Darul Huda

Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-14

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 14

مسلمان کی جان کی حرمت اور اس کے مباح ہونے کی صورتوں کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ»۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ (6878)، وَمُسْلِمٌ (1676)۔

ترجمہ:

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان شخص کا خون، جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، حلال نہیں؛ مگر تین صورتوں میں: (1) شادی شدہ زانی، (2) جان کے بدلے جان، (3) اپنے دین کو چھوڑنے والا اور جماعتِ مسلمین سے الگ ہونے والا“۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    شریعت کا اصل مقصد اور انسانی جان کی حرمت:
    خون کی حفاظت بنیادی اصل: اسلام میں مسلمان کی جان، مال اور عزت کو انتہائی محترم قرار دیا گیا ہے، یہاں تک کہ مؤمن کی حرمت کعبہ سے بھی بڑھ کر ہے۔
    مقاصدِ شریعت کا تحفظ: شریعت جن پانچ بنیادی چیزوں (ضروریاتِ خمسہ) کی حفاظت کے لیے آئی ہے، ان میں سے تین اہم ترین امور—دین، جان، اور عزت و نسب—کا تحفظ اس حدیث کی اصل روح ہے۔
  • ۲
    انسانی خون مباح ہونے کی استثنائی صورتیں:
    • حدیثِ مبارکہ کے مطابق عام حالات میں کسی مسلمان کا خون حلال نہیں، سوائے تین سنگین ترین جرائم کے، جن سے معاشرے کا امن داؤ پر لگ جاتا ہے:
    • شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرنا (جس سے خاندانی نظام اور نسب تباہ ہوتا ہے)۔
    • کسی کو ناحق قتل کرنا (جس کے بدلے عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے قصاص لازم ہے)۔
    • دینِ اسلام کو چھوڑ کر جماعت (مسلم ریاست) سے بغاوت کرنا۔
  • ۳
    قانون کا نفاذ اور اسلامی حکومت کا دائرہ اختیار:
    ریاست کی ذمہ داری: حدود، سزا اور قصاص نافذ کرنے کا اختیار صرف اور صرف اسلامی حکومت، عدالت اور صاحبِ اختیار کو ہے۔ کسی بھی عام فرد یا ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے یا خود حد نافذ کرنے کی قطعاً اجازت نہیں، کیونکہ اس سے معاشرے میں بدامنی اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔
    عدل و مساوات: اسلامی قانون امیر، غریب، حاکم اور محکوم سب کے لیے برابر ہے۔ شریعت میں سفارش یا طبقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔
  • ۴
    شبہات کا فائدہ اور ثبوت کی اہمیت:
    یقینی ثبوت لازم ہے: کسی پر بھی محض الزام، افواہ، گمان یا سوشل میڈیا کے پروپیگنڈے کی بنیاد پر حد جاری نہیں کی جا سکتی۔ جرم ثابت کرنے کے لیے سخت ترین شرائط (جیسے حدِ زنا کے لیے چار عادل گواہ) مقرر ہیں۔
    شبہات پر حد کا سقوط: اسلام کا اصول ہے کہ شک یا شبہ پیدا ہونے کی صورت میں حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تکفیر (کسی کو کافر قرار دینے) اور سزا دینے میں اصل قاعده احتیاط اور پردہ پوشی ہے۔
  • ۵
    معاشرتی امن، اتحاد اور رحمتِ الہٰی:
    اجتماعی امن اور اتحاد: دین ہمیں جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے اور تفرقہ بازی سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ حدود کا مقصد انتقام نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور جرائم کا انسداد ہے۔
    عفو و توبہ کا کھلا دروازہ: اسلام میں اصل بنیاد رحمت، توبہ، اصلاح اور درگزر پر ہے۔ اگر گناہ گار سچی توبہ کر لے تو اللہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-13

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 13

ایمان کی تکمیل اور دوسروں کے لیے خیر خواہی کا بیان

عَنْ أَبِي حَمْزَةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ـ خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ـ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ»۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ (13)، وَمُسْلِمٌ (45)۔

