Darul Huda

Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-20

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 20

حیا کی اہمیت اور اس کے معاشرتی اثرات کا بیان

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ الْبَدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ»۔

(رواه البخاري)

ترجمہ:

حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک لوگوں نے پہلی نبوتوں کے کلام میں سے جو بات پائی ہے وہ یہ ہے کہ: جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہو کرو“۔ [صحیح بخاری]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    انبیاء کی مشترکہ اور تاریخی تعلیم:
    قدیم اخلاقی سبق: حیا تمام انبیاء علیہ السلام کی تعلیمات کا بنیادی حصہ رہی ہے جو نسل در نسل اس امت تک پہنچی۔
    یکساں اخلاقی اصول: تمام انبیاء کا بنیادی اخلاقی پیغام اور مقصد ایک ہی رہا ہے۔
  • ۲
    حیا کی حقیقت اور مقام:
    ایمان کی شاخ: حیا ایمان کا ایک اہم حصہ ہے، جو دل کی زندگی اور ایمانی قوت کی علامت ہے۔
    اللہ کی پسندیدہ صفت: اللہ تعالیٰ حیا کو پسند فرماتا ہے اور حیا دار لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔
    شریعت سے ہم آہنگی: حقیقی حیا انسان کو اللہ کی اطاعت پر ابھارتی ہے۔ شرعی احکام، علم حاصل کرنے یا سچ بولنے میں شرم محسوس کرنا حیا نہیں ہے۔
  • ۳
    کردار اور عمل پر اثرات:
    برائیوں سے بچاؤ: حیا انسان کو گناہوں، بے ہودہ کاموں اور بے وقاری سے روکتی ہے۔
    اللہ کی نگرانی کا احساس: حیا انسان کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی موجودگی اور نگرانی کا احساس دلاتی ہے۔ معرفت بڑھنے سے حیا میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
  • ۴
    بے حیائی کے نقصانات اور حدیث کی تنبیہ:
    گناہوں کا راستہ: حیا ختم ہو جائے تو انسان کھل کر برائیاں اور حقوق العباد کی پامالی کرنے لگتا ہے۔
    سخت تنبیہ: حدیث کا جملہ "جو چاہے کرو" دراصل ایک تنبیہ اور خبر ہے کہ بغیر حیا کے انسان حد سے گزر جاتا ہے اور پھر اسے اپنے عمل کا حساب دینا ہوگا۔
  • ۵
    فرد اور معاشرے پر اثرات:
    پاکیزہ معاشرہ: حیا مرد اور عورت دونوں کے لیے ضروری ہے اور معاشرے میں عفت، پاکیزگی اور امن قائم کرتی ہے۔
    تربیت کا عنصر: بچوں میں حیا کی صفت پیدا کرنا والدین اور اساتذہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
    خلاصہ: حیا ایمان کی محافظ اور حسنِ اخلاق کی بنیاد ہے۔ یہ انسان کو اللہ اور مخلوق کے حقوق ادا کرنے اور ہر قسم کی برائی سے بچنے کی توفیق دیتی ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-19

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 19

اللہ تعالیٰ کی حفاظت، توکل، اور تقدیر پر ایمان کا بیان

عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ ﷺ يَوْمًا، فَقَالَ: «يَا غُلَامُ، إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ: احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ»۔

