Skip to main content

Darul Huda

Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-39

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 39

خطا، نسیان اور اکراہ (مجبوری) کی معافی کا بیان

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ»۔

(حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ)

ترجمہ:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے بھول چوک اور غلطی سے سرزد ہونے والے اعمال، اور ان کاموں کو جن پر انہیں مجبور کر دیا جائے، معاف فرما دیا ہے“۔ [سنن ابن ماجه، السنن الكبرى للبيهقي]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    امتِ محمدیہ پر اللہ کی رحمت اور شریعت کی آسانی:
    • یہ حدیث امتِ محمدیہ کے خصوصی شرف، اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور اسلامی شریعت کی آسانی و رفعِ حرج (تنگی دور کرنے) کا واضح ثبوت ہے۔
    • یہ قرآنی اصول کی تائید ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی استطاعت اور وسعت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا۔
  • ۲
    تین بنیادی شرعی عذرات اور ان کے مفاہیم:
    حدیث میں تین عذرات پر اخروی گناہ معاف قرار دیے گئے ہیں:
    • خطا (غلطی): کام کا ارادہ جائز ہو لیکن نتیجہ ارادے کے خلاف اور غلط نکل آئے (یہ جان بوجھ کر کیے گئے فعل یعنی "عمد" کے برعکس ہے)۔
    • نسیان (بھول): کسی چیز کا علم ہونے کے باوجود عمل کے وقت یاد نہ رہنا۔ یہ حقیقی بھول ہونی چاہیے، غفلت یا جھوٹا بہانہ نہیں۔
    • اکراہ (مجبوری): ایسا شدید دباؤ جس میں انکار پر حقیقی جانی یا مالی نقصان کا اندیشہ ہو۔ معمولی شرمندگی یا ہلکا دباؤ شرعی اکراہ نہیں۔
  • ۳
    نیت، ارادہ اور شرعی ذمہ داری کا اصول:
    • اسلام میں شرعی مواخذے اور گناہ کا دارومدار انسان کے علم، نیت اور ارادے پر ہے۔ غیر اختیاری امور پر آخرت میں پکڑ نہیں ہوتی۔
    • یہ اصول عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات، خاندانی احکام اور معاشرتی زندگی کے تمام شعبوں پر لاگو ہوتا ہے۔
  • ۴
    گناہ کی معافی بمقابلہ دنیاوی تلافی (تکلیفی و وضعی احکام):
    • حدیث میں عفو و درگزر سے مراد گناہ کا نہ ہونا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیاوی تلافی بھی ساقط ہو جائے؛ مثلاً: بھول کر بے وضو نماز پڑھی تو گناہ نہیں، مگر نماز دوبارہ پڑھنا فرض ہے؛ غلطی سے مالی نقصان ہو جائے تو گناہ نہیں، مگر تاوان یا ضمان ادا کرنا لازم ہوگا۔
    • استثنا: کسی دوسرے مسلمان کو ناحق قتل کرنے پر مجبور کیا جائے تو اکراہ کے باوجود قتل جائز نہیں ہوگا، کیونکہ انسانی جان کی حرمت عظیم ہے۔
  • ۵
    اخلاقی، فتوائی اور تربیتی اسباق:
    • مفتیان و قضاۃ کے لیے: فتویٰ دیتے وقت صرف ظاہری عمل نہ دیکھا جائے، بلکہ فاعل کا علم، نیت، ارادہ اور مجبوری کی نوعیت معلوم کرنا ضروری ہے۔
    • معاشرتی و تربیتی رویہ: دوسروں کی غلطیوں پر فوراً بدگمانی کے بجائے حسنِ ظن رکھنا چاہیے، عذر قبول کرنا چاہیے اور جان بوجھ کر کی گئی نافرمانی کے لیے بھول یا غلطی کو بہانہ نہیں بنانا چاہیے۔
  • ۶
    خلاصہ:
    اسلامی شریعت انسان کے ارادے اور استطاعت کا پورا لحاظ رکھتی ہے؛ جس کام میں انسان کا حقیقی اختیار نہ ہو اس پر گناہ نہیں، البتہ عدل و انصاف کے تحت حقوق کی تلافی باقی رہتی ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-38

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 38

ولایتِ الٰہی کی حقیقت، قربِ فرائض و نوافل اور اولیاء اللہ کی نصرت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: «مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَلَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَلَئِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ»۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ۔