ترجمہ:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے“۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    ایمان اور عقیدے کی تکمیل:
    کامل ایمان کا معیار: اس حدیث (جو کہ جوامع الکلم میں سے ہے) میں ایمان کی نفی سے مراد اسلام سے خارج ہونا نہیں، بلکہ کامل ایمان کی نفی ہے۔ دوسروں کے لیے خیر چاہنا ایمان کے کمال کی علامت ہے، جب کہ اس میں کمی ایمان کے کمزور ہونے کو ظاہر کرتی ہے (جو کہ اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کی تائید ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے)۔
    اخلاق اور جنت کا تعلق: اچھے اخلاق ایمان کا حصہ ہیں اور لوگوں کے لیے خیر خواہی کا یہ جذبہ انسان کو جنت میں لے جانے کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔
  • ۲
    تزکیۂ نفس اور روحانی علاج:
    دل کی بیماریوں کا خاتمہ: یہ حدیث حسد, بغض, کینہ, خود غرضی اور تکبر جیسی خطرناک روحانی بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ جو دوسروں کے لیے خیر نہیں چاہتا وہ دراصل متکبر اور حاسد ہے۔
    ایثار اور قربانی کی تربیت: انسان فطرتاً اپنے لیے خیر چاہتا ہے، لیکن یہ حدیث نفس کو ایثار اور دوسروں کی بھلائی پر تربیت دیتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں اس ایثار کی بہترین عملی تصویر تھیں۔
  • ۳
    مثالی معاشرہ اور اسلامی اخوت:
    حقوق العباد اور حقیقی بھائی چارہ: اسلام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا نام ہے۔ اس حدیث پر عمل کرنے سے معاشرے میں حقیقی بھائی چارہ، محبت، اور امت کا اتحاد پیدا ہوتا ہے۔
    معاشرتی امن کا ضامن: اگر ہر شخص دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے کرتا ہے، تو معاشرے سے ظلم، خیانت اور دھوکہ دہی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔
    دشمن کے لیے بھی خیر کی چاہت: یہ حکم عام ہے؛ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے مخالفین اور ذاتی دشمنوں کے لیے بھی ہدایت اور بھلائی کی تمنا کرے۔ یہ دراصل حدیث «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» (دین خیر خواہی ہے) کی عملی شکل ہے۔
  • ۴
    عملی زندگی کے مختلف شعبوں میں اطلاق:
    دینی اور دنیاوی دونوں بھلائیاں: حدیث میں 'خیر' سے مراد دونوں جہاں کی بھلائی ہے۔ یعنی دوسروں کے لیے رزق، مال، اور خوشی کے ساتھ ساتھ ہدایت، علم اور نیکی کی بھی تمنا کی جائے۔
    تجارت، دعوت اور تعلیم میں رہنمائی: تاجر اپنے گاہک کے لیے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ عالم اور داعی اپنے شاگردوں اور عوام کے لیے خلوصِ دل سے علم اور ہدایت کو پسند کریں۔
    مستقل عمل اور دعاؤں میں شمولیت: یہ کوئی وقتی جذبہ نہیں، بلکہ زندگی بھر جاری رہنے والا عمل ہے۔ ایک سچے مومن کی یہ پہچان ہے کہ وہ اپنی دعاؤں میں بھی اپنے مسلمان بھائیوں کو اسی طرح یاد رکھتا ہے جیسے خود کو۔
  • ۵
    خلاصہ کلام:
    خلاصہ: نبی کریم ﷺ نے ان مختصر الفاظ میں پورے انسانی اور معاشرتی نظام کی اصلاح کا نسخہ بیان فرما دیا ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے دوسروں کا سچا خیر خواہ بننا ہی ایک مسلمان کو حقیقی مومن بناتا ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-12

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 12

اسلام کے حسن اور لایعنی چیزوں کو چھوڑنے کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ»۔

[رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَابْنُ مَاجَهْ]

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کے اسلام کے حسن میں سے یہ بات ہے کہ وہ ایسی چیز کو چھوڑ دے جو اس کے کسی کام کی نہ ہو“۔ [ترمذی، ابن ماجہ]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دین و شریعت کی عظیم بنیاد:
    جوامع الکلم اور آدابِ اسلام: یہ حدیث نبی کریم ﷺ کے جوامع الکلم میں سے ہے، جس کے مختصر الفاظ میں اخلاق و آداب کا سمندر پوشیدہ ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کے مطابق اسلام کے آدابِ زندگی اسی پر قائم ہیں۔
    اسلام کا حسن اور درجات: یہ حدیث بتاتی ہے کہ لوگوں کے اسلام میں تفاوت (فرق) ہوتا ہے۔ اپنے اسلام کو خوبصورت بنانے کا راز فضول چیزوں کو چھوڑ دینے میں ہے۔
  • ۲
    وقت کی قدر اور کامیابی کا راز:
    عمر اور توانائی کی حفاظت: کامیاب انسان دنیا و آخرت میں اپنی توانائیاں بے فائدہ کاموں میں ضائع نہیں کرتا۔ وقت کو غنیمت جاننا اور غیر ضروری مباحث سے بچنا ہی عقل مندی اور طالبِ علم کی کامیابی ہے۔
    جدید دور (میڈیا/سوشل میڈیا) پر تطبیق: آج کے دور میں انٹرنیٹ، غیر ضروری ویڈیوز، فضول تبصروں اور بحثوں سے دور رہنا اسی حدیث پر عمل کرنے کی بہترین صورت ہے۔
  • ۳
    زبان، اخلاق اور معاشرت کی اصلاح:
    زبان و نگاہ کی حفاظت: یہ حدیث زبان کو لغو گفتگو، غیبت، چغلی اور بہتان سے بچانے کی اصل بنیاد ہے۔
    معاشرتی امن اور نجی زندگی کا احترام: دوسروں کے نجی معاملات میں ٹوہ لگانے اور فضول تجسس سے روک کر یہ حدیث معاشرے کو فتنوں اور فساد سے محفوظ رکھتی ہے۔
  • ۴
    دل کی پاکیزگی اور تزکیۂ نفس:
    عبادت میں خشوع اور اخلاص: فضولیات اور کثرتِ کلام سے دل سخت اور مردہ ہو جاتا ہے۔ ان سے دوری دل کو نرم کرتی ہے، باطن کو پاک کرتی ہے اور عبادت میں یکسوئی (خشوع) پیدا کرتی ہے۔
    اپنی اصلاح کی فکر: مومن کو دوسروں کے عیوب تلاش کرنے کے بجائے اپنے نفس کی اصلاح اور اللہ کی رضا والے کاموں میں مشغول رہنا چاہیے۔
  • ۵
    تربیتی و عملی پہلو:
    سلف صالحین کا طریقہ: نیک لوگ ہمیشہ کم بولتے، فضول میل جول سے بچتے اور صرف فائدہ مند کاموں پر حریص ہوتے تھے۔
    نسلِ نو کی تربیت: والدین اور اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو بچپن ہی سے وقار، سنجیدگی اور فضول چیزوں سے بچنے کی تربیت دیں تاکہ وہ فتنوں سے محفوظ رہ کر جنت کے حقدار بن سکیں۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-11

