروری مسائل کا علم: البتہ اپنی روزمرہ ضرورت کے مسائل (طہارت، نماز، روزہ، نکاح و طلاق وغیرہ) کو اہل علم سے پوچھ کر سیکھنا فرض ہے۔[cite: 9]
  • ۵
    دین میں غلو اور اختلاف: ہلاکت کا سبب:
    تباہی کا باعث: دین میں بے جا سختی (غلو)، تکلف اور آپس کا جھگڑا امت کی کمزوری اور ہلاکت کا سبب بنتے ہیں۔[cite: 9]
    سابقہ امتوں کا انجام: سابقہ امتیں اپنے انبیاء سے کثرتِ سوال اور اختلاف ہی کی وجہ سے تباہ ہوئیں، جن سے عبرت پکڑنا ضروری ہے۔[cite: 9]
  • ۶
    رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور رحمت و شفقت:
    جوامع الکلم: آپ ﷺ کی یہ تعلیمات (جوامع الکلم) آپ ﷺ کی سچی رسالت کی دلیل ہیں جو عقل و فطرت کے عین مطابق ہیں۔[cite: 9]
    امت پر مہربانی: آپ ﷺ اپنی امت پر نہایت مہربان اور رحیم تھے، اسی لیے آپ ﷺ نے امت کو فتنوں اور ہلاکت کے اسباب سے بار بار خبردار فرمایا۔[cite: 9]
  • ۷
    صحابہ کرام اور امتِ محمدیہ کی فضیلت:
    اطاعت کا راستہ: سابقہ امتوں کے برعکس امتِ محمدیہ (خصوصاً صحابہ کرام) کی یہ فضیلت ہے کہ انہوں نے ضد اور مخالفت کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ نبی ﷺ کے احکامات کو دل سے قبول کیا اور ضرورت کے مطابق ہی سوالات کیے۔[cite: 9]
  • ۸
    حاصلِ کلام (خلاصہ):
    خلاصہ: عمل میں اعتدال اختیار کیا جائے، ممنوعات سے مکمل دوری اختیار کی جائے، احکامات پر طاقت کے مطابق عمل ہو اور فضول بحث و تکرار کے بجائے اتباعِ سنت کو لازم پکڑا جائے۔[cite: 9]
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-8

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 8

ارکانِ اسلام اور جان و مال کی حرمت کا بیان

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى»۔

[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ: 25، وَمُسْلِمٌ: 22]

