Skip to main content

Darul Huda

Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-49

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 49

کثرتِ ذکرِ الٰہی اور زبان کو ہمیشہ اللہ کی یاد سے تر رکھنے کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ شَرَائِعَ الإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ، فَدُلَّنِي عَلَى شَيْءٍ أَتَمَسَّكُ بِهِ»، فَقَالَ: «لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ».

ترجمہ:

حضرت عبد اللہ بن بُسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! بے شک مجھ پر اسلام کے احکام (نوافل و مستحبات) بہت زیادہ ہو گئے ہیں، لہٰذا مجھے کوئی ایسی جامع چیز بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہاری زبان ہمیشہ اللہ عزوجل کے ذکر سے تر رہے۔"

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    نیکی کا سچا جذبہ:
    • صحابہ کرام ہمیشہ ایسے آسان اعمال کی تلاش میں رہتے تھے جن سے کم محنت میں زیادہ ثواب مل سکے۔
  • ۲
    فرائض کی ترجیح:
    • بندے پر سب سے پہلے بنیادی فرائض لازم ہیں، ان کے بعد نیکیوں میں اضافے کے لیے نوافل کی باری آتی ہے۔
  • ۳
    ذاتی استطاعت کا لحاظ:
    • جب انسان کثرتِ نوافل سے اکتاہٹ یا مشقت محسوس کرے، تو اسے اپنی استطاعت کے مطابق آسان مگر پائیدار عمل چننا چاہیے۔
  • ۴
    حکیمانہ رہنمائی:
    • نبی کریم ﷺ نے سائل کی حالت اور ضرورت کو دیکھ کر اسے سب سے آسان اور مفید حل عطا فرمایا۔
  • ۵
    زبان کی تر و تازگی کا مفہوم:
    • "زبان تر رہنا" کا مطلب ہے کہ انسان ہر گھڑی اور مسلسل اللہ تعالیٰ کی یاد میں لگا رہے۔
  • ۶
    برائیوں سے قدرتی حفاظت:
    • جو زبان تسبیح و تحمید میں مشغول رہتی ہے، وہ غیبت، جھوٹ اور فضول گوئی سے خودبخود بچ جاتی ہے۔
  • ۷
    آسان ترین عبادت:
    • ذکرِ الہٰی کے لیے وضو، قبلہ رخ ہونا یا خاص وقت و جگہ کی شرط نہیں، یہ اٹھتے، بیٹھتے، چلتے اور لیٹتے ہر وقت ممکن ہے۔
  • ۸
    دل کا سکون اور زندگی:
    • مسلسل ذکر سے نہ صرف زبان تر رہتی ہے بلکہ دل کو حقیقی اطمینان اور روحانی توانائی ملتی ہے۔
  • ۹
    شیطان سے مضبوط ڈھال:
    • ہر لمحہ اللہ کو یاد رکھنا انسان کو شیطانی وسوسوں اور برے خیالات سے بچانے کا مضبوط قلعہ ہے۔
  • ۱۰
    کم محنت، بھاری اجر:
    • ذکرِ الہٰی زبان پر ہلکا ہے مگر قیامت کے دن ترازو میں اعمال کے وزن کو سب سے زیادہ بڑھانے والا ہے۔
  • ۱۱
    ذکرِ عام اور خاص:
    • تمام نیکیاں اور نمازیں اللہ کا ذکر ہیں، لیکن سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر خاص اذکار ہیں۔
  • ۱۲
    کثرت کا خصوصی حکم:
    • عام عبادات کی تعداد متعین ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کو بے شمار اور کثرت سے کرنے کا حکم دیا ہے۔
  • ۱۳
    جوامع الکلم کا نمونہ:
    • آپ ﷺ نے مختصر سے جملے میں زندگی بھر کی کامیابی اور نیکیوں کا خزانہ سمیٹ کر رکھ دیا۔
  • ۱۴
    حسنِ خاتمہ کا ذریعہ:
    • جس کی زندگی ذکرِ الہٰی میں گزرتی ہے، اسے موت کے وقت کلمہ طیبہ نصیب ہونا آسان ہو جاتا ہے۔
  • ۱۵
    محدثین کا اسلوب:
    • ائمہ حدیث (جیسے امام بخاری اور ابن رجب) اپنی کتابوں کا اختتام ذکر اور تسبیح پر کرتے تھے تاکہ ان کی محنت کا خاتمہ بھی خیر پر ہو۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-48

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 48

اللہ تعالیٰ پر سچے توکل، محنت اور حلال رزق کے حصول کا بیان

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا».

(رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ)

ترجمہ:

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اگر تم اللہ تعالیٰ پر ویسا توکل کرو جیسا کہ اس پر توکل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اس طرح رزق عطا فرمائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیتا ہے؛ جو صبح کے وقت خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔"

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    توکل اور محنت کا توازن:
    • توکل کا تعلق دل کے یقین سے ہے اور اسباب اپنانا جسم و اعضاء کا کام ہے۔
    • ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا توکل نہیں بلکہ سستی اور نادانی ہے۔
  • ۲
    اسباب پر نہیں، مسبب الاسباب پر بھروسہ:
    • جائز ذرائع اور تدابیر اختیار کرنا شریعت کا حکم ہے، مگر نفع و نقصان کا اصل مالک صرف اللہ ہے۔
    • تدبیر کو سب کچھ سمجھ لینا توحید کے خلاف ہے۔
  • ۳
    پرندوں کی عملی مثال:
    • پرندے گھونسلوں میں بھوکے نہیں بیٹھے رہتے بلکہ صبح روزی کی تلاش میں اڑتے ہیں اور شام کو سیر ہو کر لوٹتے ہیں۔
    • یعنی بھروسہ اللہ پر اور عمل حرکت میں ہے۔
  • ۴
    رزق مقدر مگر جستجو ضروری:
    • رزق کی ضمانت اللہ نے دی ہے لیکن اس کے حصول کو کوشش اور محنت کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔
  • ۵
    صبح خیزی کی برکت:
    • حدیث میں صبح سویرے نکلنے کا ذکر ہے، جو یہ سکھاتا ہے کہ کام کاج کا آغاز دن کے اوائل وقت میں کرنا برکت اور کامیابی کا ضامن ہے۔
  • ۶
    ذہنی سکون اور اضطراب کا خاتمہ:
    • سچا توکل انسان کو مستقبل کے بے جا خوف، معاشی پریشانیوں اور تنگی کے وسوسوں سے آزاد کر کے قلبی اطمینان بخشتا ہے۔
  • ۷
    حلال پر قناعت اور حرام سے دوری:
    • جب یہ پختہ یقین ہو کہ جو نصیب میں ہے وہی ملنا ہے، تو انسان لالچ، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز کمائی سے بچ کر حلال و جائز پر راضی رہتا ہے۔
  • ۸
    اہل و عیال کی کفالت عبادت ہے:
    • پرندے اپنے چوزوں کے لیے بھی دانہ لاتے ہیں، اسی طرح بال بچوں اور زیرِ کفالت افراد کے لیے روزی کمانا توکل کے منافی نہیں بلکہ عین تقاضا ہے۔
  • ۹
    دعا اور تدبیر کا ساتھ:
    • محض مادی تدبیر کافی نہیں، بلکہ اللہ سے دعا اور مدد مانگنا بھی اسباب میں شامل سب سے بڑی قوت ہے۔
  • ۱۰
    تکبر کی نفی اور شکر گزاری:
    • انسان کو اپنی قابلیت، ڈگری یا عقل پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے، کامیابی ملے تو اسے اللہ کا فضل سمجھ کر شکر ادا کرے۔
    • کیونکہ تدبیر انسان کی اور تاثیر اللہ کی ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-47

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 47

منافق کی خصلتوں، امانت و دیانت کی پاسداری اور اخلاقی اصولوں کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ».