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 11

شک و شبہات کو چھوڑ کر یقین کو اختیار کرنے کا بیان

عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ سِبْطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَيْحَانَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ»۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ (2520)، وَالنَّسَائِيُّ (5711)، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ۔

ترجمہ:

حضرت ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور آپ کے محبوب تھے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات یاد رکھی ہے: ”جس چیز میں تمہیں شک ہو اسے چھوڑ دو، اور اس چیز کو اختیار کرو جس میں شک نہ ہو“۔ [ترمذی، نسائی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دین و شریعت کی عظیم بنیاد:
    جوامع الکلم اور بنیادی قاعدہ: یہ حدیث اسلام کے اہم ترین اصولوں میں سے ہے۔ یہ شریعت کے اس مشہور فقہی قاعدے کی اصل ہے کہ "یقین شک سے دور نہیں ہوتا"۔
    زندگی کے تمام معاملات کا احاطہ: یہ اصول صرف کھانے پینے تک محدود نہیں، بلکہ تجارت، عبادات، معاشرت اور زندگی کے تمام شعبوں پر لاگو ہوتا ہے۔
  • ۲
    حلال، حرام اور مشتبہ امور کا حکم:
    واضح حلال و حرام: جس چیز کا حلال ہونا یقینی ہو اسے چھوڑنا جائز نہیں، اور جس کا حرام ہونا یقینی ہو اسے چھوڑنا فرض ہے۔
    شبہات سے بچنا: جب کسی معاملے میں شک پیدا ہو جائے تو اسے چھوڑ کر یقین اور اطمینان والی چیز کو اختیار کرنا چاہیے۔ شبہات سے بچنا ہی اصل تقویٰ (ورع) ہے۔
  • ۳
    دل کا اطمینان اور باطنی پاکیزگی:
    سچائی اور جھوٹ کی پہچان: سچ اور حلال کی نشانی دل کا سکون ہے، جبکہ جھوٹ اور مشتبہ چیزوں کی نشانی دل کا اضطراب اور بے چینی ہے۔ مومن کا دل گناہ پر بے چین ہو جاتا ہے۔
    وسوسوں کی نفی: اسلام انسان کو ذہنی سکون اور یقین پر زندگی گزارنے کی دعوت دیتا ہے، وسوسوں اور شک و تردد پر نہیں۔
  • ۴
    دین، عزت اور اخلاق کی حفاظت:
    نقصان اور ندامت سے بچاؤ: کوئی بھی کام کرنے سے پہلے پختہ علم حاصل کرنا چاہیے تاکہ بعد میں پچھتاوا نہ ہو۔
    حرام کے راستوں کو بند کرنا: مشتبہ چیزوں سے دور رہنے والا شخص اپنے دین اور اپنی عزت دونوں کو محفوظ کر لیتا ہے، کیونکہ شبہات میں پڑنے والا انسان آہستہ آہستہ حرام میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
  • ۵
    عملی زندگی اور نوجوانوں کی تربیت:
    ہر دور کے فتنوں کا حل: یہ حدیث ہر مسلمان کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے مشکوک دوستوں، مشتبہ آمدنی اور فتنوں سے بچنے کے لیے یہ بہترین مشعلِ راہ ہے۔
    صحابہ کرام کا طرزِ عمل: سلف صالحین اور اہل بیتِ اطہار احادیث کو یاد رکھنے اور ان پر عمل کرتے ہوئے جائز چیزوں میں بھی احتیاط برتنے کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-10

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 10

پاکیزہ رزق کی اہمیت اور قبولیتِ دعا کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا﴾، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رزَقْنَاكُمْ﴾، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ، أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ! يَا رَبِّ! وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟»۔

[رَوَاهُ مُسْلِمٌ: 1015]