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کریں، اور زکاۃ ادا کریں۔ پھر جب وہ یہ کام کرلیں تو انہوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کرلیے، مگر اسلام کے کسی حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔“ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دعوت اور جہاد کا اصل مقصد:
    توحید کی بنیاد: تمام انبیاء اور داعیوں کا پہلا کام لوگوں کو اللہ کی توحید اور رسول ﷺ کی رسالت کی طرف بلانا ہے، اور ہر داعی الہٰی احکامات کا پابند ہوتا ہے۔[cite: 8]
    جہاد کا مقصد: اسلام میں قتال یا جہاد کا مقصد دنیاوی مال و دولت، اقتدار، بادشاہت یا انتقام نہیں، بلکہ زمین پر اللہ کے دین کو قائم کرنا اور کفر کے غلبے کو توڑنا ہے۔[cite: 8]
    دعوت میں تدریج: جہاد سے پہلے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے گی کیونکہ اسلام میں عقیدے کے معاملے میں کوئی جبر یا زبردستی نہیں ہے۔[cite: 8]
  • ۲
    ظاہر پر فیصلہ اور باطن کا معاملہ:
    ظاہری احکام معتبر ہیں: دنیا میں کسی بھی شخص کے ساتھ معاملہ اس کے ظاہری اعمال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔ جو شخص کلمہ پڑھ لے، وہ مسلمان ہے اور اس کی جان و مال محفوظ ہے۔[cite: 8]
    دلوں کا حال اللہ کے سپرد: کسی مسلمان پر محض شک یا بدگمانی کی بنا پر کفر کا فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا۔ منافقین کا باطن خواہ کچھ بھی ہو، دنیا میں ان سے مسلمانوں والا سلوک ہوگا اور آخرت میں ان کا حساب اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔[cite: 8]
    فتنوں میں راہنمائی: فتنوں اور مشتبہ حالات میں یہ حدیث مسلمانوں کے لیے بہترین ضابطہ ہے کہ وہ لوگوں کے ظاہر کو دیکھ کر ہی فیصلہ کریں۔[cite: 8]
  • ۳
    اسلام کے بنیادی ارکان اور ایمان کی حقیقت:
    ارکانِ اسلام کا نچوڑ: یہ حدیث اسلام کے عظیم بنیادی ارکان (توحید، رسالت، نماز اور زکاۃ) کا احاطہ کرتی ہے۔[cite: 8]
    ایمان اور اعمال کا تعلق: ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اعمال (نماز اور زکاۃ) ایمان کا لازمی حصہ ہیں، جن سے بندے کے ایمان کا ثبوت ملتا ہے۔[cite: 8]
  • ۴
    جان و مال کا تحفظ اور معاشرتی حقوق:
    انسانی جان و مال کی حرمت: اسلام امن و سلامتی کا دین ہے جو انسان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسلام قبول کرتے ہی شخص کے تمام معاشرتی حقوق (وراثت، نکاح، اخوت) طے ہو جاتے ہیں۔[cite: 8]
    حقِ اسلام (قانون کی بالادستی): جان و مال کا یہ تحفظ اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک کوئی شخص شریعت کے طے کردہ قوانین (جیسے قصاص یا حدود) کی خلاف ورزی نہ کرے، جس کا ثبوت [إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ] سے ملتا ہے۔[cite: 8]
  • ۵
    ایمرجنسی حالات اور اسلاف کا طرزِ عمل:
    حقوق اللہ اور حقوق العباد کا توازن: نماز کے ذریعے بندے کا تعلق اللہ سے قائم ہوتا ہے اور زکاۃ کے ذریعے معاشرے کے فقراء کی مدد ہوتی ہے، جس سے ایک بہترین اجتماعی نظام بنتا ہے۔[cite: 8]
    خلفائے راشدین کی دلیل: یہ حدیث اتنی واضح ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مانعینِ زکاۃ کے خلاف قتال کے لیے اسی سے استدلال فرمایا تھا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ارکانِ اسلام میں تفریق ممکن نہیں۔[cite: 8]
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-7

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 7

دین سراسر خیر خواہی اور نصیحت کا نام ہے

عَنْ أَبِي رُقَيَّةَ تَمِيمِ بْنِ أَوْسٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ»۔ قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: «لِلَّهِ، وَلِکِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ»۔

[رواہ مسلم: 55]

ترجمہ:

حضرت ابو رقیہ تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین سراسر خیر خواہی اور نصیحت کا نام ہے۔“ ہم نے عرض کیا: کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ (حکام و قائدین) کے لیے، اور عام مسلمانوں کے لیے۔“ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حدیث کی اہمیت اور "نصیحت" کا جامع مفہوم:
    مدارِ اسلام: یہ حدیث اسلام کے عظیم ترین اصولوں پر مبنی ہے، اسی لیے علماء اسے دین کا مرکز (مدارِ اسلام) شمار کرتے ہیں۔
    نصیحت کا حقیقی معنی: لغت میں نصیحت کا مطلب "خلوص" ہے (جیسے موم سے پاک خالص شہد)۔ شرعی مفہوم میں نصیحت محض لوگوں کے عیوب نکالنے کا نام نہیں، بلکہ اس میں اخلاص، محبت، مکمل خیر خواہی اور دوسروں کے لیے بھلائی کی رغبت شامل ہے۔
    جامعیت: یہ اصول زندگی کے تمام شعبوں، یعنی عبادات اور معاملات، دونوں پر محیط ہے۔
  • ۲
    تعلقات کی درجہ بندی اور ترجیحات کا تعین:
    ترجیحات کی ترتیب: حدیث میں انسان کے تمام تعلقات کو ایک خوبصورت ترتیب سے بیان کیا گیا ہے: سب سے پہلے اللہ، پھر اس کی کتاب، پھر اس کے رسول ﷺ، پھر مسلم حکمران اور آخر میں عوام۔
    حقوق کی ادائیگی: اللہ کے ساتھ معاملات میں "اخلاص" اور مخلوق کے ساتھ "سچائی" بنیادی شرط ہے۔ ہر حق دار کو اس کا حق دینا ضروری ہے، تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
  • ۳
    خالق، کتابِ الہٰی اور رسول ﷺ کے ساتھ خیر خواہی:
    اللہ کے لیے نصیحت: خالص توحید اپنانا، شرک سے بچنا، احکامات کی مکمل پابندی کرنا اور جہاں سے اللہ نے منع کیا ہے وہاں سے خود کو دور رکھنا۔ یہ اللہ سے سچی محبت کی علامت ہے۔
    قرآنِ مجید کے لیے نصیحت: قرآن پر کامل ایمان لانا، اس کی تلاوت، تدبر اور احکامات پر عمل کرنا، نیز قرآنی علوم اور حفاظِ کرام کی حوصلہ افزائی و سرپرستی کرنا۔
    رسول اللہ ﷺ کے لیے نصیحت: آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان، سنت کی کامل پیروی اور آپ ﷺ کی محبت کو اپنی جان, مال اور اولاد پر مقدم رکھنا۔ البتہ اس محبت میں کوئی شرکیہ غلو نہ ہو، بلکہ سنتوں کا دفاع اور آپ ﷺ کی آل و اصحاب کا دل سے احترام کیا جائے۔
  • ۴
    مسلم حکمرانوں اور عوام کے حقوق و خیر خواہی:
    حکمرانوں کے لیے نصیحت: جائز امور میں ان کی اطاعت کرنا، نیک کاموں میں تعاون، حکمت کے ساتھ حق بات پہنچانا، ان کی عیب پوشی کرنا اور ان کے لیے دعائے خیر کرنا۔
    عوام کے لیے نصیحت: مسلمانوں کے دینی و دنیاوی مفادات کی فکر کرنا، ان کی پردہ پوشی اور عزت کی حفاظت کرنا۔ اس میں والدین اور اساتذہ کا اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھانا، اور امت کے مسائل میں دلچسپی لے کر حکمت و نرمی سے دعوت و اصلاح کا کام کرنا بھی شامل ہے۔
  • ۵
    قلبی امراض کا علاج اور پاکیزہ معاشرے کا قیام:
    باطنی پاکیزگی: نصیحت کا جذبہ انسان کے دل میں اللہ کی نگرانی کا احساس پیدا کرتا ہے، جس سے حسد، بغض، کینہ اور دشمنی جیسی دل کی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں۔
    دھوکہ دہی کا خاتمہ: خیر خواہی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ جو دھوکہ دیتا ہے وہ اس کامل اسلامی وصف سے محروم ہے۔
    مثالی معاشرہ: اس حدیث پر عمل کرنے سے ایک ایسا اسلامی معاشرہ وجود میں آتا ہے جو باہمی محبت، اتحاد، تعاون اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسی عظیم بنیادوں پر استوار ہوتا ہے۔ اسلام محض عبادات کا نہیں، بلکہ ایک بہترین حسنِ معاشرت کا مکمل نظام ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-6

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 6

حلال، حرام اور مشتبہ امور اور دل کی اصلاح کا بیان

عن النُّعمان بن بَشير رضي الله عنه قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ -وَأَهْوَى النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ-: «إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ فقد اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ، كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِکُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ»۔

[صحيح مسلم: 1599]

ترجمہ:

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا -اور نعمان نے اپنی انگلیوں سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا- : ”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ چنانچہ جو شخص شبہ والی چیزوں سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کرلیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا، وہ حرام میں پڑ جائےگا۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی محفوظ چراہ گاہ کے اردگرد جانور چراتا ہے۔ ایسے میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لے۔ سنو! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراہ گاہ ہوتی ہے (جس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی)۔ آگاہ رہو! اللہ کی چراگاہ اس کى حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ درست ہو جاتا ہے، تو سارا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ جان لو! وہ دل ہے۔“ [متفق علیہ]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حلال، حرام اور مشتبہ امور کا شرعی قاعده:
    شریعت کی صراحت: اسلامی شریعت مکمل اور واضح ہے۔ اس میں واضح حلال (جیسے عام پاکیزہ غذائیں) اور واضح حرام (جیسے چوری، زنا، شراب) بالکل عیاں ہیں۔ حلال سے فائدہ اٹھانے پر کوئی پابندی نہیں اور حرام سے بچنا فرضِ عین ہے۔
    مشتبہات سے پرہیز: مشتبہ چیزیں وہ ہیں جن کا حکم عام لوگوں پر واضح نہیں ہوتا۔ مکروہ اور شک والی چیزوں پر اصرار انسان کو بالآخر حرام تک لے جاتا ہے، لہٰذا ان سے بچنا لازمی ہے۔
    اللہ پر افتراء سے ممانعت: کسی بھی انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دے۔
  • ۲
    مشتبہ امور میں اللہ کی حکمت اور علمِ دین کا مقام:
    ایمان کی آزمائش: معاملات میں مشتبہ امور کا پایا جانا اللہ کی طرف سے ایک امتحان ہے، تاکہ سچے مؤمن (جو تقویٰ اختیار کرتا ہے) اور خواہش پرست کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔
    شریعت میں کوئی ابہام نہیں: شریعت میں درحقیقت کوئی چیز غیر واضح نہیں۔ مشتبہ صرف اس کے لیے ہے جو لاعلم ہے، جبکہ راسخ العلم علماء ہر چیز کا شرعی حکم جانتے ہیں۔
    علماء کا احترام: اس قاعدے سے یہ اصول بھی ملتا ہے کہ پیچیدہ مسائل میں اگر اہلِ علم سے کوئی چوک ہو جائے تو ان کے لیے عذر تلاش کرنا چاہیے نہ کہ طعن و تشنیع کرنا۔
  • ۳
    دین و آبرو کی حفاظت اور تقویٰ (ورع):
    دین کی اولیت: ایک سچا مسلمان مشتبہ چیزوں سے اس لیے بچتا ہے تاکہ اس کی عزت و آبرو محفوظ رہے اور لوگ عیب جوئی نہ کریں۔ تاہم، آبرو سے بھی بڑھ کر دین کی حفاظت کو ہمیشہ مقدم رکھا جاتا ہے۔
    تقویٰ کا اعلیٰ معیار: یہ حدیث ایک مومن کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ محض حرام ہی نہیں، بلکہ ہر اس شک والی چیز سے بھی بچ جائے جو اس کی آخرت کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔
  • ۴
    دل کی اصلاح: تمام اعمال کا دارومدار:
    اعضاء کا سردار: دل انسانی جسم کا بادشاہ ہے۔ اعمال کے نیک یا بد ہونے کا سارا دارومدار دل کی نیت اور اس کی پاکیزگی پر ہے۔ ظاہری اچھائی یا برائی دراصل باطنی حالت ہی کا عکس ہوتی ہے۔
    حلال رزق اور دل کی نرمی: خالص حلال رزق انسان کے ایمان کو جِلا بخشتا اور دل کو نرم کرتا ہے۔ شبہات کی طرف میلان دراصل دل کے بیمار ہونے کی علامت ہے۔
    دل کی روحانی بیماریاں اور علاج: جسمانی صحت سے زیادہ دل کی روحانی صحت اہم ہے۔ اسے کفر، حسد، کینہ، تکبر اور نفاق سے پاک رکھنا ضروری ہے۔ کثرتِ استغفار اور ذکرِ الہٰی سے دل کی سختی نرمی میں اور بیماری شفا میں بدل جاتی ہے۔
  • ۵
    حدود اللہ اور نبی ﷺ کا کمالِ طریقۂ تعلیم:
    اللہ کی حدود: ہر بادشاہ کی طرح ملک الملوک (اللہ تعالیٰ) کی بھی کچھ حدود (حرام کردہ اشیاء) ہیں، جن کے قریب پھٹکنے سے بھی سختی سے منع کیا گیا ہے۔
    تمثیل کے ذریعے تعلیم: نبی کریم ﷺ نے دعوت و تبلیغ کے میدان میں بہترین حکمتِ عملی سکھائی۔ آپ ﷺ نے "چراگاہ، مویشی اور چرواہے" کی روزمرہ کی بہترین مثال دے کر ایک پیچیدہ اور حساس شرعی مسئلے کو عوام کے لیے نہایت واضح اور عام فہم بنا دیا۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-5

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 5

بدعت کی ممانعت اور اتباعِ سنت کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ» متفق عليه۔ وفي رواية لمسلم: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ»۔

[صحيح البخاري: 2697، صحيح مسلم: 1718]

ترجمہ:

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی، جو اس کا حصہ نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہیں ہے“۔
ایک اور روایت (جو کہ امام مسلم کی ہے) میں ہے: ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا، جس کے متعلق ہمارا حکم نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہيں ہے“۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دین کی بنیاد اور اتباعِ رسول ﷺ:
    شریعت کی تکمیل: یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دینِ اسلام مکمل ہو چکا ہے، اب اس میں کسی بھی قسم کی کمی یا زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
    قرآن و حدیث کی پیروی: عبادات اور زندگی کے تمام شعبوں (معاملات) کی بنیاد صرف قرآن اور صحیح حدیث پر ہے، نہ کہ انسانی رائے یا پسند (استحسان) پر.
    مؤمن کا شیوہ: ایک سچے مؤمن کی پہچان اتباع (پیروی کرنا) ہے، نہ کہ ابتداع (دین میں نئی چیزیں نکالنا)۔
  • ۲
    بدعت کی تعریف اور ممانعت کا دائرہ:
    بدعت کیا ہے؟ دین کا حصہ سمجھ کر ایجاد کیا گیا ایسا نیا عقیدہ، قول یا عمل جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے دور میں موجود نہ ہو، بدعت کلاتا ہے۔
    دین اور دنیا کا فرق: ممانعت صرف ان نئی چیزوں کی ہے جن کا تعلق دین سے ہو۔ دنیوی شعبوں میں نئی ایجادات اس ممانعت میں نہیں آتیں۔
    بدعت بے بنیاد ہے: فرمانِ رسول [لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا] کے مطابق بدعت کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہوتی، اسی لیے ہر بدعت مردود (مسترد) ہے۔
  • ۳
    اعمال کی قبولیت کا معیار:
    میزانِ اعمال: یہ حدیث اعمال کو پرکھنے کا ترازو ہے۔ جس طرح اخلاص کے بغیر عمل کا ثواب نہیں ملتا، بالکل اسی طرح جو عمل سنتِ رسول ﷺ کے مطابق نہ ہو، وہ اللہ کے ہاں ناقابلِ قبول ہو کر رد کر دیا جاتا ہے۔
  • ۴
    علمِ دین کی اہمیت:
    بدعت کی جڑ: تمام بدعتوں اور گمراہیوں کی بنیادی وجہ شرعی دلائل سے جہالت اور لاعلمی ہے۔
    طلبِ علم کا تسلسل: انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم کی جستجو جاری رکھے تاکہ اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی صحیح معرفت حاصل ہو سکے اور وہ گمراہی سے بچ سکے۔
  • ۵
    نبی کریم ﷺ کی شفقت:
    امت سے خیر خواہی: رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے لیے انتہائی شفیق اور مہربان تھے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے امت کو ہر اس راستے سے پہلے ہی خبردار کر دیا جو ان کے اعمال کی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-4

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 4

تخلیقِ انسانی کے مراحل اور تقدیر کا بیان

عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا نُطْفَةً، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذٰلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذٰلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكِتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلٰهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا».

[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ (3208)، وَمُسْلِمٌ (2643)]

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا، اور آپ سچے اور سچ بتائے گئے ہیں:
"تم میں سے ہر ایک کی تخلیق اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی صورت میں جمع کی جاتی ہے، پھر وہ اتنے ہی دنوں تک جما ہوا خون (علقہ) بنتا ہے، پھر اتنے ہی دنوں تک گوشت کا لوتھڑا (مضغہ) بنتا ہے، پھر اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونک دیتا ہے، اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے: اس کا رزق، اس کی عمر، اس کا عمل، اور یہ کہ وہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت۔