(رواه الترمذي وقال: حديث حسن صحيح)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریم ﷺ کے پیچھے (سواری پر) تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لڑکے! میں تمہیں چند اہم باتیں سکھاتا ہوں: اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا۔ اللہ کے حقوق کا خیال رکھو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب سوال کرو تو اللہ ہی سے سوال کرو، اور جب مدد طلب کرو تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔ اور جان لو کہ اگر پوری امت جمع ہو کر تمہیں کوئی فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتی ہے جتنا اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر پوری امت جمع ہو کر تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اتنا ہی نقصان پہنچا سکتی ہے جتنا اللہ نے تمہارے حق میں لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں“۔ [ترمذی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اسلوبِ تربیت اور دعوتِ دین:
    پیار اور تواضع: نبی ﷺ کا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھانا تواضع اور محبت بھرے انداز کی دلیل ہے ۔
    تربیتِ اولاد و حکمت: بچوں اور کم عمر افراد کو مختصر، جامع اور تمہید کے ساتھ عقیدے کی تعلیم دینی چاہیے تاکہ ان کی توجہ قائم رہے ۔
    وقت کا بہترین استعمال: سفر یا سواری جیسے مواقع کو بھی مفادِ عامہ اور تعلیم و تربیت کے لیے استعمال کرنا چاہیے ۔
  • ۲
    اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور خاص معیت:
    جزاء عمل کے مطابق: جو شخص اللہ کی حدود اور احکام کی حفاظت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت (مال، اولاد، دین) میں اس کی حفاظت فرماتا ہے ۔
    معیتِ الٰہی: اللہ کے احکام پر عمل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت، تائید اور رہنمائی حاصل ہوتی ہے ۔
  • ۳
    توحید، دعا اور استعانت (صرف اللہ سے سوال):
    عبادت اور حاجت روائی: سوال اور استعانت (مدد مانگنا) عبادت کی روح ہیں ۔ حقیقی نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ ہے، لہٰذا غیر اللہ سے مدد مانگنا شرک ہے ۔
    خوشحالی اور تنگی کا تعلق: خوشحالی اور راحت کے ایام میں اللہ کو یاد رکھنے والے کو اللہ تعالیٰ مصیبت اور تنگی کے وقت سنبھالتا ہے ۔
    قلبی قوت و استقامت: جو انسان اپنی تمام امیدیں اللہ سے وابستہ کر لیتا ہے، اس کے اندر شجاعت، استقامت اور صبر پیدا ہوتا ہے ۔
  • ۴
    قضا و قدر (تقدیر) اور رضا بالقضاء:
    تقدیر پر کامل ایمان: دنیا کی تمام مخلوق مل کر بھی نہ تو اللہ کے لکھے سے زیادہ فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان ۔
    اسباب اور توکل: تقدیر پر یقین کے ساتھ ساتھ ظاہری اسباب اور دعا اختیار کرنا ضروری ہے؛ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے منافی نہیں ۔
    رضا اور تسلیم: تقدیر کے فیصلوں پر راضی رہنا صبر سے بھی اعلیٰ مقام ہے اور یہ بندے کے دل میں سکون پیدا کرتا ہے ۔
  • ۵
    صبر، کشادگی اور دنیا کی حقیقت:
    کامیابی کا راستہ: کامیابی اور غلبہ صبر ہی کے نتیجے میں ملتا ہے؛ جلد بازی اور بے صبری سے مقصد حاصل نہیں ہوتا ۔
    تنگی کے بعد آسانی: جب مصیبت اور تنگی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، تو یہ اللہ کی طرف سے کشادگی (فرج) کی علامت ہوتی ہے، کیونکہ اس وقت بندہ مخلوق سے مایوس ہو کر صرف اللہ سے جڑ جاتا ہے ۔
    دنیا کی حقیقت: دنیا آزمائش کی جگہ ہے، اس کے حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔ اس لیے سختی پر صبر اور راحت پر شکر مؤمن کا شیوہ ہے ۔
    خلاصہ: یہ حدیث دراصل توحیدِ خالص، توکل، تقدیر پر رضا، اصلاحِ نفس اور صبر و استقامت کا ایک مکمل اور عملی نصاب ہے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-18

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 18

تقویٰ، گناہوں کا مٹانا اور حسنِ اخلاق کا بیان

عَنْ أَبِي ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَةَ، وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ»۔

(رواه الترمذي، وقال: حديث حسن)

ترجمہ:

حضرت ابو ذر جندب بن جنادہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو، اور برائی کے بعد نیکی کر لیا کرو، وہ اس برائی کو مٹا دے گی، اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ“۔ [ترمذی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    تقویٰ اور اللہ سے تعلق:
    جامع ہدایت: یہ حدیث دین کا بنیادی دستور ہے، کیونکہ یہ اللہ، اپنے نفس اور انسانوں—تینوں کے حقوق کا احاطہ کرتی ہے۔
    ہر جگہ اور ہر وقت کی بندگی: تقویٰ کا مطلب ہر حال، ہر جگہ، علانیہ اور خلوت (تنہائی) میں اللہ کی نگرانی کا احساس رکھنا ہے۔ بالخصوص تنہائی میں تقویٰ اخلاص کی بڑی دلیل ہے۔
    تقویٰ کا مقام: تقویٰ کی اصل جگہ دل ہے، لیکن اس کے اثرات انسان کے اخلاق اور اعمال سے ظاہر ہوتے ہیں۔
  • ۲
    اصلاحِ نفس اور امید کی کرن:
    لغزش اور تلافی: انسان خطاکار ہے، لیکن متقی شخص گناہ کے بعد مایوس ہونے کے بجائے فوراً توبہ اور نیکی کے ذریعے اس کی تلافی کرتا ہے۔
    گناہوں کا مٹنا: چھوٹے گناہ، نیک اعمال (حسنات) سے مٹ جاتے ہیں، جبکہ بڑے گناہوں کے لیے توبہ ضروری ہے۔
    شیطانی مایوسی کا خاتمہ: یہ حدیث خوف اور امید کا بہترین امتزاج ہے؛ تقویٰ اللہ کا خوف پیدا کرتا ہے اور نیکیاں گناہوں کو مٹا کر امید دلاتی ہیں۔
    نیکی کی اہمیت: نیکی کے بعد نیکی کرنا درجات کی بلندی ہے، اور گناہ کے بعد نیکی کرنا نفس کی اصلاح ہے۔
  • ۳
    حسنِ اخلاق اور معاشرتی زندگی:
    ایمان کی تکمیل: بندوں کے حقوق ادا کرنا اور ان سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آنا تقویٰ ہی کا حصہ اور ایمان کی کامل علامت ہے۔
    یکطرفہ نیکی: اسلامی اخلاق یہ سکھاتے ہیں کہ لوگ جیسا بھی رویہ رکھیں، مسلمان کو ہر حال میں حسنِ اخلاق ہی اختیار کرنا ہے۔
    دعوت اور امن: حسنِ اخلاق معاشرتی امن کی بنیاد اور دعوتِ دین کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
    خلاصہ: یہ حدیث تقویٰ (باطنی و ظاہری اصلاح)، توبہ و نیکی (نفس کا مجاہدہ) اور حسنِ اخلاق (معاشرتی اصلاح) کے تین عظیم ستونوں پر مبنی زندگی گزارنے کا آسان اور جامع طریقہ بتاتی ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-17