ترجمہ:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو بھی اسی چیز کا حکم دیا ہے جس کا حکم اس نے رسولوں کو دیا تھا۔ چنانچہ فرمایا: ’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔‘
اور فرمایا: ’اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں۔‘
پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے، پراگندہ بال اور غبار آلود ہے، اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر کہتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام، اور اس کی پرورش حرام سے ہوئی ہو، تو ایسے شخص کی دعا کیسے قبول کی جائے؟“ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کمال کا اثبات:
    سراپا پاکیزہ: اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہر عیب، نقص اور کمی سے پاک ہے۔ اس کا ایک نام "طیب" ہے، یعنی وہ ذات اور صفات میں سراپا پاکیزہ ہے۔
    صفتِ علو: دعا میں ہاتھ اوپر اٹھانے سے اللہ تعالیٰ کے لیے صفتِ علو (بلندی) کا اثبات ہوتا ہے۔
  • ۲
    اعمال کی قبولیت کا معیار: اخلاص اور پاکیزگی:
    ظاہری و باطنی صفائی: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ظاہری اور باطنی پاکیزگی شرط ہے۔ وہ صرف وہی اقوال و اعمال قبول فرماتا ہے جو پاک اور خالص ہوں۔
    حلال کمائی: قبولیت کا تعلق کثرتِ عمل سے نہیں، بلکہ اخلاص اور حلال کمائی سے ہے۔ انبیاء اور مؤمنین دونوں کو وحی کے ذریعے پاکیزہ چیزیں کھانے اور نیک عمل کرنے کا ایک جیسا حکم دیا گیا ہے۔
  • ۳
    حلال رزق کی اہمیت اور روحانی اثرات:
    روحانی ایندھن: حلال روزی صرف دنیاوی ضرورت نہیں بلکہ ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ یہ نیک اعمال کے لیے "روحانی ایندھن" کا کام کرتی ہے اور اخلاق و عبادات کو جلا بخشتی ہے۔
    حلال کی برکت: اسلام انسان کی معیشت اور عبادت دونوں کی اصلاح کرتا ہے۔ اللہ کے ہاں حلال مال کی تھوڑی مقدار بھی حرام کی کثرت سے کہیں بہتر ہے۔
  • ۴
    حرام کمائی کے نقصانات اور ہلاکتیں:
    عبادت میں بے رغبتی: حرام مال انسان کی روحانی بصیرت کو کمزور کر دیتا ہے، دل میں سختی اور عبادت میں بے رغبتی پیدا کرتا ہے۔
    حرام کی نحوست: جو شخص حرام پر قائم رہے، اس کی غذا، لباس اور مشروب سب حرام کے اثر میں آ جاتے ہیں، اور یہ نحوست صرف اس کی ذات تک نہیں بلکہ اس کی اولاد اور پورے گھرانے کو متاثر کرتی ہے۔
  • ۵
    آدابِ دعا اور قبولیت کے اسباب و موانع:
    اسبابِ قبولیت: حدیث میں دعا کے چار بڑے آداب اور اسبابِ قبولیت بیان ہوئے ہیں: سفر (جس میں انسان کی عاجزی اور محتاجی نمایاں ہوتی ہے)، عاجزی و انکساری (دل کی سچی کیفیت)، ہاتھ اٹھانا (جو کہ سنتِ رسول ﷺ ہے)، اور الحاح (دعا میں عاجزی کے ساتھ بار بار "یا رب! یا رب!" کہنا)۔
    سب سے بڑی رکاوٹ: اگر دعا کے یہ تمام ظاہری اسباب موجود ہوں، تب بھی حرام کمائی انسان اور رب کے درمیان دیوار بن جاتی ہے اور دعا کی قبولیت کو روک دیتی ہے۔
  • ۶
    حاصلِ کلام (خلاصہ):
    خلاصہ: یہ پوری حدیث مسلمان کو اپنے پیشے، آمدنی، کھانے پینے اور لباس کا جائزہ لینے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ مبارک تعلیم تزکیۂ نفس، اصلاحِ معاش، حسنِ عبادت اور آدابِ دعا کا ایک ایسا جامع مجموعہ ہے جو انسان کو ظاہری دکھاوے سے نکال کر حقیقی شکر گزاری اور بندگی کی راہ دکھاتا ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-9

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 9

اوامر و نواہی میں استطاعت اور فضول بحث کی ممانعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ»۔

(رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ: 7288، وَمُسْلِمٌ: 1337)