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”جس شخص نے میرے کسی ولی (دوست) سے دشمنی کی، میں نے اس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ میرا بندہ جن اعمال کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، ان میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ اعمال ہیں جو میں نے اس پر فرض کیے ہیں۔ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا وہ پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں ضرور اسے عطا کروں گا، اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں ضرور اسے پناہ دوں گا“۔ [صحیح البخاری]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    ولایتِ الہٰی کی حقیقت اور اس کے درجات:
    • اصل بنیاد بندگی اور اطاعت: ولایت کی اصل بنیاد بندگی اور اطاعت ہے، جو ایمان و تقویٰ کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔
    • فرائض کا بلند مقام: قربِ الہٰی میں فرائض سب سے بلند مقام رکھتے ہیں، جبکہ نوافل کی مداومت انسان کو اللہ تعالیٰ کی خاص محبت اور احسان کے درجے تک پہنچاتی ہے۔
    • احکامِ شریعت کی پابندی: ولایت کسی بھی مرحلے پر احکامِ شریعت کی پابندی سے مستثنیٰ نہیں کرتی، بلکہ قرب کے ساتھ اطاعت میں مزید اضافہ لازم ہوتا ہے۔
  • ۲
    اولیائے اللہ کا مقام اور ان کے دشمنوں کی وعید:
    • اعلانِ جنگ کی وعید: سچے مومن اللہ کے نزدیک انتہائی معزز ہیں؛ ان سے دشمنی مول لینا درحقیقت اللہ تعالیٰ سے اعلانِ جنگ ہے۔
    • اللہ کی نصرت پر بھروسہ: بندے کو دشمنوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنے ایمان و اعمال کی فکر کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی حفاظت اور نصرت کے لیے کافی ہے۔
  • ۳
    اللہ تعالیٰ کی محبت کے ثمرات:
    • اعضاء کی حفاظت و توفیق: جب اللہ بندے سے محبت فرماتا ہے تو اس کے تمام اعضاء (کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں) کو اپنی رضا کے مطابق چلنے کی توفیق و حفاظت عطا کرتا ہے۔
    • قبولیتِ دعا اور پناہ: اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندے کی دعائیں قبول فرماتا ہے اور پناہ مانگنے پر اسے ہر برائی اور وسوسے سے محفوظ رکھتا ہے۔
  • ۴
    باطل نظریات کی تردید اور عقیدے کی وضاحت:
    • حلول و اتحاد کی نفی: حدیث کے الفاظ (کان، آنکھ بن جانا) حلول یا اتحاد کی دلیل نہیں، کیونکہ مانگنے والا عاجز بندہ ہے اور عطا کرنے والا ربِ قدوس۔ اس سے مراد اللہ کی خصوصی مدد، توفیق اور حفاظت ہے۔
    • محبتِ الہٰی کا غلبہ: انسان کے دل میں اللہ کی محبت جتنی غالب ہوگی، اطاعت اتنی بڑھے گی؛ اس کے برعکس غیر اللہ (نفس یا دنیا) کی محبت گناہوں اور بندگی کے بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔
  • ۵
    موت کی تکلیف اور مومن کا خوف:
    • طبعی خوف: موت کی سختی و تکلیف کی وجہ سے طبعی طور پر اس سے گھبرانا یا ناپسند کرنا ایمان کے منافی نہیں۔
    • فضل و رحمت: اللہ تعالیٰ نے موت مقدر فرمائی ہے، لیکن وہ اپنے مومن بندے کی تکلیف کو ناپسند فرماتا ہے، جو اس کے فضل و رحمت کی دلیل ہے۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-37

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 37

نیکی و بدی کی کتابت، وسعتِ رحمت، نیت کی قدر اور مضاعف اجر کا بیان

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: «إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً»۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ۔