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 17

ہر کام میں احسان اور عمدگی اختیار کرنے کا بیان

عَنْ أَبِي يَعْلَى شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ»۔

[رواه مسلم]

ترجمہ:

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (بہترین طریقہ اختیار کرنے) کو لازم قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو (جنگ میں یا قصاص میں) تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حدیث کی عظمت اور بنیادی اصول:
    یہ حدیث مکارمِ اخلاق اور حسنِ معاشرت کی بنیادی ترین احادیث میں سے ہے ۔ یہ اسلام کے ایک عظیم ترین آفاقی اصول "ہر چیز میں احسان اور عمدگی" کی بنیاد فراہم کرتی ہے، جس کے تحت دین و دنیا کا ہر شعبہ آ جاتا ہے ۔
  • ۲
    نبوی طرزِ تعلیم و تربیت:
    اس حدیث میں آپ ﷺ کا بہترین تدریسی اسلوب نظر آتا ہے کہ پہلے ایک عام قانون بیان فرمایا: "اللہ نے ہر چیز میں احسان فرض کیا ہے"، پھر اس کی وضاحت کے لیے قتل اور ذبح جیسی عملی مثالیں پیش کیں تاکہ بات پوری طرح سمجھ میں آ جائے ۔ لہٰذا حکم میں اس بات کی نبوی ہدایت موجود ہے کہ قتل کرتے وقت بھی احسان اور اچھے رویے کا مظاہرہ کیا جائے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس شخص کا خون قصاص یا حالتِ جنگ میں مباح (جائز) قرار دیا گیا ہو، اس کی جان جلدی اور آسانی سے نکالی جائے ۔ اور اگرچہ مسلمانوں کے لیے ان سے جنگ کرنے والوں کے ساتھ برابری کا معاملہ کرنا جائز ہے، لیکن یہ بات ان کے لیے مقتولین کے ساتھ 'مثلہ' (نعشوں کو بگاڑنے) اور بلا کسی شرعی سبب کے لاشوں کو مسخ کرنے کو ہرگز جائز نہیں بناتی؛ کیونکہ یہ فعل ان اعلیٰ و ارفع اخلاقی اقدار کے منافی ہے جن کی دعوت ہمارا دینِ حنیف (اسلام) دیتا ہے ۔
  • ۳
    لفظ "احسان" کا اصل مطلب:
    احسان کا مطلب صرف عبادت یا خیرات نہیں، بلکہ "اتقان" یعنی کسی بھی کام کو مکمل مہارت، اخلاص اور بہترین طریقے سے انجام دینا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بندے سے عمل کی مقدار (کثرت) سے زیادہ اس کی کوالٹی (عمدگی اور حسن) کو پسند کرتا ہے ۔
  • ۴
    اسلام کا آفاقی مزاج اور رحمت:
    یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کے تمام احکام کے پیچھے حکمت، خیرخواہی اور رحمت موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ خود بھی محسن ہے اور اس نے ہر معاملے میں ظلم، سختی اور بے رحمی کو حرام قرار دے کر احسان کو لازم کیا ہے ۔
  • ۵
    جانوروں کے حقوق اور اسلامی تعلیمات:
    اسلام جانوروں پر بھی ظلم کی اجازت نہیں دیتا ۔ ذبح کے وقت احسان کا تقاضا یہ ہے کہ چھری اچھی طرح تیز ہو اور عمل جلدی کیا جائے تاکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو ۔ جانور کے سامنے چھری تیز کرنا یا ایک جانور کے سامنے دوسرے کو ذبح کرنا خلافِ احسان اور ممنوع ہے ۔
  • ۶
    جنگ اور انتقام میں بھی احسان:
    شریعتِ اسلامیہ دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف سکھاتی ہے ۔ جنگ یا سزا کے وقت (قتل کے معاملے میں بھی) دشمنوں کے مثلے (جسمانی اعضاء کاٹنے) یا تڑپا تڑپا کر مارنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ وہاں بھی احسان اور اچھے طریقے کا حکم ہے ۔
  • ۷
    پیشہ ورانہ مہارت (Professionals) کا حکم:
    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسلمان کو اپنے کام میں ماہر ہونا چاہیے ۔ ایک استاد کی تدریس، قاضی (جج) کا فیصلہ، تاجر کی تجارت اور کسی بھی ملازم کی ڈیوٹی، سب میں احسان یعنی بہترین کارکردگی دکھانا شرعی ذمہ داری ہے ۔
  • ۸
    خاندانی اور سماجی تعلقات میں احسان:
    گھریلو اور معاشرتی زندگی کی کامیابی احسان پر قائم ہے ۔ والدین کا اولاد کی تربیت کرنا، میاں بیوی کے باہمی حقوق، رشتہ داروں، ہمسایوں اور خادموں (ملازمین) کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا احسان کی اہم ترین شکلیں ہیں ۔
  • ۹
    دعوتِ دین کا بنیادی ہتھیار:
    دین کی دعوت میں نرمی، حکمت اور احسان کا رویہ دلوں کو فتح کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے ۔ اسلام کی کامیابی کا ایک بڑا راز یہی صفتِ احسان ہے جو ماحول اور تمام مخلوقات کے حقوق کا خیال رکھنا سکھاتی ہے ۔
  • ۱۰
    دنیا و آخرت کی کامیابی کا سبب:
    احسان انسان کے کردار کو اعلیٰ بناتا ہے ۔ قرآن کریم گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں (محسنین) سے محبت کرتا ہے، اور یہ صفتِ احسان ہی دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-16