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ عبدالرحمن بن صخر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں تمہیں جن چیزوں سے منع کروں ان سے بچو، اور جن چیزوں کا میں تمہیں حکم دوں ان میں سے جتنا تم سے ہوسکے اس پر عمل کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے زیادہ سوالات اور اپنے انبیاء سے اختلاف نے ہلاک کردیا تھا“۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    شریعتِ اسلامیہ کا بنیادی اصول: آسانی اور وسعت:
    آسان دین: اسلام ایک آسان دین ہے جس کا مقصد انسان کو مشقت میں ڈالنا نہیں بلکہ اس کی فلاح ہے۔[cite: 9]
    فطرت کا لحاظ: شریعت میں انسان کی کمزوری اور فطرت کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے، اسی لیے مرض اور سفر جیسے حالات میں احکام کے اندر رخصت اور تدریج (نرمی) رکھی گئی ہے۔[cite: 9]
  • ۲
    اوامر (احکامات) پر عمل: استطاعت کے مطابق:
    حدِ استطاعت: اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔[cite: 9]
    مستقل مزاجی: واجبات ہوں یا مستحبات، مسلمان پر لازم ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق ان پر عمل کرے اور قلیل مگر مستقل نیکی کو اپنائے۔[cite: 9]
  • ۳
    نواہی (ممنوعات) کا معاملہ: مکمل اجتناب اور دوری:
    سخت دائرہ: گناہوں اور ممنوعہ چیزوں کا دائرہ زیادہ سخت ہے۔ تمام ممنوعات (خواہ تحریمی ہوں یا تنزیہی) کو مکمل طور پر چھوڑنا واجب ہے۔[cite: 9]
    اسباب سے دوری: گناہوں سے صرف بچنا ہی کافی نہیں، بلکہ ان کے اسباب، ذرائع اور ان کے قریب جانے سے بھی دور رہنا ضروری ہے۔[cite: 9]
  • ۴
    غیر ضروری سوالات اور بحث و تکرار کی مذمت:
    عمل اصل ہے: دین میں عمل اصل ہے، علم کا مقصد عمل ہونا چاہیے نہ کہ صرف معلومات اکٹھا کرنا۔[cite: 9]
    کریدنے کی ممانعت: بے فائدہ، فرضی (جو واقعات ابھی پیش نہ آئے ہوں) اور غیبی امور (جیسے قیامت کب آئے گی) کے متعلق کرید کرنا سخت ناپسندیدہ ہے، کیونکہ بعض لوگ سوالات کو سستی کا ذریعہ بناتے ہیں۔[cite: 9]
    ضروری مسائل کا علم: البتہ اپنی روزمرہ ضرورت کے مسائل (طہارت، نماز، روزہ، نکاح و طلاق وغیرہ) کو اہل علم سے پوچھ کر سیکھنا فرض ہے۔[cite: 9]
  • ۵
    دین میں غلو اور اختلاف: ہلاکت کا سبب:
    تباہی کا باعث: دین میں بے جا سختی (غلو)، تکلف اور آپس کا جھگڑا امت کی کمزوری اور ہلاکت کا سبب بنتے ہیں۔[cite: 9]
    سابقہ امتوں کا انجام: سابقہ امتیں اپنے انبیاء سے کثرتِ سوال اور اختلاف ہی کی وجہ سے تباہ ہوئیں، جن سے عبرت پکڑنا ضروری ہے۔[cite: 9]
  • ۶
    رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور رحمت و شفقت:
    جوامع الکلم: آپ ﷺ کی یہ تعلیمات (جوامع الکلم) آپ ﷺ کی سچی رسالت کی دلیل ہیں جو عقل و فطرت کے عین مطابق ہیں۔[cite: 9]
    امت پر مہربانی: آپ ﷺ اپنی امت پر نہایت مہربان اور رحیم تھے، اسی لیے آپ ﷺ نے امت کو فتنوں اور ہلاکت کے اسباب سے بار بار خبردار فرمایا۔[cite: 9]
  • ۷
    صحابہ کرام اور امتِ محمدیہ کی فضیلت:
    اطاعت کا راستہ: سابقہ امتوں کے برعکس امتِ محمدیہ (خصوصاً صحابہ کرام) کی یہ فضیلت ہے کہ انہوں نے ضد اور مخالفت کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ نبی ﷺ کے احکامات کو دل سے قبول کیا اور ضرورت کے مطابق ہی سوالات کیے۔[cite: 9]
  • ۸
    حاصلِ کلام (خلاصہ):
    خلاصہ: عمل میں اعتدال اختیار کیا جائے، ممنوعات سے مکمل دوری اختیار کی جائے، احکامات پر طاقت کے مطابق عمل ہو اور فضول بحث و تکرار کے بجائے اتباعِ سنت کو لازم پکڑا جائے۔[cite: 9]
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-8

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 8

ارکانِ اسلام اور جان و مال کی حرمت کا بیان

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى»۔

[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ: 25، وَمُسْلِمٌ: 22]