(أخرجه البخاري ومسلم)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ پائی جائیں وہ خالص منافق ہوتا ہے، اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت باقی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، جب جھگڑا کرے تو بے باکی و زیادتی (فجور) پر اتر آئے، اور جب معاہدہ کرے تو دھوکا دے۔" [اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    نفاق کی نوعیت اور حقیقت:
    • اس حدیث میں نفاق سے مراد "نفاقِ عملی" (کردار و عمل کی خرابی) ہے، نہ کہ "نفاقِ اعتقادی" (کفر چھپانا)۔
    • لہٰذا ان برائیوں کا مرتکب گناہ گار تو ہوگا مگر دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
  • ۲
    ایمان اور نفاق کی خصلتوں کا اجتماع:
    • انسان کے اندر بیک وقت اصلِ ایمان کے ساتھ نفاق کی کوئی ایک یا زائد بری خصلتیں جمع ہو سکتی ہیں۔
    • چاروں اوصاف جمع ہونے پر وہ کردار کے لحاظ سے منافقِ کامل کہلاتا ہے۔
  • ۳
    احادیث میں تعداد کی تطبیق:
    • منافق کی علامات تین ہوں یا چار، ان میں کوئی تضاد نہیں۔
    • مقصد علامات کی گنتی محدود کرنا نہیں بلکہ منافقانہ کردار کے مختلف اخلاقی و معامالاتی پہلوؤں کو واضح کرنا ہے۔
  • ۴
    سچائی کا التزام اور جھوٹ سے اجتناب:
    • گفتگو میں سچائی فرض ہے؛ بے جا، مشکوک یا جھوٹی بات کہنے سے بہتر ہے کہ انسان مکمل خاموشی اختیار کرے۔
  • ۵
    وعدہ خلافی کا مدار نیت پر:
    • گناہ صرف اس صورت میں ہے جب وعدہ کرتے وقت ہی دل میں توڑنے کی نیت ہو۔
    • سچی نیت کے باوجود ناگہانی مجبوری یا عذر کے سبب وعدہ پورا نہ ہو سکے تو انسان گناہ گار نہیں۔
  • ۶
    جھگڑے میں فجور سے مراد:
    • اختلاف یا نزاع کے وقت حق سے ہٹ جانا، گالی گلوچ کرنا، جھوٹے الزامات لگانا یا فریقِ مخالف پر ظلم و بہتان تراشی کرنا سخت مذموم منافقانہ خصلت ہے۔
  • ۷
    عہد اور وعدے کا فرق:
    • یکطرفہ بات "وعدہ" جبکہ باہمی پختہ معاہدہ "عہد" کہلاتا ہے۔
    • معاہدہ توڑنا (غدر) امانت میں خیانت کے مترادف اور وعدہ خلافی سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔
  • ۸
    معاہدے کی عالمی و بلا تفریق پاسداری:
    • باہمی عہد و پیمان کی پاسداری ہر انسان کے ساتھ لازم ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔
    • اسلام کسی کے ساتھ بھی غداری کی اجازت نہیں دیتا۔
  • ۹
    اصلاح و توبہ کا دروازہ کھلا ہے:
    • "یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے" کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ برائیاں دائمی نہیں ہوتیں۔
    • انسان سچی توبہ اور مسلسل کوشش سے ان رذائل کو ختم کر کے اپنے باطن کو پاک کر سکتا ہے۔
  • ۱۰
    صحابہ کرام کا تقویٰ اور فکرِ آخرت:
    • جلیل القدر صحابہ بھی اپنے کردار پر نفاقِ عملی کے غلبے سے خوفزدہ رہتے تھے، جس سے ہر مومن کو اپنے اعمال کا مسلسل محاسبہ کرتے رہنے کا سبق ملتا ہے۔
  • ۱۱
    عدالتی و قانونی اثرات:
    • جھوٹ اور بے باک جھگڑے جیسی عادات انسان کے کردار (عدالت و ثقاہت) کو مجروح کر دیتی ہیں۔
    • جس کے باعث شرعی عدالت میں اس کی گواہی نا قابلِ قبول قرار پاتی ہے۔
  • ۱۲
    معاشرتی امن کی بنیاد:
    • سچائی، ایفائے عہد اور انصاف پسندی ہی معاشرے کے باہمی اعتماد، تجارت اور اجتماعی امن کے ضامن ہیں۔
    • ان کا فقدان معاشرے کو انتشار اور تباہی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-46

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 46

خوراک میں اعتدال، پیٹ کے استعمال اور حفظانِ صحت کا نبوی اصول

عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مَلَأَ ابْنُ آدَمَ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ، وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ».

ترجمہ:

حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: "کسی انسان نے پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ ابنِ آدم کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھ سکیں؛ اگر زیادہ ہی کھانا ناگزیر ہو، تو ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے (ہوا) کے لیے رکھے۔"