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 16

غصہ نہ کرنے اور ضبطِ نفس کی اہمیت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ ﷺ: أَوْصِنِي، قَالَ: «لَا تَغْضَبْ»۔ فَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ: «لَا تَغْضَبْ»۔

[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ: 6116]

ترجمہ:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: ”مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ نہ کرو۔“ اس شخص نے کئی مرتبہ یہی درخواست دہرائی تو آپ ﷺ ہر مرتبہ یہی فرماتے رہے: ”غصہ نہ کرو“۔ [بخاری]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حدیث کی عظمت اور جامعیت:
    یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے "جوامع الکلم" (کم الفاظ میں بڑی بات کہنا) کی بہترین مثال ہے ۔ آپ ﷺ نے محض دو الفاظ (لا تغضب - غصہ نہ کرو) میں دین و دنیا کی اصلاح، حسنِ اخلاق اور معاشرتی امن کا پورا منشور سمو دیا ہے ۔
  • ۲
    علم اور نصیحت کا صحیح طریقہ:
    انسان کو ہمیشہ خیر کی امید پر مخلص لوگوں سے نصیحت مانگنی چاہیے، جیسا کہ اس سائل نے کیا ۔ نیز، استاد یا ناصح کو چاہیے کہ وہ موقع کی مناسبت سے مختصر، جامع اور اثر انگیز بات کہے تاکہ وہ دل میں اتر جائے ۔
  • ۳
    غصے کی سنگینی اور نقصان:
    سائل کے بار بار پوچھنے اور آپ ﷺ کے بار بار ایک ہی جواب دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ غصہ کتنی سنگین بیماری ہے ۔ غصہ مسائل حل نہیں کرتا بلکہ انہیں الجھاتا ہے، یہ عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور قتل، ظلم، بدزبانی اور رشتوں کی تباہی کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے ۔
  • ۴
    شریعت کا اصل مقصد (ضبطِ نفس):
    اسلام انسان کو اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو پانے کی تعلیم دیتا ہے ۔ اصل طاقت جسمانی پہلوانی نہیں، بلکہ شدید غصے اور اشتعال کے وقت اپنے نفس پر قابو پانا اور شرعی حدود کے اندر رہنا ہے ۔
  • ۵
    غصہ نہ کرنے کے دو عملی پہلو:
    آپ ﷺ کے فرمان کے دو واضح مطلب ہیں :
    پہلا: انسان اپنے اخلاق کی ایسی تربیت کرے کہ اسے غصہ آئے ہی نہ ۔
    دوسرا: اگر فطری طور پر غصہ آ بھی جائے، تو انسان خود کو روک لے اور غصے کے تقاضوں (جیسے گالی گلوچ یا مار پیٹ) پر عمل نہ کرے ۔
  • ۶
    غصے کا سنت کے مطابق علاج:
    چونکہ غصہ شیطان کی طرف سے ایک آگ ہے، اس لیے شریعت نے اس کے بہترین علاج بتائے ہیں :
    تعوذ پڑھنا: (أعوذ بالله من الشيطان الرجيم) پڑھنا ۔
    خاموشی: غصے کے وقت زبان کو بند رکھنا ۔
    پوزیشن بدلنا: کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہوں تو لیٹ جائیں ۔
    وضو کرنا: پانی سے غصے کی آگ کو ٹھنڈا کرنا ۔
  • ۷
    حسنِ اخلاق کا نچوڑ:
    غصہ انسان کے اخلاق کو بگاڑ دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ دین (جیسے امام ابن المبارک رحمہ اللہ) نے فرمایا کہ اگر پورے حسنِ اخلاق کو ایک کلمہ میں جمع کیا جائے تو وہ "غصہ نہ کرنا" ہے ۔
  • ۸
    ذمہ داران کے لیے حلم کی ضرورت:
    فیصلے کبھی بھی غصے کی حالت میں نہیں کرنے چاہئیں ۔ خصوصاً جج (قاضی)، اساتذہ، والدین اور قائدین کے لیے غصے پر قابو رکھنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ان کا غصہ دوسروں کی زندگیوں اور تربیت کو متاثر کرتا ہے ۔
  • ۹
    متقین کی صفات اور عظیم اجر:
    غصہ پی جانا اور لوگوں کو معاف کر دینا اللہ کے پسندیدہ اور متقی بندوں کی علامت ہے ۔ جو شخص غصے پر قابو پاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے خصوصی عزت و احترام سے نوازیں گے ۔
  • ۱۰
    ردِ عمل کے بجائے حکمتِ عملی:
    ایک سچے مسلمان کو کسی بھی بات پر فوری اور جذباتی ردِ عمل (Reaction) دینے کے بجائے، انبیاء علیہم السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے حلم، صبر، برداشت اور سوچی سمجھی حکمتِ عملی (Response) کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-15