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کریں، اور زکاۃ ادا کریں۔ پھر جب وہ یہ کام کرلیں تو انہوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کرلیے، مگر اسلام کے کسی حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔“ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دعوت اور جہاد کا اصل مقصد:
    توحید کی بنیاد: تمام انبیاء اور داعیوں کا پہلا کام لوگوں کو اللہ کی توحید اور رسول ﷺ کی رسالت کی طرف بلانا ہے، اور ہر داعی الہٰی احکامات کا پابند ہوتا ہے۔[cite: 8]
    جہاد کا مقصد: اسلام میں قتال یا جہاد کا مقصد دنیاوی مال و دولت، اقتدار، بادشاہت یا انتقام نہیں، بلکہ زمین پر اللہ کے دین کو قائم کرنا اور کفر کے غلبے کو توڑنا ہے۔[cite: 8]
    دعوت میں تدریج: جہاد سے پہلے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے گی کیونکہ اسلام میں عقیدے کے معاملے میں کوئی جبر یا زبردستی نہیں ہے۔[cite: 8]
  • ۲
    ظاہر پر فیصلہ اور باطن کا معاملہ:
    ظاہری احکام معتبر ہیں: دنیا میں کسی بھی شخص کے ساتھ معاملہ اس کے ظاہری اعمال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔ جو شخص کلمہ پڑھ لے، وہ مسلمان ہے اور اس کی جان و مال محفوظ ہے۔[cite: 8]
    دلوں کا حال اللہ کے سپرد: کسی مسلمان پر محض شک یا بدگمانی کی بنا پر کفر کا فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا۔ منافقین کا باطن خواہ کچھ بھی ہو، دنیا میں ان سے مسلمانوں والا سلوک ہوگا اور آخرت میں ان کا حساب اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔[cite: 8]
    فتنوں میں راہنمائی: فتنوں اور مشتبہ حالات میں یہ حدیث مسلمانوں کے لیے بہترین ضابطہ ہے کہ وہ لوگوں کے ظاہر کو دیکھ کر ہی فیصلہ کریں۔[cite: 8]
  • ۳
    اسلام کے بنیادی ارکان اور ایمان کی حقیقت:
    ارکانِ اسلام کا نچوڑ: یہ حدیث اسلام کے عظیم بنیادی ارکان (توحید، رسالت، نماز اور زکاۃ) کا احاطہ کرتی ہے۔[cite: 8]
    ایمان اور اعمال کا تعلق: ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اعمال (نماز اور زکاۃ) ایمان کا لازمی حصہ ہیں، جن سے بندے کے ایمان کا ثبوت ملتا ہے۔[cite: 8]
  • ۴
    جان و مال کا تحفظ اور معاشرتی حقوق:
    انسانی جان و مال کی حرمت: اسلام امن و سلامتی کا دین ہے جو انسان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسلام قبول کرتے ہی شخص کے تمام معاشرتی حقوق (وراثت، نکاح، اخوت) طے ہو جاتے ہیں۔[cite: 8]
    حقِ اسلام (قانون کی بالادستی): جان و مال کا یہ تحفظ اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک کوئی شخص شریعت کے طے کردہ قوانین (جیسے قصاص یا حدود) کی خلاف ورزی نہ کرے، جس کا ثبوت [إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ] سے ملتا ہے۔[cite: 8]
  • ۵
    ایمرجنسی حالات اور اسلاف کا طرزِ عمل:
    حقوق اللہ اور حقوق العباد کا توازن: نماز کے ذریعے بندے کا تعلق اللہ سے قائم ہوتا ہے اور زکاۃ کے ذریعے معاشرے کے فقراء کی مدد ہوتی ہے، جس سے ایک بہترین اجتماعی نظام بنتا ہے۔[cite: 8]
    خلفائے راشدین کی دلیل: یہ حدیث اتنی واضح ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مانعینِ زکاۃ کے خلاف قتال کے لیے اسی سے استدلال فرمایا تھا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ارکانِ اسلام میں تفریق ممکن نہیں۔[cite: 8]
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-7

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 7

دین سراسر خیر خواہی اور نصیحت کا نام ہے

عَنْ أَبِي رُقَيَّةَ تَمِيمِ بْنِ أَوْسٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ»۔ قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: «لِلَّهِ، وَلِکِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ»۔

[رواہ مسلم: 55]

ترجمہ:

حضرت ابو رقیہ تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین سراسر خیر خواہی اور نصیحت کا نام ہے۔“ ہم نے عرض کیا: کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ (حکام و قائدین) کے لیے، اور عام مسلمانوں کے لیے۔“ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حدیث کی اہمیت اور "نصیحت" کا جامع مفہوم:
    مدارِ اسلام: یہ حدیث اسلام کے عظیم ترین اصولوں پر مبنی ہے، اسی لیے علماء اسے دین کا مرکز (مدارِ اسلام) شمار کرتے ہیں۔
    نصیحت کا حقیقی معنی: لغت میں نصیحت کا مطلب "خلوص" ہے (جیسے موم سے پاک خالص شہد)۔ شرعی مفہوم میں نصیحت محض لوگوں کے عیوب نکالنے کا نام نہیں، بلکہ اس میں اخلاص، محبت، مکمل خیر خواہی اور دوسروں کے لیے بھلائی کی رغبت شامل ہے۔
    جامعیت: یہ اصول زندگی کے تمام شعبوں، یعنی عبادات اور معاملات، دونوں پر محیط ہے۔
  • ۲
    تعلقات کی درجہ بندی اور ترجیحات کا تعین:
    ترجیحات کی ترتیب: حدیث میں انسان کے تمام تعلقات کو ایک خوبصورت ترتیب سے بیان کیا گیا ہے: سب سے پہلے اللہ، پھر اس کی کتاب، پھر اس کے رسول ﷺ، پھر مسلم حکمران اور آخر میں عوام۔
    حقوق کی ادائیگی: اللہ کے ساتھ معاملات میں "اخلاص" اور مخلوق کے ساتھ "سچائی" بنیادی شرط ہے۔ ہر حق دار کو اس کا حق دینا ضروری ہے، تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
  • ۳
    خالق، کتابِ الہٰی اور رسول ﷺ کے ساتھ خیر خواہی:
    اللہ کے لیے نصیحت: خالص توحید اپنانا، شرک سے بچنا، احکامات کی مکمل پابندی کرنا اور جہاں سے اللہ نے منع کیا ہے وہاں سے خود کو دور رکھنا۔ یہ اللہ سے سچی محبت کی علامت ہے۔
    قرآنِ مجید کے لیے نصیحت: قرآن پر کامل ایمان لانا، اس کی تلاوت، تدبر اور احکامات پر عمل کرنا، نیز قرآنی علوم اور حفاظِ کرام کی حوصلہ افزائی و سرپرستی کرنا۔
    رسول اللہ ﷺ کے لیے نصیحت: آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان، سنت کی کامل پیروی اور آپ ﷺ کی محبت کو اپنی جان, مال اور اولاد پر مقدم رکھنا۔ البتہ اس محبت میں کوئی شرکیہ غلو نہ ہو، بلکہ سنتوں کا دفاع اور آپ ﷺ کی آل و اصحاب کا دل سے احترام کیا جائے۔
  • ۴
    مسلم حکمرانوں اور عوام کے حقوق و خیر خواہی:
    حکمرانوں کے لیے نصیحت: جائز امور میں ان کی اطاعت کرنا، نیک کاموں میں تعاون، حکمت کے ساتھ حق بات پہنچانا، ان کی عیب پوشی کرنا اور ان کے لیے دعائے خیر کرنا۔
    عوام کے لیے نصیحت: مسلمانوں کے دینی و دنیاوی مفادات کی فکر کرنا، ان کی پردہ پوشی اور عزت کی حفاظت کرنا۔ اس میں والدین اور اساتذہ کا اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھانا، اور امت کے مسائل میں دلچسپی لے کر حکمت و نرمی سے دعوت و اصلاح کا کام کرنا بھی شامل ہے۔
  • ۵
    قلبی امراض کا علاج اور پاکیزہ معاشرے کا قیام:
    باطنی پاکیزگی: نصیحت کا جذبہ انسان کے دل میں اللہ کی نگرانی کا احساس پیدا کرتا ہے، جس سے حسد، بغض، کینہ اور دشمنی جیسی دل کی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں۔
    دھوکہ دہی کا خاتمہ: خیر خواہی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ جو دھوکہ دیتا ہے وہ اس کامل اسلامی وصف سے محروم ہے۔
    مثالی معاشرہ: اس حدیث پر عمل کرنے سے ایک ایسا اسلامی معاشرہ وجود میں آتا ہے جو باہمی محبت، اتحاد، تعاون اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسی عظیم بنیادوں پر استوار ہوتا ہے۔ اسلام محض عبادات کا نہیں، بلکہ ایک بہترین حسنِ معاشرت کا مکمل نظام ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-6