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    محدثین کی اصطلاحات:
    • متاخرین کے عرف میں "رَوَاہُ" اور "خَرَّجَہُ" ہم معنی ہیں، یعنی حدیث کو اپنی سند کے ساتھ کتاب میں روایت کرنا۔
    • امام نووی عموماً "رواہ" اور ابن رجب "خرجہ" استعمال کرتے ہیں۔
  • ۲
    لفظِ "حَسْبُ":
    • اس کا لغوی معنیٰ "کفایت" ہے؛ یعنی زندہ اور توانا رہنے کے لیے محض چند لقمے ہی کافی ہیں۔
  • ۳
    پیٹ کی تشبیہ:
    • پیٹ کو "وعاء" (برتن) کہا گیا، کیونکہ جس طرح لبریز برتن ابل پڑتا ہے، اسی طرح ضرورت سے زیادہ بھرا معدہ نقصان دہ بن جاتا ہے۔
  • ۴
    جامع حفظانِ صحت (طبی و سائنسی فوائد):
    • یہ حدیث طبِ نبوی اور جدید غذائی اصولوں کی بنیاد ہے۔
    • رسول اللہ ﷺ نے صدیوں پہلے پورشن کنٹرول (Portion Control) کا زریں اصول سکھا دیا۔
  • ۵
    امراض سے حفاظت:
    • معدے کو مکمل بھرنا ذیابیطس، موٹاپے، قلبی مسائل اور میٹابولک سنڈروم کی بنیادی جڑ ہے۔
  • ۶
    نظامِ ہضم کی درستگی:
    • ہضم کے لیے گیسٹرک انزائمز اور معدے کی حرکات کو فضا درکار ہوتی ہے۔
    • پانی اور کھانے کا توازن ہاضمے کے تیزاب کو درست رکھتا ہے۔
  • ۷
    تنفس کی آسانی:
    • اگر معدہ بھر جائے تو ڈایافرام پر دباؤ پڑنے سے سانس پھولتا ہے۔
    • پیٹ کا ایک تہائی حصہ خالی رکھنا پھیپھڑوں کو پھیلنے کی مکمل جگہ دیتا ہے۔
  • ۸
    عبادات میں خشوع (روحانی و اخلاقی فوائد):
    • ہلکا پیٹ سستی و کاہلی دور کرتا ہے، جس سے نماز، تہجد اور ذکر میں دل بیدار رہتا ہے۔
  • ۹
    دل کی نرمی:
    • پیٹ بھر کر کھانے سے دل میں سختی (قساوت) پیدا ہوتی ہے اور بصیرت ماند پڑ جاتی ہے۔
  • ۱۰
    نفس پر قابو اور زہد:
    • اعتدال سے غذا لینا غصے اور شہوت کو قابو میں رکھنے اور تقویٰ حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔
    • حقیقی زہد صرف حرام سے بچنا نہیں، بلکہ حلال کھانے میں بھی اسراف اور حد سے بڑھنے سے رکنا ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-45

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 45

شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کی حرمت کا بیان

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمَكَّةَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالأَصْنَامِ»، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ تُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَتُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟ قَالَ: «لا، هُوَ حَرَامٌ»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ؛ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ جَمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ وَأَكَلُوا ثَمَنَهُ».

(رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ)

ترجمہ:

حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا: «اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔» عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیونکہ اس سے کشتیوں پر لیپ کیا جاتا ہے، چمڑوں کو نرم و چکنا کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نہيں، وہ حرام ہے۔» پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت (ہلاک) کرے! جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا، پھر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھا گئے۔» [اسے امام بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حرام اشیاء کی خرید و فروخت کا ضابطہ:
    • شرعی قاعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو حرام فرماتا ہے تو اس کی تجارت اور قیمت کو بھی حرام قرار دیتا ہے۔
    • حرام شے کو بیچ کر نفع کمانا جائز نہیں۔
  • ۲
    حیلہ سازی کی مذمت:
    • کسی حرام چیز کی ظاہری ہیئت، نام یا صفت بدل دینے سے اس کی حرمت ختم نہیں ہوتی۔
    • جیسا کہ یہودیوں نے چربی کو پگھلا کر "ودک" کا نام دے کر بیچا اور وہ لعنت کے مستحق ٹھہرے۔
  • ۳
    عقل کی حفاظت اور شراب کی حرمت:
    • شراب تمام برائیوں کی جڑ (ام الخبائث) ہے کیونکہ یہ عقل کو زائل کرتی ہے۔
    • عقل ضائع ہونے سے انسان بدترین گناہوں، بے حیائی اور ذلت آمیز کاموں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
  • ۴
    شرک کے ذرائع کا سدباب:
    • بتوں کی تجارت مطلقا حرام ہے تاکہ شرک اور غیر اللہ کی عبادت کے تمام دروازے بند رہیں۔
    • البتہ اگر انہیں توڑ کر ان کی صنمیت ختم کر دی جائے تو ان کے پتھر یا لکڑی کو تعمیرات وغیرہ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • ۵
    مردار کے اجزاء کا حکم:
    • مردار کا گوشت کھانا اور بیچنا دونوں حرام ہیں۔
    • اس کی چربی کے دیگر استعمالات (کشتیوں کو لیپ کرنا، چراغ جلانا) سے پرہیز کرنا ہی اولیٰ اور راجح ہے۔
    • صرف حلال جانور کے مردار کی کھال دباغت (رنگنے) کے بعد پاک ہو جاتی ہے اور اسے استعمال میں لانا جائز ہے۔
    • حرام جانور (جیسے کتا، خنزیر وغیرہ) کی کھال دباغت کے بعد بھی پاک یا قابلِ استعمال نہیں ہوتی۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-44

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 44

رضاعت (دودھ پلانے) سے حرمت اور رشتوں کے قیام کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تُحَرِّمُ الرَّضَاعَةُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ».