ترجمہ:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں کو لکھ دیا ہے، پھر اس کی وضاحت فرما دی ہے۔ پس جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے، لیکن اسے نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے۔ اور اگر وہ نیکی کا ارادہ کرے اور اسے کر بھی لے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے پاس دس نیکیاں لکھتا ہے، جو سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ اور جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرے لیکن اسے نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے، اور اگر برائی کا ارادہ کرکے اسے کر بھی لے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے صرف ایک برائی لکھتا ہے“۔ [صحیح البخاری وصحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اللہ تعالیٰ کی وسعتِ رحمت اور فضل:
    • رحمت کا غلبہ: نیکی پر دس سے سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ اجر ملتا ہے، جبکہ برائی پر صرف ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے غضب پر غالب ہونے کی واضح دلیل ہے ۔
    • بے پایاں خزانہ: اللہ تعالیٰ غنی اور بے نیاز ہے؛ وہ جتنا چاہے اجر بڑھا کر عطا فرمائے، اس کی بادشاہت میں کوئی کمی نہیں آتی ۔
  • ۲
    نیت اور ارادے کی قدر و قیمت:
    • سچی نیت کا اجر: نیکی کے محض سچے ارادے پر بھی ایک مکمل نیکی لکھ دی جاتی ہے، اور عمل کرنے پر اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔
    • وسوسہ بمقابلہ پختہ ارادہ: محض دل میں آنے والے غیر اختیاری خیالات یا وسوسوں پر کوئی پکڑ نہیں، جب تک کہ وہ پختہ ارادے یا عمل میں نہ بدل جائیں ۔
  • ۳
    گناہ سے اجتناب اور خوفِ الہٰی:
    • ترکِ گناہ عبادت ہے: جب انسان گناہ کی قدرت کے باوجود محض اللہ تعالیٰ کے خوف سے اسے چھوڑ دیتا ہے، تو یہ مجاہدہ بذاتِ خود ایک نیکی شمار ہوتا ہے ۔
    • توبہ اور عدل: انسان اپنے گناہ کا خود ذمہ دار ہے، تاہم سچی توبہ سے مغفرت اور فضل کی پوری امید رکھنی چاہیے ۔
  • ۴
    ایمانی و قلبی تربیت:
    • اللہ کا کامل علم اور حیا: اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن اور دل کے تمام رازوں سے باخبر ہے ۔ اس یقین سے انسان میں تقویٰ، حیا اور نگرانی کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔
    • خوف اور امید کا توازن: یہ حدیث مؤمن کے دل میں مایوسی ختم کر کے حسنِ ظن، امید اور نیکیوں میں سبقت لے جانے کا عملی جذبہ پیدا کرتی ہے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-36

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 36

پریشانیاں دور کرنے، پردہ پوشی، طلبِ علم، مجالسِ قرآن اور عمل کی فضیلت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ»۔

رَوَاهُ مُسْلِمٌ۔

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی مؤمن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی تنگ دست کے لیے آسانی پیدا کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔ اور جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستے پر چلے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس علم کے ذریعے جنت کا راستہ آسان فرما دے گا۔ اور جب کچھ لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے اور آپس میں اس کا درس و مذاکرہ کرتے ہیں تو ان پر سکون و اطمینان نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں کے درمیان ان کا ذکر فرماتا ہے۔ اور جس شخص کو اس کا عمل پیچھے رکھ دے، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    انسانوں اور مسلمانوں کے ساتھ حسنِ سلوک:
    • مدد اور آسانی: مسلمانوں کی مشکلات اور پریشانیوں کو دور کرنے یا ان میں کمی لانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے ۔
    • پردہ پوشی اور عزت کی حفاظت: مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرنا، اس کے عیوب چھپانا اور عزت و آبرو کی حفاظت کرنا ایمان کا اہم تقاضا ہے ۔
    • معاشرتی ہمدردی: مسلمان کو اپنے معاشرے کے دیگر افراد کی حاجات اور حالات سے باخبر رہ کر باہمی محبت و بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے ۔
  • ۲
    جزا اور عمل کا قانون (مکافاتِ عمل):
    • بندے کی مدد اور اللہ کی نصرت: جو شخص اپنے بھائی کی مدد، آسانیاں پیدا کرنے اور اس کی پردہ پوشی میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد فرماتا ہے اور اس کی پریشانیاں دور کرتا ہے ۔
    • فضلِ الٰہی: اللہ تعالیٰ کا بدلہ بندے کی چھوٹی سی کوشش سے کہیں زیادہ بڑا اور وسیع ہوتا ہے ۔
  • ۳
    علمِ دین کی طلب اور اہمیت:
    • جنت کا راستہ: شرعی علم حاصل کرنا اور اس کے لیے سفر یا مشقت برداشت کرنا جنت تک پہنچنے کا براہِ راست ذریعہ ہے ۔
    • علمی وسائل: طالبِ علم کو علم کے تمام ممکنہ اور مفید ذرائع اختیار کرنے چاہئیں ۔
  • ۴
    مجالسِ علم، ذکر اور قرآن کی فضیلت:
    • مساجد کا کردار: مساجد صرف نماز کے لیے نہیں بلکہ قرآن کی تلاوت، حفظ، باہمی درس و مذاکرہ اور علم و ذکر کے حلقوں کے لیے بھی آباد رہنی چاہئیں ۔
    • علمی مجالس کے برکات: ذکر اور علم کی مجالس پر سکون و اطمینان اور اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے ان کا ذکر فرماتا ہے ۔
  • ۵
    اسلام میں فضیلت کا اصل معیار:
    • تقویٰ اور عمل: کامیابی اور اللہ کے ہاں بلند مقام کا معیار نیک عمل اور تقویٰ ہے، نہ کہ محض نسب یا خاندانی شرف ۔
    • ذاتی کوشش: اگر انسان کا عمل ناقص ہو تو اس کا خاندانی نسب اسے آخرت کے نقصان سے نہیں بچا سکتا ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-34