پس قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! تم میں سے کوئی شخص جنت والوں کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ جہنم والوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی شخص جہنم والوں کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ جنت والوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔" [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    عظمتِ رسالت اور ایمانیات: نبی کریم ﷺ "الصادق المصدوق" (سچے اور جنہیں سچ بتایا گیا) ہیں۔ صحابہ کرام آپ ﷺ کی بے حد تعظیم کرتے تھے اور آپ ﷺ کے بتائے ہوئے غیبی امور (جیسے روح پھونکنا اور فرشتوں کا لکھنا) پر مکمل اور غیر متزلزل ایمان رکھتے تھے۔
  • ۲
    تخلیقِ انسانی اور غور و فکر (تکبر کا علاج): انسان کی تخلیق نطفہ، علقہ (خون کا لوتھڑا) اور مضغہ (گوشت کا ٹکڑا) کے 40، 40 دن کے مراحل (کل 120 دن) سے گزر کر ہوتی ہے۔ اپنی اس معمولی ابتدا پر غور کرنا تکبر کا بہترین علاج، اللہ کی قدرتِ کاملہ کا ثبوت اور اس کی بے شمار نعمتوں پر شکر گزار ہونے کا ذریعہ ہے۔ جس رب نے انسان کو پہلی بار پیدا کیا، اس کے لیے دوبارہ زندہ کرنا نہایت آسان ہے۔
  • ۳
    تقدیر پر ایمان اور فرشتوں کی ڈیوٹی: اللہ کا علم لامحدود ہے۔ ماڈ کے پیٹ میں ہی اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ بچے کا رزق، عمر، عمل اور انجام (نیک بخت یا بدبخت) لکھ دیتا ہے۔ یہ فرشتوں کی مکمل فرمانبرداری اور تقدیر کے برحق ہونے کی واضح دلیل ہے۔
  • ۴
    اسقاطِ حمل (Abortion) کے شرعی احکام: 120 دن گزرنے کے بعد بچے میں روح پھونک دی جاتی ہے، لہٰذا اس کے بعد اسے ضائع کرنا (ناحق قتل ہونے کے سبب) قطعی حرام ہے۔ اگر 120 دن کے بعد بچہ مردہ پیدا ہو یا گر جائے، تو اسے باقاعدہ غسل دیا جائے گا، کفن پہنایا جائے گا اور نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔ 120 دن سے پہلے بھی اسقاط جائز نہیں، سوائے کسی شدید شرعی یا طبی مجبوری (جیسے ماں کی جان کو خطرہ) کے۔
  • ۵
    دنیاوی زندگی میں سکون اور اطمینان: چونکہ انسان کا رزق اور موت کا وقت پہلے سے طے شدہ ہے اور اس میں تبدیلی ممکن نہیں، اس لیے انسان کو رزق کے معاملے میں پرسکون رہنا چاہیے، حرام ذرائع سے بچنا چاہیے اور موت کے خوف سے بے نیاز ہو کر بہادری سے زندگی گزارنی چاہیے۔ نیز، اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔
  • ۶
    حسنِ خاتمہ کی فکر: انسان کے تمام اعمال کا دارومدار اس کے انجام (خاتمے) پر ہے۔ اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ برے انجام سے ڈرے، اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور سلف صالحین کی طرح ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے "حسنِ خاتمہ" (ایمان پر موت) کی دعا مانگتا رہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-3

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 3

اسلام کے پانچ بنیادی ارکان

عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ"۔

[رواہ البخاری ومسلم]

ترجمہ:

ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا"۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اسلام ایک عظیم الشان عمارت: اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اسلام کو ایک ایسی پختہ عمارت سے تشبیہ دی ہے جو پانچ مضبوط ستونوں پر کھڑی ہے۔ اگر یہ ستون گر جائیں تو پوری عمارت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
  • ۲
    توحید و رسالت سب سے پہلا رکن: کلمہ شہادت (توحید اور محمد ﷺ کی رسالت کا اقرار) اسلام کا بنیادی اور سب سے اہم ستون ہے۔ اس کے بغیر کوئی بھی انسان دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی عمل قبول ہوتا ہے۔
  • ۳
    نماز دین کا ستون: شہادتین کے بعد نماز کا مرتبہ سب سے بلند ہے۔ یہ مومن اور کافر کے درمیان فرق کرنے والی عبادت ہے، جسے کسی بھی حال میں (صحت یا بیماری) معاف نہیں کیا گیا۔
  • ۴
    مالی اور بدنی عبادات کا امتزاج: اسلام میں جہاں بدنی عبادات (نماز اور روزہ) ضروری ہیں، وہاں مالی عبادات (زکوٰۃ) بھی فرض کی گئی ہیں تاکہ معاشرے کے غریبوں اور مسکینوں کی کفالت ہو سکے۔
  • ۵
    حج اور روزہ کی اہمیت: رمضان کے روزے نفس کی پاکیزگی اور تقویٰ کا ذریعہ ہیں، جبکہ حج زندگی میں ایک بار صاحبِ استطاعت پر فرض کیا گیا ہے جو کہ مسلمانوں کے عالمی اتحاد اور بندگی کی بہترین مثال ہے۔
  • ۶
    راویِ حدیث کی فضیلت: اس حدیث کے راوی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، جو علم، تقویٰ اور سنتِ نبوی کی کامل پیروی میں صحابہ کرام میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