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 15

گفتگو کے آداب، پڑوسی اور مہمان کے اکرام کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ»۔

(رواه البخاري: 6018، ومسلم: 47)

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے۔ اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے۔ اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت و تکریم کرے“۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    عقیدہ اور اعمال کا گہرا تعلق:
    ایمان اور عمل کا جوڑ: یہ حدیث اہلِ سنت کے اس عقیدے کی دلیل ہے کہ اعمال ایمان کا حصہ ہیں ۔ نبی ﷺ نے اخلاقی احکام سے پہلے "اللہ اور آخرت پر ایمان" کا ذکر کر کے یہ واضح فرمایا کہ مومن کے ہر عمل کی بنیاد اخلاص، اللہ کی نگرانی (مراقبہ) اور آخرت کے اجر پر ہونی چاہیے ۔
  • ۲
    زبان کی حفاظت اور گفتگو کے آداب:
    خیر یا خاموشی: مومن کی زبان ہمیشہ تعمیری اور مفید ہوتی ہے ۔ وہ کلام کرنے سے پہلے نفع و نقصان کا جائزہ لیتا ہے ۔ اگر بات میں خیر (جیسے امر بالمعروف) ہو تو بولتا ہے، ورنہ خاموش رہتا ہے ۔
    فضول گوئی سے اجتناب: غیبت، چغلی، جھوٹ، بہتان، تمسخر اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری ابحاث و جھوٹی خبریں پھیلانا اس حدیث کے سراسر خلاف ہیں ۔ یاد رہے کہ خاموشی ہمیشہ مطلوب نہیں، جہاں حق کا بیان ضروری ہو وہاں خاموش رہنا گناہ ہے ۔
  • ۳
    بندوں کے حقوق اور حسنِ معاشرت:
    یہ حدیث انسان کے تعلقات کی تینوں جہتوں (اللہ، معاشرے اور افراد) کی اصلاح کرتی ہے :
    پڑوسی کے حقوق: پڑوسی خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس کے ساتھ حسنِ سلوک اور اکرام لازم ہے ۔ پڑوسی کے حقوق کی تاکید خود جبرئیل علیہ السلام نے مسلسل فرمائی تاکہ معاشرے میں امن اور استحکام پیدا ہو ۔
    مہمان نوازی: مہمان کا اکرام انبیاء (خصوصاً سیدنا ابراہیم علیہ السلام) کی سنت ہے ۔ اس میں خوش اخلاقی، سلام کرنا، ضرورت پوری کرنا، عیب پوشی اور دل جوئی جیسے تمام پہلو شامل ہیں، جو باہمی محبت کا ذریعہ بنتے ہیں ۔
  • ۴
    اخلاقی نظام اور اسلام کی جامعیت:
    حقوق کی جامع ادائیگی: اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح بھی اس کا اہم مقصد ہے ۔ یہ حدیث اللہ کے حقوق (زبان کی حفاظت) اور بندوں کے حقوق (پڑوسی و مہمان کا اکرام) دونوں کو یکجا کرتی ہے ۔
    بخل کی مذمت اور اتحاد: حدیث میں اکرام کا بار بار حکم بخل اور دنیا پرستی کی نفی کرتا ہے ۔ ان حقوق کی ادائیگی سے شیطانی وسوسوں کا خاتمہ ہوتا ہے اور اسلامی معاشرہ ایک مضبوط اور متحد اکائی بن جاتا ہے ۔
    جوامع الکلم: یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے جامع ترین کلمات میں سے ہے، جس پر پورے اسلامی اخلاقی نظام کی بنیاد قائم ہے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-14