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 34

امر بالمعروف، نہی عن المنکر کے درجات اور معاشرتی اصلاح کا بیان

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ»۔

رَوَاهُ مُسْلِمٌ۔

ترجمہ:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے، اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے (اسے روکے)، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے اسے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    انفرادی و اجتماعی ذمہ داری:
    اسلام میں ہر مسلمان اپنی طاقت کے مطابق معاشرے کی اصلاح اور برائیوں کی روک تھام کا ذمہ دار ہے ۔
  • ۲
    برائی کو روکنے کے ۳ درجات:
    ہاتھ سے (عملی قدم)، زبان سے (نصیحت و وضاحت)، اور دل سے (برا جاننا) ۔
  • ۳
    استطاعت کے مطابق مکلف ہونا:
    شریعت، انسان کو اس کی قدرت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتی؛ حالات اور اپنی طاقت کے لحاظ سے ہی متعلقہ درجہ اختیار کیا جائے گا ۔
  • ۴
    ایمان میں کمی و بیشی:
    دل سے برائی کو ناپسند کرنا ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمل اور قلبی احساس کے اعتبار سے ایمان کے درجات ہوتے ہیں ۔
  • ۵
    تحقیق اور ثبوت کی ضرورت:
    برائی پر اقدام یا تنقید معتبر علم اور مشاہدے کی بنیاد پر ہونی چاہیے، محض شک یا افواہوں کی بنیاد پر نہیں ۔
  • ۶
    حکمت اور قانون کی پاسداری:
    ہاتھ سے برائی روکنے کا اختیار خودسری یا قانون ہاتھ میں لینے کے لیے نہیں، بلکہ شرعی اصول، قانونی نظم اور مصلحت کے تابع ہے ۔
  • ۷
    زبان سے نصیحت کا طریقہ:
    زبان سے نہی عن المنکر کرتے وقت نرمی، حکمت اور مناسب اسلوب ضروری ہے؛ مقصد تحقیر نہیں بلکہ اصلاح ہے ۔
  • ۸
    بڑے فتنے سے بچاؤ:
    اگر کسی چھوٹی برائی کو روکنے سے اس سے بڑا فتنہ یا فساد پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، تو حکمت کے ساتھ اصلاح کا طریقہ بدل لینا چاہیے ۔
  • ۹
    قلبی نفرت کی اہمیت:
    کسی برائی کو دل سے بھی برا نہ سمجھنا ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے؛ کم از کم دل میں برائی سے ناگواری ضروری ہے ۔
  • ۱۰
    بے حسی اور خودسری سے بچاؤ:
    یہ حدیث مسلمان کو نہ تو معاشرتی برائیوں کے سامنے بے حس بننے دیتی ہے اور نہ ہی بے حکمت اقدام کی اجازت دیتی ہے، بلکہ حدود میں رہتے ہوئے مثبت کردار ادا کرنے کی تربیت دیتی ہے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-35

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 35

اسلامی اخوت، حقوق العباد، تقویٰ اور باہمی تعلقات کی حرمت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا. الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ. التَّقْوَى هَاهُنَا ـ وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ـ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ. كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ»۔