فہرستِ احادیث مبارکہ

(الاربعون النووية)

Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-2

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 2

اسلام، ایمان، احسان اور قیامت کی نشانیاں

عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَال : بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ذَاتَ يَوْمٍ إَذْ طَلَعَ عَلَيْناَ رَجُلٌ شَدِيْدُ بَيَاضِ الثّياب شَدِيْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لاَ يُرَى عَلَيهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلاَ يَعْرِفُهُ مِنا أحَدٌ حَتى جَلَسَ إلَى النبِي فَأَسْنَدَ رُکْبَتَيْهِ إلَى رُکْبَتَيْهِ وَوَضَعَ کَفيْهِ عَلَى فَخِذِيْهِ وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الإِسْلاَم ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : " الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لاَ إلَه إلاَّ اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدَاً رَسُولُ...

[رَوَاهُ مُسْلِمٌ]

ترجمہ:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ہمارے سامنے ایک شخص آیا، جس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت سیاہ تھے، اس پر سفر کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہ تھا۔ یہاں تک کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گیا، اپنے گھٹنوں کو آپ کے گھٹنوں سے ملا دیا اور اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ دیے، پھر کہا: اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر تم استطاعت رکھتے ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ ہمیں تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کر رہا ہے اور پھر خود ہی تصدیق بھی کر رہا ہے۔

اس نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کی رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ، اور تقدیر پر ایمان لاؤ خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ اس نے کہا: مجھے احسان کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس نے کہا: پھر اس کی نشانیوں کے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ لونڈی اپنی مالک کو جنم دے، اور یہ کہ تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن, محتاج چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔ پھر وہ چلا گیا۔ میں کچھ دیر ٹھہرا رہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! کیا تم جانتے ہو سوال کرنے والا کون تھا؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل تھے، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ [مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دین کے تین بنیادی درجات (اسلام، ایمان، احسان):
    دین صرف ظاہری عبادات تک محدود نہیں بلکہ اس کے تین اہم درجات ہیں:
    اسلام (ظاہری اعمال): یہ دین کی عملی عمارت ہے، جس میں کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسی عبادات شامل ہیں۔
    ایمان (باطنی عقائد): یہ دین کی بنیاد ہے۔ اس میں اللہ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت اور تقدیر (خیر و شر کے اللہ کی طرف سے ہونے) پر کامل یقین شامل ہے۔ (جب اسلام اور ایمان کا ایک ساتھ ذکر ہو تو اسلام سے مراد ظاہری اعمال اور ایمان سے مراد باطنی عقائد ہوتے ہیں)۔
    احسان (عبادت کا اعلیٰ مقام): یہ اللہ کی بندگی کا سب سے اونچا درجہ ہے، یعنی عبادت اس خلوص سے کی جائے گویا آپ اللہ کو دیکھ رہے ہیں (درجہ مشاہدہ)، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو یہ کامل یقین ہو کہ اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے (درجہ مراقبہ)۔
  • ۲
    علم حاصل کرنے کے آداب اور اساتذہ کے لیے رہنمائی:
    سوال و جواب کا طریقہ: علم سکھانے کے لیے سوال و جواب بہترین طریقہ ہے۔ سوال کرنا علم کی کنجی ہے؛ تکبر کرنے والا کبھی علم نہیں سیکھ سکتا‌۔
    مجلسِ علم کے آداب: استاد کے سامنے ادب سے بیٹھنا، صاف ستھرے کپڑے پہننا (جو کہ تکبر نہیں)، اور مجلس میں پوری توجہ اور بیداری کے ساتھ بیٹھنا علم حاصل کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
    لا ادری (مجھے نہیں معلوم): جس بات کا علم نہ ہو اس پر صاف کہہ دینا کہ "مجھے نہیں معلوم"، انسان کے مرتبے کو کم نہیں کرتا۔ نیز، استاد کو چاہیے کہ وسیع سوال کا جواب اہم اور ضروری باتوں تک محدود رکھے۔
  • ۳
    علمِ غیب اور قیامت کی نشانیاں:
    علمِ غیب صرف اللہ کے پاس ہے: قیامت کب آئے گی، یہ قطعی علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنی تمام تر عظمت کے باوجود غیب کی اتنی ہی باتیں جانتے تھے جتنی اللہ نے انہیں بتائیں۔ آپ ﷺ کو عالم الغیب سمجھنا درست نہیں۔
    قیامت کی نشانیاں: معاشرتی اقدار کا الٹ جانا (جیسے لونڈی کا مالک کو جننا) اور غریب چرواہوں کا بڑی بڑی عمارتیں بنانا قیامت کی علامات میں سے ہے۔
  • ۴
    فرشتوں کا مقام اور اللہ کی رحمت:
    اللہ کی رحمت اور رہنمائی: یہ اللہ کی خاص رحمت ہے کہ وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے مختلف اسباب بناتا ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام کا انسانی شکل میں آنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کا دین سکھانے کا ایک ذریعہ تھا۔
    حضرت جبریل علیہ السلام کی فضیلت: اہل سنت والجماعت کے نزدیک وہ اللہ کے انتہائی معزز، طاقتور اور امین فرشتے ہیں جو وحی لانے، دین سکھانے اور مؤمنین کی مدد کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-1