(صَحِيحُ الْبُخَارِيِّ وَصَحِيحُ مُسْلِمٍ)

ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رضاعت (دودھ پینا) ان تمام رشتوں کو حرام کر دیتی ہے جنہیں ولادت (نسب اور پیدائش) حرام کرتی ہے۔» [صحیح بخاری و صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    جامع شرعی اصول:
    • «تُحَرِّمُ الرَّضَاعَةُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم میں سے ہے، جس کے تحت نسب سے حرام ہونے والی تمام سات عورتیں (ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی) رضاعت سے بھی ابدی طور پر حرام ہو جاتی ہیں۔
  • ۲
    رضاعت کی شرعی شرائط:
    • حرمت ثابت ہونے کے لیے بچے کا ابتدائی دو سال کی عمر میں، الگ الگ اوقات میں کم از کم پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ پیٹ بھر کر دودھ پینا ضروری ہے۔
  • ۳
    بڑے بچے کی رضاعت کی نفی:
    • دو سال کے بعد یا بڑے انسان کے دودھ پینے سے کوئی حرمت ثابت نہیں ہوتی؛ سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ صرف انہی کے ساتھ خاص تھا۔
  • ۴
    حیلہ سازی کا سدِ باب:
    • رضاعت کو دو سال اور پانچ گھونٹ سے مشروط کر کے شریعت نے اس حیلے کا خاتمہ کر دیا جس سے کوئی عورت شوہر کو دودھ پلا کر نکاح ختم کرنے کی کوشش کرے۔
  • ۵
    صاحبِ اللبن (دودھ والے باپ) کا ثبوت:
    • دودھ پلانے والی عورت کا شوہر بچے کا رضاعی باپ بنتا ہے، لہٰذا اس شوہر کی تمام سابقہ و لاحقہ اولاد اور اس کا پورا خاندان بھی بچے کے لیے محرم بن جاتا ہے۔
  • ۶
    ماں کی تمام اولاد سے اخوت:
    • بچہ دودھ پلانے والی عورت کی تمام اولاد کا بھائی بن جاتا ہے، خواہ وہ بچے موجودہ شوہر سے ہوں یا دیگر شوہروں سے۔
  • ۷
    حرمت کا دائرہ صرف دودھ پینے والے تک:
    • رضاعت کی محرمیت صرف دودھ پینے والے بچے اور اس کی آئندہ نسل تک محدود رہتی ہے؛ اس کے حقیقی بھائی بہنوں یا والدین پر اس حرمت کا کوئی اطلاق نہیں ہوتا۔
  • ۸
    نکاح کی حرمت بمقابلہ مالی حقوق:
    • رضاعت سے صرف نکاح کی حرمت، پردے کی رخصت اور محرمیت ثابت ہوتی ہے؛ اس سے وراثت، نفقہ (خرچہ) اور دیت جیسے مالی احکام لاگو نہیں ہوتے۔
  • ۹
    پردے اور خلوت کی رخصت:
    • رضاعی رشتہ قائم ہونے کے بعد عورتوں پر اس بچے سے حجاب لازم نہیں رہتا اور اس کے ساتھ شرعی خلوت (تنہائی میں بیٹھنا) جائز ہو جاتا ہے۔
  • ۱۰
    سفر میں محرم بننے کی اہلیت:
    • رضاعی محرم (جیسے رضاعی بھائی یا بیٹا) شرعی سفر کے دوران عورت کے ساتھ بطورِ محرم سفر کر سکتا ہے۔
  • ۱۱
    شک میں اصل پر عمل:
    • اگر دودھ پینے کی تعداد (پانچ بار یا اس سے کم) میں شک ہو تو شرعی قاعدے کے مطابق یقین کو ترجیح دی جائے گی اور حرمت ثابت نہیں ہوگی۔
  • ۱۲
    حقیقی نسب کا تحفظ:
    • رضاعی تعلق کی وجہ سے بچے کا نسب تبدیل نہیں ہوتا؛ اسے شرعاً اپنے حقیقی والدین ہی کی طرف منسوب رکھا جائے گا۔
  • ۱۳
    حرمتِ مصاہرت کا اطلاق:
    • جس طرح سسرالی رشتوں میں نسبی ساس حرام ہوتی ہے، اسی طرح بیوی کی رضاعی ماں (رضاعی ساس) بھی شوہر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔
  • ۱۴
    معاشرتی وسعت اور خاندانی کفالت:
    • رضاعت کے ذریعے یتیم اور لاوارث بچوں کو بغیر کسی شرعی رکاوٹ کے گھر کے اندر محرم بنا کر پرورش پانے کی سہولت ملتی ہے۔
  • ۱۵
    ثبوت و شہادت میں احتیاط:
    • انساب اور رشتوں کے تقدس کے پیشِ نظر رضاعت کے ثبوت کے لیے شرعاً پختہ گواہی اور مکمل احتیاط لازم ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-43

