بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ
جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d
حدیث نمبر 49
کثرتِ ذکرِ الٰہی اور زبان کو ہمیشہ اللہ کی یاد سے تر رکھنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ شَرَائِعَ الإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ، فَدُلَّنِي عَلَى شَيْءٍ أَتَمَسَّكُ بِهِ»، فَقَالَ: «لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ».
ترجمہ:
حضرت عبد اللہ بن بُسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! بے شک مجھ پر اسلام کے احکام (نوافل و مستحبات) بہت زیادہ ہو گئے ہیں، لہٰذا مجھے کوئی ایسی جامع چیز بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہاری زبان ہمیشہ اللہ عزوجل کے ذکر سے تر رہے۔"
فوائدِ حدیث:
-
۱
نیکی کا سچا جذبہ:
• صحابہ کرام ہمیشہ ایسے آسان اعمال کی تلاش میں رہتے تھے جن سے کم محنت میں زیادہ ثواب مل سکے۔ -
۲
فرائض کی ترجیح:
• بندے پر سب سے پہلے بنیادی فرائض لازم ہیں، ان کے بعد نیکیوں میں اضافے کے لیے نوافل کی باری آتی ہے۔ -
۳
ذاتی استطاعت کا لحاظ:
• جب انسان کثرتِ نوافل سے اکتاہٹ یا مشقت محسوس کرے، تو اسے اپنی استطاعت کے مطابق آسان مگر پائیدار عمل چننا چاہیے۔ -
۴
حکیمانہ رہنمائی:
• نبی کریم ﷺ نے سائل کی حالت اور ضرورت کو دیکھ کر اسے سب سے آسان اور مفید حل عطا فرمایا۔ -
۵
زبان کی تر و تازگی کا مفہوم:
• "زبان تر رہنا" کا مطلب ہے کہ انسان ہر گھڑی اور مسلسل اللہ تعالیٰ کی یاد میں لگا رہے۔ -
۶
برائیوں سے قدرتی حفاظت:
• جو زبان تسبیح و تحمید میں مشغول رہتی ہے، وہ غیبت، جھوٹ اور فضول گوئی سے خودبخود بچ جاتی ہے۔ -
۷
آسان ترین عبادت:
• ذکرِ الہٰی کے لیے وضو، قبلہ رخ ہونا یا خاص وقت و جگہ کی شرط نہیں، یہ اٹھتے، بیٹھتے، چلتے اور لیٹتے ہر وقت ممکن ہے۔ -
۸
دل کا سکون اور زندگی:
• مسلسل ذکر سے نہ صرف زبان تر رہتی ہے بلکہ دل کو حقیقی اطمینان اور روحانی توانائی ملتی ہے۔ -
۹
شیطان سے مضبوط ڈھال:
• ہر لمحہ اللہ کو یاد رکھنا انسان کو شیطانی وسوسوں اور برے خیالات سے بچانے کا مضبوط قلعہ ہے۔ -
۱۰
کم محنت، بھاری اجر:
• ذکرِ الہٰی زبان پر ہلکا ہے مگر قیامت کے دن ترازو میں اعمال کے وزن کو سب سے زیادہ بڑھانے والا ہے۔ -
۱۱
ذکرِ عام اور خاص:
• تمام نیکیاں اور نمازیں اللہ کا ذکر ہیں، لیکن سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر خاص اذکار ہیں۔ -
۱۲
کثرت کا خصوصی حکم:
• عام عبادات کی تعداد متعین ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کو بے شمار اور کثرت سے کرنے کا حکم دیا ہے۔ -
۱۳
جوامع الکلم کا نمونہ:
• آپ ﷺ نے مختصر سے جملے میں زندگی بھر کی کامیابی اور نیکیوں کا خزانہ سمیٹ کر رکھ دیا۔ -
۱۴
حسنِ خاتمہ کا ذریعہ:
• جس کی زندگی ذکرِ الہٰی میں گزرتی ہے، اسے موت کے وقت کلمہ طیبہ نصیب ہونا آسان ہو جاتا ہے۔ -
۱۵
محدثین کا اسلوب:
• ائمہ حدیث (جیسے امام بخاری اور ابن رجب) اپنی کتابوں کا اختتام ذکر اور تسبیح پر کرتے تھے تاکہ ان کی محنت کا خاتمہ بھی خیر پر ہو۔