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 14

مسلمان کی جان کی حرمت اور اس کے مباح ہونے کی صورتوں کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ»۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ (6878)، وَمُسْلِمٌ (1676)۔

ترجمہ:

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان شخص کا خون، جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، حلال نہیں؛ مگر تین صورتوں میں: (1) شادی شدہ زانی، (2) جان کے بدلے جان، (3) اپنے دین کو چھوڑنے والا اور جماعتِ مسلمین سے الگ ہونے والا“۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    شریعت کا اصل مقصد اور انسانی جان کی حرمت:
    خون کی حفاظت بنیادی اصل: اسلام میں مسلمان کی جان، مال اور عزت کو انتہائی محترم قرار دیا گیا ہے، یہاں تک کہ مؤمن کی حرمت کعبہ سے بھی بڑھ کر ہے۔
    مقاصدِ شریعت کا تحفظ: شریعت جن پانچ بنیادی چیزوں (ضروریاتِ خمسہ) کی حفاظت کے لیے آئی ہے، ان میں سے تین اہم ترین امور—دین، جان، اور عزت و نسب—کا تحفظ اس حدیث کی اصل روح ہے۔
  • ۲
    انسانی خون مباح ہونے کی استثنائی صورتیں:
    • حدیثِ مبارکہ کے مطابق عام حالات میں کسی مسلمان کا خون حلال نہیں، سوائے تین سنگین ترین جرائم کے، جن سے معاشرے کا امن داؤ پر لگ جاتا ہے:
    • شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرنا (جس سے خاندانی نظام اور نسب تباہ ہوتا ہے)۔
    • کسی کو ناحق قتل کرنا (جس کے بدلے عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے قصاص لازم ہے)۔
    • دینِ اسلام کو چھوڑ کر جماعت (مسلم ریاست) سے بغاوت کرنا۔
  • ۳
    قانون کا نفاذ اور اسلامی حکومت کا دائرہ اختیار:
    ریاست کی ذمہ داری: حدود، سزا اور قصاص نافذ کرنے کا اختیار صرف اور صرف اسلامی حکومت، عدالت اور صاحبِ اختیار کو ہے۔ کسی بھی عام فرد یا ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے یا خود حد نافذ کرنے کی قطعاً اجازت نہیں، کیونکہ اس سے معاشرے میں بدامنی اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔
    عدل و مساوات: اسلامی قانون امیر، غریب، حاکم اور محکوم سب کے لیے برابر ہے۔ شریعت میں سفارش یا طبقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔
  • ۴
    شبہات کا فائدہ اور ثبوت کی اہمیت:
    یقینی ثبوت لازم ہے: کسی پر بھی محض الزام، افواہ، گمان یا سوشل میڈیا کے پروپیگنڈے کی بنیاد پر حد جاری نہیں کی جا سکتی۔ جرم ثابت کرنے کے لیے سخت ترین شرائط (جیسے حدِ زنا کے لیے چار عادل گواہ) مقرر ہیں۔
    شبہات پر حد کا سقوط: اسلام کا اصول ہے کہ شک یا شبہ پیدا ہونے کی صورت میں حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تکفیر (کسی کو کافر قرار دینے) اور سزا دینے میں اصل قاعده احتیاط اور پردہ پوشی ہے۔
  • ۵
    معاشرتی امن، اتحاد اور رحمتِ الہٰی:
    اجتماعی امن اور اتحاد: دین ہمیں جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے اور تفرقہ بازی سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ حدود کا مقصد انتقام نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور جرائم کا انسداد ہے۔
    عفو و توبہ کا کھلا دروازہ: اسلام میں اصل بنیاد رحمت، توبہ، اصلاح اور درگزر پر ہے۔ اگر گناہ گار سچی توبہ کر لے تو اللہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-13

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 13

ایمان کی تکمیل اور دوسروں کے لیے خیر خواہی کا بیان

عَنْ أَبِي حَمْزَةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ـ خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ـ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ»۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ (13)، وَمُسْلِمٌ (45)۔