رَوَاهُ مُسْلِمٌ۔

ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے کی بولی بڑھانے کے لیے مصنوعی طور پر قیمت نہ بڑھاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی خریداری کے معاملے میں اس کی خریداری پر اپنی خریداری نہ کرے۔ اور اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے؛ نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے“ ــ اور آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ فرمایا ــ ”آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے“۔ [صحیح مسلم]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    اسلامی اخوت اور باہمی تعلقات:
    اسلامی معاشرہ محبت، ہمدردی اور حقیقی بھائی چارے پر قائم ہے ۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے بھائی سے محبت رکھے اور قطع تعلقی یا منہ پھیرنے سے گریز کرے ۔
  • ۲
    قلبی و معاشرتی برائیوں سے پاکیزگی:
    حسد، بغض اور عداوت سے دور رہنا ضروری ہے ۔ حسد انسان کو دوسرے کی نعمت چھن جانے کی تمنا تک لے جاتا ہے، جبکہ رشک (غبطہ) جائز ہے یعنی دوسرے کی نعمت زائل کیے بغیر اپنے لیے بھی ویسی ہی نعمت کی دعا کرنا ۔
  • ۳
    تجارت میں دیانت داری:
    خرید و فروخت میں دھوکا دہی، مصنوعی بولی لگانا (نجش)، یا کسی کی جاری خریداری میں مداخلت کر کے اس کا نقصان کرنا حرام اور اخوت کے منافی ہے ۔
  • ۴
    حقوق العباد کی پاسداری:
    کسی مسلمان پر ظلم کرنا، اس کے حقوق پامال کرنا یا مشکل اور مصیبت کے وقت اسے بے یار و مددگار چھوڑنا سخت گناہ ہے ۔
  • ۵
    جان، مال اور عزت کا احترام:
    مسلمان کی جان، مال اور عزت و آبرو شریعت میں محترم ہیں ۔ کسی کو جسمانی نقصان پہنچانا، اس کا مال ناحق لینا یا زبان اور رویے سے اس کی تذلیل و تحقیر کرنا حرام ہے ۔
  • ۶
    تقویٰ اور دل کی اصلاح:
    تقویٰ اور فضیلت کا معیار ظاہری شکل، مال یا دنیاوی عہدہ نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی ہے ۔ نبی ﷺ نے تین بار سینے کی طرف اشارہ فرما کر واضح کیا کہ باطنی اصلاح ہی سے ظاہری کردار سنورتا ہے ۔
  • ۷
    تحقیر اور تکبر کی ممانعت:
    کسی مسلمان کو غربت، کم علمی یا کمزور سماجی حیثیت کی وجہ سے حقیر سمجھنا بہت بڑا اخلاقی جرم ہے ۔ انسان کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر سمجھے ۔
  • ۸
    حقیقی دین داری کا معیار:
    ایک بہترین اور صالح اسلامی معاشرہ صرف ظاہری عبادات سے نہیں بنتا، بلکہ دلوں کی پاکیزگی، تجارتی امانت، دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اور انسانی عزت کے احترام سے وجود میں آتا ہے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-33

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 33

دعویٰ کے لیے دلیل کی ضرورت اور عدالتی اصولوں کا بیان

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى رِجَالٌ أَمْوَالَ قَوْمٍ وَدِمَاءَهُمْ، لَكِنِ الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ»۔

(حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَغَيْرُهُ)