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 1

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے

عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَبِي حَفْصٍ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: "إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِکُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَنْکِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ"۔

[رواہ البخاری ومسلم]

ترجمہ:

امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی، تو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کے لیے ہے، اور جس کی ہجرت دنیا (کے فائدے) حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کے لیے وہ ہجرت کر رہا ہے"۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دین کی بنیاد: یہ حدیث دین کا بنیادی اصول ہے۔ اسی لیے امام بخاری رحمہ اللہ سمیت بڑے محدثین نے اپنی کتابوں کا آغاز اسی سے کیا ہے تاکہ ہر کام سے پہلے نیت درست کرنے کی یاد دہانی ہو۔
  • ۲
    سب کے نزدیک مقبول: یہ حدیث صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، لیکن اس کے باوجود پوری امت اس کے درست ہونے پر متفق ہے۔
  • ۳
    نیت کی جگہ دل ہے: نیت کا تعلق صرف دل سے ہے، اسے زبان سے ادا کرنا درست نہیں۔ جبکہ اعمال میں دل، زبان اور جسم کے تمام کام شامل ہیں۔
  • ۴
    قبولیت کی شرط: اللہ کے ہاں کوئی بھی عمل اس وقت تک قبول نہیں ہوتا جب تک کہ اس میں دکھاوا نہ ہو اور وہ خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔
  • ۵
    عام کام بھی عبادت: اگر نیت اچھی اور خالص اللہ کے لیے ہو، تو روزمرہ کے عام کام (جیسے کھانا، پینا، سونا) بھی عبادت بن جاتے ہیں اور ان پر ثواب ملتا ہے۔
  • ۶
    دنیا کی حقارت: حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر کیے گئے کام کی بہت عظمت ہے، جبکہ صرف دنیا پانے کی نیت انتہائی حقیر اور معمولی بات ہے۔
  • ۷
    نیت پر ثواب: انسان کو ثواب اس کی نیت کے مطابق ملتا ہے۔ اگر کوئی شخص نیکی کا پختہ ارادہ کرے لیکن کسی مجبوری سے وہ کام نہ کر سکے، تب بھی اسے ثواب مل جاتا ہے۔
  • ۸
    تعلیم کا نبوی طریقہ: بات کو سمجھانے کے لیے عملی مثالیں دینا (جیسے اس حدیث میں ہجرت کی مثال دی گئی ہے) نبی کریم ﷺ کا بہترین طریقہِ تعلیم ہے۔
  • ۹
    ہجرت کا اصل مطلب: ہجرت صرف جگہ بدلنے کا نام نہیں، بلکہ گناہوں کو چھوڑ دینا اور برے لوگوں کی صحبت سے دور ہو جانا بھی ہجرت ہے۔
  • ۱۰
    نیت خالص کرنا آسان ہے: دنیاوی خواہشات انسان کو بھٹکاتی ضرور ہیں، لیکن اگر انسان اللہ کی رضا کی اہمیت جان لے، تو دل سے برے خیالات نکال کر نیت کو خالص کرنا بالکل مشکل نہیں ہے۔