ترجمہ:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے“۔ [بخاری و مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    ایمان اور عقیدے کی تکمیل:
    کامل ایمان کا معیار: اس حدیث (جو کہ جوامع الکلم میں سے ہے) میں ایمان کی نفی سے مراد اسلام سے خارج ہونا نہیں، بلکہ کامل ایمان کی نفی ہے۔ دوسروں کے لیے خیر چاہنا ایمان کے کمال کی علامت ہے، جب کہ اس میں کمی ایمان کے کمزور ہونے کو ظاہر کرتی ہے (جو کہ اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کی تائید ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے)۔
    اخلاق اور جنت کا تعلق: اچھے اخلاق ایمان کا حصہ ہیں اور لوگوں کے لیے خیر خواہی کا یہ جذبہ انسان کو جنت میں لے جانے کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔
  • ۲
    تزکیۂ نفس اور روحانی علاج:
    دل کی بیماریوں کا خاتمہ: یہ حدیث حسد, بغض, کینہ, خود غرضی اور تکبر جیسی خطرناک روحانی بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ جو دوسروں کے لیے خیر نہیں چاہتا وہ دراصل متکبر اور حاسد ہے۔
    ایثار اور قربانی کی تربیت: انسان فطرتاً اپنے لیے خیر چاہتا ہے، لیکن یہ حدیث نفس کو ایثار اور دوسروں کی بھلائی پر تربیت دیتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں اس ایثار کی بہترین عملی تصویر تھیں۔
  • ۳
    مثالی معاشرہ اور اسلامی اخوت:
    حقوق العباد اور حقیقی بھائی چارہ: اسلام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا نام ہے۔ اس حدیث پر عمل کرنے سے معاشرے میں حقیقی بھائی چارہ، محبت، اور امت کا اتحاد پیدا ہوتا ہے۔
    معاشرتی امن کا ضامن: اگر ہر شخص دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے کرتا ہے، تو معاشرے سے ظلم، خیانت اور دھوکہ دہی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔
    دشمن کے لیے بھی خیر کی چاہت: یہ حکم عام ہے؛ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے مخالفین اور ذاتی دشمنوں کے لیے بھی ہدایت اور بھلائی کی تمنا کرے۔ یہ دراصل حدیث «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» (دین خیر خواہی ہے) کی عملی شکل ہے۔
  • ۴
    عملی زندگی کے مختلف شعبوں میں اطلاق:
    دینی اور دنیاوی دونوں بھلائیاں: حدیث میں 'خیر' سے مراد دونوں جہاں کی بھلائی ہے۔ یعنی دوسروں کے لیے رزق، مال، اور خوشی کے ساتھ ساتھ ہدایت، علم اور نیکی کی بھی تمنا کی جائے۔
    تجارت، دعوت اور تعلیم میں رہنمائی: تاجر اپنے گاہک کے لیے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ عالم اور داعی اپنے شاگردوں اور عوام کے لیے خلوصِ دل سے علم اور ہدایت کو پسند کریں۔
    مستقل عمل اور دعاؤں میں شمولیت: یہ کوئی وقتی جذبہ نہیں، بلکہ زندگی بھر جاری رہنے والا عمل ہے۔ ایک سچے مومن کی یہ پہچان ہے کہ وہ اپنی دعاؤں میں بھی اپنے مسلمان بھائیوں کو اسی طرح یاد رکھتا ہے جیسے خود کو۔
  • ۵
    خلاصہ کلام:
    خلاصہ: نبی کریم ﷺ نے ان مختصر الفاظ میں پورے انسانی اور معاشرتی نظام کی اصلاح کا نسخہ بیان فرما دیا ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے دوسروں کا سچا خیر خواہ بننا ہی ایک مسلمان کو حقیقی مومن بناتا ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-12

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 12

اسلام کے حسن اور لایعنی چیزوں کو چھوڑنے کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ»۔

[رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَابْنُ مَاجَهْ]

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کے اسلام کے حسن میں سے یہ بات ہے کہ وہ ایسی چیز کو چھوڑ دے جو اس کے کسی کام کی نہ ہو“۔ [ترمذی، ابن ماجہ]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دین و شریعت کی عظیم بنیاد:
    جوامع الکلم اور آدابِ اسلام: یہ حدیث نبی کریم ﷺ کے جوامع الکلم میں سے ہے، جس کے مختصر الفاظ میں اخلاق و آداب کا سمندر پوشیدہ ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کے مطابق اسلام کے آدابِ زندگی اسی پر قائم ہیں۔
    اسلام کا حسن اور درجات: یہ حدیث بتاتی ہے کہ لوگوں کے اسلام میں تفاوت (فرق) ہوتا ہے۔ اپنے اسلام کو خوبصورت بنانے کا راز فضول چیزوں کو چھوڑ دینے میں ہے۔
  • ۲
    وقت کی قدر اور کامیابی کا راز:
    عمر اور توانائی کی حفاظت: کامیاب انسان دنیا و آخرت میں اپنی توانائیاں بے فائدہ کاموں میں ضائع نہیں کرتا۔ وقت کو غنیمت جاننا اور غیر ضروری مباحث سے بچنا ہی عقل مندی اور طالبِ علم کی کامیابی ہے۔
    جدید دور (میڈیا/سوشل میڈیا) پر تطبیق: آج کے دور میں انٹرنیٹ، غیر ضروری ویڈیوز، فضول تبصروں اور بحثوں سے دور رہنا اسی حدیث پر عمل کرنے کی بہترین صورت ہے۔
  • ۳
    زبان، اخلاق اور معاشرت کی اصلاح:
    زبان و نگاہ کی حفاظت: یہ حدیث زبان کو لغو گفتگو، غیبت، چغلی اور بہتان سے بچانے کی اصل بنیاد ہے۔
    معاشرتی امن اور نجی زندگی کا احترام: دوسروں کے نجی معاملات میں ٹوہ لگانے اور فضول تجسس سے روک کر یہ حدیث معاشرے کو فتنوں اور فساد سے محفوظ رکھتی ہے۔
  • ۴
    دل کی پاکیزگی اور تزکیۂ نفس:
    عبادت میں خشوع اور اخلاص: فضولیات اور کثرتِ کلام سے دل سخت اور مردہ ہو جاتا ہے۔ ان سے دوری دل کو نرم کرتی ہے، باطن کو پاک کرتی ہے اور عبادت میں یکسوئی (خشوع) پیدا کرتی ہے۔
    اپنی اصلاح کی فکر: مومن کو دوسروں کے عیوب تلاش کرنے کے بجائے اپنے نفس کی اصلاح اور اللہ کی رضا والے کاموں میں مشغول رہنا چاہیے۔
  • ۵
    تربیتی و عملی پہلو:
    سلف صالحین کا طریقہ: نیک لوگ ہمیشہ کم بولتے، فضول میل جول سے بچتے اور صرف فائدہ مند کاموں پر حریص ہوتے تھے۔
    نسلِ نو کی تربیت: والدین اور اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو بچپن ہی سے وقار، سنجیدگی اور فضول چیزوں سے بچنے کی تربیت دیں تاکہ وہ فتنوں سے محفوظ رہ کر جنت کے حقدار بن سکیں۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-11