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوے کی بنیاد پر ان کی مطلوبہ چیز دے دی جاتی تو بہت سے لوگ دوسرے لوگوں کے مال اور ان کے خون (جان) کے بارے میں دعوے کرنے لگتے؛ لیکن اصول یہ ہے کہ دعویٰ کرنے والے کے ذمے دلیل پیش کرنا ہے، اور جو شخص انکار کرے، اس کے ذمے قسم ہے“۔ [سنن بیہقی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    دعوے کے لیے دلیل لازمی ہے:
    محض الزام یا افواہ کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہو سکتا ۔ اصول یہ ہے کہ ”الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي“ (دلیل پیش کرنا مدعی یعنی الزام لگانے والے کی ذمہ داری ہے) ۔
  • ۲
    شریعت کا اصل مقصد حقوق کی حفاظت:
    ہر انسان (خصوصاً مسلمان) کی جان، مال اور عزت بنیاد کے طور پر محترم اور محفوظ ہے، جب تک اس کے خلاف کوئی معتبر ثبوت سامنے نہ آ جائے ۔
  • ۳
    عدالت اور قاضی کا طریقہ کار:
    قاضی ظاہری ثبوتوں (شہادت، دستاویزات، قرائن) کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے ۔ اگر قاضی اپنی پوری کوشش کے باوجود باطنی حقیقت نہ جان سکے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا ۔
  • ۴
    قسم کی اہمیت اور اللہ کا خوف:
    اگر مدعی کے پاس دلیل نہ ہو تو منکر (جس پر الزام ہے) کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا ۔ قسم اللہ کے نام کی تعظیم اور خوف سے وابستہ ہے، اس لیے جھوٹی قسم شدید گناہ ہے ۔
  • ۵
    عدالتی فیصلہ بمقابلہ واقعی حقیقت:
    ظاہری ثبوتوں سے دنیاوی عدالت میں حق حاصل ہو جانے کے باوجود واقعی حقیقت اللہ کے علم میں ہوتی ہے ۔ باطل طریقے یا جھوٹی قسم سے لیا گیا مال یا حق، آخرت میں عذاب کا باعث بنے گا ۔
  • ۶
    عدل و انصاف میں توازن:
    اسلامی شریعت بے لگام الزامات کی روک تھام کرتی ہے اور ساتھ ہی سچے حق دار تک اس کا حق پہنچانے کا معتبر راستہ بھی مہیا کرتی ہے ۔
  • ۷
    اجتماعی و معاشرتی زندگی میں تطبیق:
    یہ اصول صرف عدالتوں کے لیے نہیں، بلکہ گھریلو، تجارتی اور انتظامی تمام معاملات میں بھی یکساں اہم ہے ۔ کسی پر بھی الزام لگانے سے پہلے تحقیق اور ثبوت ضروری ہے ۔
  • ۸
    براءتِ ذمہ کا بنیادی اصل:
    جب تک جرم یا حق تلفی معتبر اور شرعی ثبوت سے ثابت نہ ہو، تب تک ہر شخص کو بے گناہ ہی تصور کیا جائے گا (اصل براءتِ ذمہ) ۔
  • ۹
    حکمتِ الہٰی پر مبنی احکام:
    تمام شرعی احکام و قوانین انسانی فطرت، حالات اور معاشرتی امن کی ضروتوں کے عین مطابق اور اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ہیں ۔
  • ۱۰
    اخلاقی و تربیتی پہلو:
    اس حدیث کا مقصد معاشرے میں سچائی، ثبوت کی اہمیت، ایک دوسرے کی عزت کے احترام اور اللہ کی نگرانی کا احساس پیدا کرنا ہے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-32

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 32

نقصان نہ پہنچانے، انتقامی اذیت کی ممانعت اور اہم فقہی قواعد کا بیان

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ سَعْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ»۔

(حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُمَا)

ترجمہ:

حضرت ابو سعید سعد بن مالک بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ خود کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ کسی کو نقصان پہنچانے کے بدلے نقصان پہنچاؤ“۔ [سنن ابن ماجه، سنن الدارقطنی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    شرعی اور فقہی اہمیت:
    • جامع اسلامی قاعدہ: یہ حدیث اسلامی فقہ کا عظیم ستون ہے جس کا مقصد شریعت میں مشقت، حرج اور ہر قسم کے نقصان کو دور کرنا ہے ۔
    • بنیادی فقہی اصول: اس سے اہم فقہی قواعد اخذ ہوتے ہیں، جیسے: ”الضَّرَرُ يُزَالُ“ (نقصان کو دور کیا جائے گا)، ”الضَّرَرُ لَا يُزَالُ بِالضَّرَرِ“ (ایک نقصان کو دوسرے نقصان سے دور نہیں کیا جائے گا)، اور شدید نقصان سے بچنے کے لیے کم نقصان کو برداشت کرنا ۔
    • مقاصدِ شریعت کی حفاظت: یہ اصول انسان کے پانچ بنیادی حقوق (دین، جان، عقل، نسل اور مال) کی مکمل حفاظت کرتا ہے ۔
  • ۲
    اخلاقی اور معاشرتی تربیت:
    • خود غرضی کا خاتمہ: یہ حدیث مسلمان میں ایثار، خیر خواہی اور دوسروں کے حقوق کے احترام کا جذبہ پیدا کرتی ہے ۔
    • محبت اور بھائی چارہ: نقصان دہ رویوں اور انتقامی سوچ کا خاتمہ کرکے معاشرے میں الفت اور باہمی اعتماد کو فروغ دیتی ہے ۔
  • ۳
    عملی اور روزمرہ زندگی میں اطلاق:
    • نقصان کی ہمہ گیری: اس میں ہر طرح کے جانی، مالی، نفسیاتی، اخلاقی اور معاشرتی نقصان کی ممانعت ہے، خواہ وہ قصداً ہو یا بدلے کی صورت میں ۔
    • آزادی کے حدود: اسلام میں ذاتی آزادی اور اپنے حقوق کا استعمال وہاں تک جائز ہے جہاں سے دوسرے کا حق یا امن متاثر نہ ہو ۔
    • معاملات اور تجارت: کاروبار میں دھوکا، ملاوٹ اور غبن، جبکہ ملازمت و تعلیم میں ماتحتوں، طلبہ یا کارکنان پر ظلم و بے جا سختیاں اسی قاعدے کے تحت ممنوع ہیں ۔
    • اجتماعی وسائل اور تعلقات: راستوں، عمومی وسائل، پڑوسیوں کے حقوق اور خاندانی رشتوں (زوجین، والدین، اولاد) میں ایک دوسرے کو اذیت دینے یا حق تلفی کرنے سے سخت منع کرتی ہے ۔
  • ۴
    خلاصہ:
    یہ حدیث فرد، خاندان، تجارت، تعلیم اور قانون کے ہر شعبے میں امن و انصاف قائم کرنے اور ہر طرح کے شر و اذیت کو وقوع سے پہلے اور بعد میں روکنے کی ایک جامع شرعی ضمانت ہے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-31