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 6

حلال، حرام اور مشتبہ امور اور دل کی اصلاح کا بیان

عن النُّعمان بن بَشير رضي الله عنه قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ -وَأَهْوَى النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ-: «إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ فقد اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ، كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِکُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ»۔

[صحيح مسلم: 1599]

ترجمہ:

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا -اور نعمان نے اپنی انگلیوں سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا- : ”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔ چنانچہ جو شخص شبہ والی چیزوں سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کرلیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا، وہ حرام میں پڑ جائےگا۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی محفوظ چراہ گاہ کے اردگرد جانور چراتا ہے۔ ایسے میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لے۔ سنو! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراہ گاہ ہوتی ہے (جس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی)۔ آگاہ رہو! اللہ کی چراگاہ اس کى حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سنو! جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ درست ہو جاتا ہے، تو سارا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ جان لو! وہ دل ہے۔“ [متفق علیہ]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حلال، حرام اور مشتبہ امور کا شرعی قاعده:
    شریعت کی صراحت: اسلامی شریعت مکمل اور واضح ہے۔ اس میں واضح حلال (جیسے عام پاکیزہ غذائیں) اور واضح حرام (جیسے چوری، زنا، شراب) بالکل عیاں ہیں۔ حلال سے فائدہ اٹھانے پر کوئی پابندی نہیں اور حرام سے بچنا فرضِ عین ہے۔
    مشتبہات سے پرہیز: مشتبہ چیزیں وہ ہیں جن کا حکم عام لوگوں پر واضح نہیں ہوتا۔ مکروہ اور شک والی چیزوں پر اصرار انسان کو بالآخر حرام تک لے جاتا ہے، لہٰذا ان سے بچنا لازمی ہے۔
    اللہ پر افتراء سے ممانعت: کسی بھی انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دے۔
  • ۲
    مشتبہ امور میں اللہ کی حکمت اور علمِ دین کا مقام:
    ایمان کی آزمائش: معاملات میں مشتبہ امور کا پایا جانا اللہ کی طرف سے ایک امتحان ہے، تاکہ سچے مؤمن (جو تقویٰ اختیار کرتا ہے) اور خواہش پرست کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔
    شریعت میں کوئی ابہام نہیں: شریعت میں درحقیقت کوئی چیز غیر واضح نہیں۔ مشتبہ صرف اس کے لیے ہے جو لاعلم ہے، جبکہ راسخ العلم علماء ہر چیز کا شرعی حکم جانتے ہیں۔
    علماء کا احترام: اس قاعدے سے یہ اصول بھی ملتا ہے کہ پیچیدہ مسائل میں اگر اہلِ علم سے کوئی چوک ہو جائے تو ان کے لیے عذر تلاش کرنا چاہیے نہ کہ طعن و تشنیع کرنا۔
  • ۳
    دین و آبرو کی حفاظت اور تقویٰ (ورع):
    دین کی اولیت: ایک سچا مسلمان مشتبہ چیزوں سے اس لیے بچتا ہے تاکہ اس کی عزت و آبرو محفوظ رہے اور لوگ عیب جوئی نہ کریں۔ تاہم، آبرو سے بھی بڑھ کر دین کی حفاظت کو ہمیشہ مقدم رکھا جاتا ہے۔
    تقویٰ کا اعلیٰ معیار: یہ حدیث ایک مومن کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ محض حرام ہی نہیں، بلکہ ہر اس شک والی چیز سے بھی بچ جائے جو اس کی آخرت کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔
  • ۴
    دل کی اصلاح: تمام اعمال کا دارومدار:
    اعضاء کا سردار: دل انسانی جسم کا بادشاہ ہے۔ اعمال کے نیک یا بد ہونے کا سارا دارومدار دل کی نیت اور اس کی پاکیزگی پر ہے۔ ظاہری اچھائی یا برائی دراصل باطنی حالت ہی کا عکس ہوتی ہے۔
    حلال رزق اور دل کی نرمی: خالص حلال رزق انسان کے ایمان کو جِلا بخشتا اور دل کو نرم کرتا ہے۔ شبہات کی طرف میلان دراصل دل کے بیمار ہونے کی علامت ہے۔
    دل کی روحانی بیماریاں اور علاج: جسمانی صحت سے زیادہ دل کی روحانی صحت اہم ہے۔ اسے کفر، حسد، کینہ، تکبر اور نفاق سے پاک رکھنا ضروری ہے۔ کثرتِ استغفار اور ذکرِ الہٰی سے دل کی سختی نرمی میں اور بیماری شفا میں بدل جاتی ہے۔
  • ۵
    حدود اللہ اور نبی ﷺ کا کمالِ طریقۂ تعلیم:
    اللہ کی حدود: ہر بادشاہ کی طرح ملک الملوک (اللہ تعالیٰ) کی بھی کچھ حدود (حرام کردہ اشیاء) ہیں، جن کے قریب پھٹکنے سے بھی سختی سے منع کیا گیا ہے۔
    تمثیل کے ذریعے تعلیم: نبی کریم ﷺ نے دعوت و تبلیغ کے میدان میں بہترین حکمتِ عملی سکھائی۔ آپ ﷺ نے "چراگاہ، مویشی اور چرواہے" کی روزمرہ کی بہترین مثال دے کر ایک پیچیدہ اور حساس شرعی مسئلے کو عوام کے لیے نہایت واضح اور عام فہم بنا دیا۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-5