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

علامہ ابن رجب رحمہ اللہ کی اضافہ شدہ احادیث

مستفاد از شرح شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ
جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 43

اسلامی قانونِ وراثت اور ترکے کی تقسیم کا بنیادی قاعدہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا أَبْقَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ)

(رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ)

ترجمہ:

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فرائض (مقررہ حصے) ان کے حق داروں تک پہنچاؤ، پھر جو فرائض سے بچ رہے، وہ سب سے قریبی مرد کے لیے ہے۔» [اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حدیث کی جامعیت اور فقہی حیثیت:
    • یہ حدیث نبوی علمِ فرائض کا بنیادی قاعدہ کلیہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترکے کی تقسیم میں اصحاب الفروض (جن کے حصے اللہ نے طے کیے ہیں) کو ہمیشہ عصبات پر مقدم رکھا جائے گا۔
  • ۲
    قرآنی فرائض کی تعداد اور ضابطہ:
    • قرآن مجید میں بیان کردہ متعین حصے کل چھ ہیں (نصف، ربع، ثمن، ثلثان، ثلث، سدس)۔
    • ان کو یاد رکھنے کا ریاضیاتی طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف نصف اور اس کے نصف کا سلسلہ ہے، اور دوسری طرف ثلثان اور اس کے نصف کا سلسلہ۔
  • ۳
    عصبہ بالنفس کا حقِ وراثت:
    • اصحاب الفروض کو ان کے متعین حصے دینے کے بعد جو کچھ مال بچ جائے، وہ سب سے قریبی مذکر عصبہ کو دیا جائے گا۔
    • اگر کوئی مقررہ حصے والا نہ ہو تو وہ اکیلا پورے مال کا حق دار ہوتا ہے۔
  • ۴
    «أولى رجل» کا مفہوم:
    • لفظ «أولی» سے مراد زیادہ حق دار ہونا نہیں بلکہ میت سے نسبی اعتبار سے «زیادہ قریب» ہونا ہے۔
    • قربت کا تعین پہلے جہت (فرعیت، ابوت، اخوت، عمومت)، پھر درجے (قرب و بعد) اور پھر قوتِ قرابت (سگا یا علاتی) سے ہوتا ہے۔
  • ۵
    «رجل» کے ساتھ «ذكر» کی قید کی حکمت:
    • اس تقیید کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ میراث کا تعلق بلوغت، طاقت، نصرت یا عمر سے نہیں بلکہ محض ذکورت (مردانہ جنس) کے ثبوت سے ہے۔
    • چنانچہ نومولود بچہ بھی اسی طرح وارث بنتا ہے جس طرح بڑا مرد۔
  • ۶
    عصبہ بالغیر کا اصول:
    • ہر وہ عورت جو تنہا ہونے پر قرآن کی رو سے نصف یا دو تہائی کی حق دار بنتی ہے، اگر اس کے درجے کا مذکر (اس کا بھائی وغیرہ) موجود ہو تو وہ اس کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتی ہے۔
    • مال «لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ» کے تحت تقسیم ہوتا ہے۔
  • ۷
    عصبہ مع الغیر کی مشروعیت:
    • بیٹیوں یا پوتیوں کی موجودگی میں اگر سگی یا علاتی بہنیں ہوں تو وہ عصبہ بن کر بقیہ مال لے لیتی ہیں۔
    • ان کی وجہ سے میت کے چچا یا علاتی بھائی محروم ہو جاتے ہیں، جیسا کہ سنت میں اس استثناء کی وضاحت آئی ہے۔
  • ۸
    ولاء اور آزاد کردہ غلام کی وراثت:
    • نسبی عصبات میں کوئی عورت خود اکیلی عصبہ بالنفس نہیں بنتی۔
    • سببی عصبات میں آزاد کرنے والی خاتون (معتقہ) اپنے آزاد کردہ غلام کے لاوارث ہونے کی صورت میں عصبہ بالنفس بن کر وارث بنتی ہے۔
  • ۹
    اخیافی بہن بھائیوں کا امتیازی حکم:
    • ماں شریک بہن بھائیوں کی وراثت صرف فرض کی بنیاد پر ہوتی ہے اور ان میں مذکر و مؤنث کا امتیاز نہیں رکھا جاتا۔
    • وہ تہائی مال میں مرد اور عورت برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
  • ۱۰
    کلالہ کا مفہوم اور قرآنی نظامِ وراثت:
    • جس میت کی نہ اولاد ہو اور نہ والدین، اس کی میراث کلالہ کہلاتی ہے، جس میں جانب کے رشتہ دار (بہن بھائی) وارث بنتے ہیں۔
    • قرآن کی تینوں بنیادی آیات نے اصول، فروع، ازواج اور کلالہ کے تمام اصولوں کا احاطہ کر لیا ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-42

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 42

اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت، مغفرت اور توحید کی اہمیت کا بیان

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: «يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ مِنْكَ وَلَا أُبَالِي، يَا ابْنَ آدَمَ، لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ، يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً».

(رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ)

ترجمہ:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے ابنِ آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تجھے بخشتا رہوں گا چاہے تیرے اعمال جیسے بھی ہوں اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ اے ابنِ آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک بھی پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے، تو میں تجھے معاف کر دوں گا۔ اے ابنِ آدم! اگر تو میرے پاس زمین بھر گناہوں کے ساتھ آئے اور پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں تیرے پاس اتنی ہی مغفرت لے کر آؤں گا۔" [اسے ترمذی نے روایت کیا ہے]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    توحید کی بنیادی شرط:
    • مغفرت اور نجات کی سب سے پہلی اور لازمی بنیاد خالص توحید ہے؛ شرک کے بغیر زمین بھر گناہ بھی معاف ہو سکتے ہیں جبکہ شرک کے ساتھ مغفرت ناممکن ہے۔
  • ۲
    مایوسی کا خاتمہ:
    • گناہ خواہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں، بندے کو اللہ کی رحمت سے کبھی ناامید نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کی رحمت گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
  • ۳
    مغفرت کے تین بنیادی ارکان:
    • اس حدیث میں بخشش کے تین بڑے راستے بیان ہوئے ہیں: خلوصِ دل سے مانگی گئی دعا، اللہ سے سچی امید (رجاء)، اور ہمہ وقت استغفار۔
  • ۴
    دعا اور امید کا امتزاج:
    • صرف زبانی دعا کافی نہیں، بلکہ دل میں یہ پختہ یقین اور حسنِ ظن ہونا ضروری ہے کہ رب کائنات سنے گا اور ضرور عطا فرمائے گا۔
  • ۵
    گناہ دعا کی رکاوٹ نہیں:
    • گناہوں کی کثرت بندے کو توبہ اور دعا سے باز نہ رکھے، کیونکہ خطاکار انسان ہی اپنے رب کے فضل کا سب سے زیادہ محتاج ہوتا ہے۔
  • ۶
    اللہ کا بے پایاں غنا:
    • تمام مخلوق کے گناہ بخش دینے سے بھی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور خزانوں میں ذرہ برابر کمی نہیں آتی، وہ بالکل بے نیاز ہے۔
  • ۷
    بندے پر خاص شفقت و حیا:
    • بندہ خطا کرتا ہے مگر رب خود اسے پکار کر معافی کی ترغیب دیتا ہے؛ یہ مہربانی مومن کے دل میں رب کے آگے شرم و حیا پیدا کرتی ہے۔
  • ۸
    مثبت تربیتی و دعوتی اسلوب:
    • اسلام انسانی نفس کو توڑنے کے بجائے امید اور بخشش کا راستہ دکھاتا ہے؛ داعی کو بھی ترغیب اور نرمی کا پہلو غالب رکھنا چاہیے۔
  • ۹
    مسلسل احتیاج اور استغفار:
    • انسان ایک لمحے کے لیے بھی اپنے خالق سے بے نیاز نہیں ہو سکتا، اس لیے گناہ ہوتے ہی فوراً توبہ اور استغفار کی طرف لوٹنا چاہیے۔
  • ۱۰
    خاتمہ بالخیر اور رب کا فضل:
    • اصل کامیابی ایمان و توحید کی حالت میں دنیا سے رخصت ہونا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے عدل پر غالب آ کر بندے کو بخش دیتا ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-41

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد المدنی d

حدیث نمبر 41

ایمان کی حقیقت اور خواہشات کو شریعت کے تابع کرنے کا بیان

عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ».

(حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ)

ترجمہ:

حضرت ابو محمد عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشِ نفس اس (شریعت) کے تابع نہ ہو جائے جسے میں لے کر آیا ہوں۔" [یہ حدیث حسن صحیح ہے]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حقیقتِ ایمان اور کمالِ تسلیم:
    • ایمان محض دعویٰ نہیں بلکہ دلی تسلیم و رضا کا نام ہے۔
    • بندہ مومن اپنی عقل، جذبات اور خواہشات کو رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت اور سنت کے تابع کر کے ہی ایمانِ کامل پاتا ہے (جیسا کہ سورۃ النساء: 65 میں حکم ہے)۔
  • ۲
    اتباعِ شریعت بنام خواہشِ نفس:
    • تمام گناہوں، بدعات اور گمراہیوں کی بنیادی جڑ شریعت کے مقابلے میں ذاتی خواہش کو ترجیح دینا ہے۔
    • اس کے برعکس مومن ہر معاملے میں دلیلِ شرعی تلاش کرتا ہے اور اپنی پسند و ناپسند کو حلال و حرام کے تابع رکھتا ہے۔
  • ۳
    مجاہدہ، محاسبہ اور تزکیۂ نفس:
    • نفس کو شریعت کا پابند بنانا مسلسل مجاہدے، کڑے محاسبے اور صبر و استغفار کا تقاضا کرتا ہے۔
    • یہی مجاہدہ دراصل نفس کے تزکیے اور روحانی تربیت کا بنیادی ستون ہے۔
  • ۴
    ایمانی کیفیات اور درجات کا فرق:
    • جب انسان اپنی مرضی کو رب کی مرضی کے تابع کرتا ہے تو اسے عبادات میں دلی سکون اور حلاوت ملتی ہے۔
    • برعکس اس کے، خواہشات کی اندھی پیروی ایمان میں کمی اور بالآخر نفاق یا کفر کی طرف لے جاتی ہے۔
  • ۵
    شریعت کی ہمہ گیری اور معاشرتی اصلاح:
    • دین کے تمام احکام انسان کے دینی، اخلاقی اور دنیوی فائدے پر مبنی ہیں۔
    • معاشرتی بگاڑ اس وقت جنم لیتا ہے جب لوگ شریعت کو خواہشات کے مطابق ڈھالنے لگیں، جبکہ اصل کامیابی اخلاق اور معاملات کو دین کے سانچے میں ڈھالنے میں ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-40

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 40

اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، وسعتِ مغفرت اور توحید کی عظمت کا بیان

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: «يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ مِنْكَ وَلَا أُبَالِي، يَا ابْنَ آدَمَ، لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ، يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا، ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا، لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً»۔

(رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ)

ترجمہ:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے ابنِ آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے ان گناہوں کو بخش دوں گا جو تجھ سے ہوئے ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ اے ابنِ آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا۔ اے ابنِ آدم! اگر تو زمین بھر کے قریب گناہ لے کر میرے پاس آئے، پھر اس حال میں مجھ سے ملاقات کرے کہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو، تو میں زمین بھر کے قریب مغفرت لے کر تیرے پاس آؤں گا“۔ [جامع الترمذی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور وسعتِ مغفرت:
    • بندے کے گناہ خواہ زمین و آسمان بھر جائیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
    • بندے کو اپنے رب سے ہمیشہ حسنِ ظن رکھنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے گمان اور امید کے مطابق معاملہ فرماتا ہے۔
  • ۲
    مغفرت کے تین بنیادی اسباب:
    • دعا اور رجاء: مانگتے وقت اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا اور قبولیت کی امید رکھنا۔
    • استغفار: گناہ کے بعد مایوس ہونے کے بجائے فوراً اور مسلسل توبہ و استغفار کرنا۔
    • توحید: شرک سے مکمل بچتے ہوئے خالص اللہ کی عبادت پر قائم رہنا اور اسی حالت میں حسنِ خاتمہ پانا۔
  • ۳
    توحید کی عظمت اور شرک کی قباحت:
    • شرک کے بغیر زمین بھر کے گناہ بھی اللہ کی رحمت اور توحید کی برکت سے معاف ہو سکتے ہیں۔
    • زندگی کا اصل مقصد اور نجات کا دارومدار خاتمہ بالخیر اور توحید پر قائم رہنے میں ہے۔
  • ۴
    بندے کی احتیاج اور توبہ کی مستقل حیثیت:
    • انسان ہر لمحہ اپنے رب کا محتاج ہے اور گناہ گار ہونے کی صورت میں وہ دعا اور توبہ کا اور زیادہ ضرورت مند ہو جاتا ہے۔
    • توبہ کوئی وقتی عمل نہیں بلکہ مومن کی مستقل زندگی کا معمول ہے، جس میں خوف اور امید کا توازن ضروری ہے۔
  • ۵
    اصلاح و تربیت کا نبوی منہج:
    • (يَا ابْنَ آدَمَ) کے خطاب سے ہر انسان کو اس کی انفرادی ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس دلایا گیا ہے۔
    • گناہ گاروں کی اصلاح کے لیے محض خوف دلانے کے بجائے رحمت اور مغفرت کی امید دلا کر دلوں میں حیا اور توبہ کا جذبہ بیدار کرنا چاہیے۔