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 11

شک و شبہات کو چھوڑ کر یقین کو اختیار کرنے کا بیان

عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ سِبْطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَيْحَانَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ»۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ (2520)، وَالنَّسَائِيُّ (5711)، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ۔

ترجمہ:

حضرت ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور آپ کے محبوب تھے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات یاد رکھی ہے: ”جس چیز میں تمہیں شک ہو اسے چھوڑ دو، اور اس چیز کو اختیار کرو جس میں شک نہ ہو“۔ [ترمذی، نسائی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دین و شریعت کی عظیم بنیاد:
    جوامع الکلم اور بنیادی قاعدہ: یہ حدیث اسلام کے اہم ترین اصولوں میں سے ہے۔ یہ شریعت کے اس مشہور فقہی قاعدے کی اصل ہے کہ "یقین شک سے دور نہیں ہوتا"۔
    زندگی کے تمام معاملات کا احاطہ: یہ اصول صرف کھانے پینے تک محدود نہیں، بلکہ تجارت، عبادات، معاشرت اور زندگی کے تمام شعبوں پر لاگو ہوتا ہے۔
  • ۲
    حلال، حرام اور مشتبہ امور کا حکم:
    واضح حلال و حرام: جس چیز کا حلال ہونا یقینی ہو اسے چھوڑنا جائز نہیں، اور جس کا حرام ہونا یقینی ہو اسے چھوڑنا فرض ہے۔
    شبہات سے بچنا: جب کسی معاملے میں شک پیدا ہو جائے تو اسے چھوڑ کر یقین اور اطمینان والی چیز کو اختیار کرنا چاہیے۔ شبہات سے بچنا ہی اصل تقویٰ (ورع) ہے۔
  • ۳
    دل کا اطمینان اور باطنی پاکیزگی:
    سچائی اور جھوٹ کی پہچان: سچ اور حلال کی نشانی دل کا سکون ہے، جبکہ جھوٹ اور مشتبہ چیزوں کی نشانی دل کا اضطراب اور بے چینی ہے۔ مومن کا دل گناہ پر بے چین ہو جاتا ہے۔
    وسوسوں کی نفی: اسلام انسان کو ذہنی سکون اور یقین پر زندگی گزارنے کی دعوت دیتا ہے، وسوسوں اور شک و تردد پر نہیں۔
  • ۴
    دین، عزت اور اخلاق کی حفاظت:
    نقصان اور ندامت سے بچاؤ: کوئی بھی کام کرنے سے پہلے پختہ علم حاصل کرنا چاہیے تاکہ بعد میں پچھتاوا نہ ہو۔
    حرام کے راستوں کو بند کرنا: مشتبہ چیزوں سے دور رہنے والا شخص اپنے دین اور اپنی عزت دونوں کو محفوظ کر لیتا ہے، کیونکہ شبہات میں پڑنے والا انسان آہستہ آہستہ حرام میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
  • ۵
    عملی زندگی اور نوجوانوں کی تربیت:
    ہر دور کے فتنوں کا حل: یہ حدیث ہر مسلمان کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے مشکوک دوستوں، مشتبہ آمدنی اور فتنوں سے بچنے کے لیے یہ بہترین مشعلِ راہ ہے۔
    صحابہ کرام کا طرزِ عمل: سلف صالحین اور اہل بیتِ اطہار احادیث کو یاد رکھنے اور ان پر عمل کرتے ہوئے جائز چیزوں میں بھی احتیاط برتنے کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