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 5

بدعت کی ممانعت اور اتباعِ سنت کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ» متفق عليه۔ وفي رواية لمسلم: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ»۔

[صحيح البخاري: 2697، صحيح مسلم: 1718]

ترجمہ:

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی، جو اس کا حصہ نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہیں ہے“۔
ایک اور روایت (جو کہ امام مسلم کی ہے) میں ہے: ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا، جس کے متعلق ہمارا حکم نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہيں ہے“۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دین کی بنیاد اور اتباعِ رسول ﷺ:
    شریعت کی تکمیل: یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دینِ اسلام مکمل ہو چکا ہے، اب اس میں کسی بھی قسم کی کمی یا زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
    قرآن و حدیث کی پیروی: عبادات اور زندگی کے تمام شعبوں (معاملات) کی بنیاد صرف قرآن اور صحیح حدیث پر ہے، نہ کہ انسانی رائے یا پسند (استحسان) پر.
    مؤمن کا شیوہ: ایک سچے مؤمن کی پہچان اتباع (پیروی کرنا) ہے، نہ کہ ابتداع (دین میں نئی چیزیں نکالنا)۔
  • ۲
    بدعت کی تعریف اور ممانعت کا دائرہ:
    بدعت کیا ہے؟ دین کا حصہ سمجھ کر ایجاد کیا گیا ایسا نیا عقیدہ، قول یا عمل جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے دور میں موجود نہ ہو، بدعت کلاتا ہے۔
    دین اور دنیا کا فرق: ممانعت صرف ان نئی چیزوں کی ہے جن کا تعلق دین سے ہو۔ دنیوی شعبوں میں نئی ایجادات اس ممانعت میں نہیں آتیں۔
    بدعت بے بنیاد ہے: فرمانِ رسول [لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا] کے مطابق بدعت کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہوتی، اسی لیے ہر بدعت مردود (مسترد) ہے۔
  • ۳
    اعمال کی قبولیت کا معیار:
    میزانِ اعمال: یہ حدیث اعمال کو پرکھنے کا ترازو ہے۔ جس طرح اخلاص کے بغیر عمل کا ثواب نہیں ملتا، بالکل اسی طرح جو عمل سنتِ رسول ﷺ کے مطابق نہ ہو، وہ اللہ کے ہاں ناقابلِ قبول ہو کر رد کر دیا جاتا ہے۔
  • ۴
    علمِ دین کی اہمیت:
    بدعت کی جڑ: تمام بدعتوں اور گمراہیوں کی بنیادی وجہ شرعی دلائل سے جہالت اور لاعلمی ہے۔
    طلبِ علم کا تسلسل: انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم کی جستجو جاری رکھے تاکہ اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی صحیح معرفت حاصل ہو سکے اور وہ گمراہی سے بچ سکے۔
  • ۵
    نبی کریم ﷺ کی شفقت:
    امت سے خیر خواہی: رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے لیے انتہائی شفیق اور مہربان تھے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے امت کو ہر اس راستے سے پہلے ہی خبردار کر دیا جو ان کے اعمال کی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