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 31

حقیقی زہد، اللہ کی محبت، اور لوگوں سے بے نیازی کا بیان

عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِيَ اللَّهُ وَأَحَبَّنِي النَّاسُ. فَقَالَ: «ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللَّهُ، وَازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ»۔

(رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ)

ترجمہ:

حضرت ابو العباس سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں اسے اختیار کروں تو اللہ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیازی اختیار کرو، لوگ بھی تم سے محبت کریں گے“۔ [سنن ابن ماجه]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    حقیقی زہد کا مفہوم:
    زہد سے مراد دنیا، مال یا حلال نعمتوں کو چھوڑنا نہیں، بلکہ دنیا کی محبت کو دل سے نکالنا ہے ۔ مال انسان کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، دل میں نہیں ۔
  • ۲
    اللہ کی محبت کا ذریعہ:
    دنیا سے بے رغبتی اور اخلاص اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں، جس سے انسان کو روحانی سکون اور آخرت کی فکر میسر آتی ہے ۔
  • ۳
    لوگوں کی محبت کا راز:
    لوگوں کے مال و متاع سے بے نیازی، طمع نہ رکھنا اور ان سے سوال نہ کرنا انسان کو عزت، وقار اور لوگوں کی پسندیدگی عطا کرتا ہے ۔
  • ۴
    عزتِ نفس اور خودداری:
    قناعت اور صرف اللہ پر کامل بھروسہ انسان کو لوگوں کی محتاجی، حسد اور لالچ جیسی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔
  • ۵
    حلال کسب اور زہد:
    حلال طریقے سے روزی کمانا، مال محفوظ رکھنا اور کاروبار کرنا زہد و تقویٰ کے بالکل خلاف نہیں، جیسا کہ اسوۂ رسول ﷺ سے ثابت ہے ۔
  • ۶
    فطرتِ انسانی کی حقیقت:
    انسان اپنے مال سے محبت رکھتا ہے؛ اس لیے جو شخص ان کی چیزوں کی حرص نہیں کرتا، لوگ اس سے محبت اور احترام سے پیش آتے ہیں ۔
  • ۷
    دنیا کی محبت کے نقصانات:
    دنیا کو دل پر غالب کرنا گناہوں، باہمی دشمنیوں اور اللہ کی محبت سے محرومی کا سبب بنتا ہے ۔
  • ۸
    تعلق باللہ:
    دل کا کسی نہ کسی چیز سے جڑنا لازمی ہے ۔ جب انسان دنیا کی بے جا خواہشات کو دل سے نکال دیتا ہے، تو اس کا دل اللہ کی یاد سے آباد ہو جاتا ہے ۔
  • ۹
    جوامع الکلم کی مثال:
    یہ حدیث نبی کریم ﷺ کی جامع نصائح کا بہترین نمونہ ہے، جس میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے ۔
  • ۱۰
    حاصلِ کلام:
    ایک کامل مومن وہ ہے جو دنیا سے بے رغبتی کے ذریعے اللہ کے ہاں محبوب بنے اور لوگوں سے بے نیازی کے ذریعے بندوں کے درمیان بھی پسندیدہ و محترم زندگی گزارے ۔
Categories
Arbaeen An-Nawawi (Urdu)

Arbaeen Nawawi (Urdu) – Hadees-30

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

کتاب الاربعین امام نووی رحمہ اللہ

جمع و ترتیب: ڈاکٹر پرویز أحمد مدنی

حدیث نمبر 30

شریعت کے چار بنیادی اصول، حدودِ الٰہی کی پاسداری اور اباحتِ اصلیہ کا بیان

عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ جُرْثُومِ بْنِ نَاشِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا، وَحَرَّمَ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ رَحْمَةً لَكُمْ غَيْرَ نِسْيَانٍ، فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا»۔

(حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ)

ترجمہ:

حضرت ابو ثعلبہ خشنی جرثوم بن ناشر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں، لہٰذا انہیں ضائع نہ کرو۔ کچھ حدود مقرر کی ہیں، پس ان سے تجاوز نہ کرو۔ کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، لہٰذا ان کی بے حرمتی نہ کرو۔ اور کچھ چیزوں کے بارے میں تم پر رحمت کرتے ہوئے خاموشی اختیار فرمائی ہے، یہ خاموشی بھول کی وجہ سے نہیں، لہٰذا ان کے بارے میں بلا ضرورت کھوج اور کرید نہ کیا کرو“۔ [سنن الدارقطنی]

فوائدِ حدیث:

  • ۱
    شریعت کا کمال، اعتدال اور آسانیاں:
    • مکمل اور عالمگیر دین: اسلامی شریعت ہر اعتبار سے کامل اور قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے موزوں ہے ۔
    • آسانی اور اعتدال: شریعت کا مقصد تنگی پیدا کرنا نہیں بلکہ آسانی فراہم کرنا ہے ۔ یہ دین افراط و تفریط (شدت اور لاپرواہی) سے پاک، اعتدال پر مبنی اور انسان کی طاقت کے مطابق ہے ۔
  • ۲
    حلال و حرام کا اختیار اور فتویٰ کی سنگینی:
    • حاکمیتِ الہٰی: حلال، حرام، وجوب اور حرمت کا مطلق اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے؛ عبادت کی بنیاد وحی ہے، انسانی رائے نہیں (یونس: ٥٩) ۔
    • فتویٰ کی سنگینی: بغیر علم کے اللہ کی طرف کوئی حکم منسوب کرنا سخت گناہ ہے؛ لہٰذا بلا دلیل ہر نئی چیز کو حرام قرار دینے سے بچنا چاہیے (النحل: ١١٦) ۔
  • ۳
    شریعت کے چار بنیادی اصول:
    • ارکانِ شریعت: یہ حدیث دین کے چار بنیادی ستونوں کو بیان کرتی ہے: فرائض، حدود، محرمات اور مباحات ۔
    • فرائض اور نوافل کی ترتیب: مومن کی پہلی ترجیح فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب ہے، نوافل کا درجہ اس کے بعد آتا ہے ۔
    • حدود الہٰی کی پاسداری: حدود سے تجاوز کرنا دنیا و آخرت میں تباہی کا باعث ہے، جبکہ محرمات سے بچنا ایمان کی علامت ہے ۔
  • ۴
    سکوتِ الہٰی، اباحتِ اصلیہ اور وسوسوں سے ممانعت:
    • اصل اشیاء میں اباحت: اسلامی فقہ کا عظیم اصول ”الأصل في الأشياء الإباحة“ (اشیاء میں اصل اباحت ہے) اسی سے ثابت ہوتا ہے ۔ جن چیزوں کی حرمت پر دلیل نہ ہو، وہ مباح ہیں ۔
    • فضول کھوج اور وسوسوں سے ممانعت: دین میں بے جا باریکیوں، غیر ضروری شک، تکلف اور حد سے زیادہ سوالات سے روکا گیا ہے، کیونکہ یہ بلا وجہ کی سختی کا سبب بنتے ہیں ۔
  • ۵
    اللہ تعالیٰ کی صفات، حکمت اور رحمت:
    • نسیان (بھول) سے پاک ذات: اللہ تعالیٰ ہر نقص اور بھول سے منزہ و پاک ہے (طٰہٰ: ٥٢) ۔
    • رحمت پر مبنی خاموشی: جن چیزوں کے احکام بیان نہیں کیے گئے، وہ اللہ بھولے سے نہیں بلکہ بندوں پر رحمت فرماتے ہوئے مباح رکھی گئی ہیں ۔
  • ۶
    حدیث کی علمی و عملی اہمیت:
    • علماء کی نظر میں: امام نووی، امام ابن رجب اور شیخ ابن عثیمین رحمہم اللہ کے نزدیک یہ حدیث اسلامی شریعت کے جامع ترین اصولوں میں سے ایک ہے، جو ایک مسلمان کی عملی زندگی کی کامل رہنمائی کرتی ہے ۔